Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ماسکو میں ایران، افغانستان اور بھارت کی سفارتی پیش قدمی، پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی؟ دہشت گردی کے معاملے پر طالبان کا اختلاف، خطے میں نئی صف بندیاں

ماسکو میں ایران، افغانستان اور بھارت کی سفارتی پیش قدمی، پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی؟ دہشت گردی کے معاملے پر طالبان کا اختلاف، خطے میں نئی صف بندیاں

ماسکو: روس کے دارالحکومت ماسکو میں 5 اکتوبر کو افغانستان کے مستقبل، علاقائی سلامتی، دہشت گردی اور اقتصادی تعاون پر ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات نے پاکستان کے لیے اہم سفارتی اور اسٹریجک سوالات پیدا کردیے ہیں،ان مذاکرات میں افغانستان کی طالبان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ایران، بھارت، پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے عہدیداروں نے شرکت کی،بظاہر یہ اجلاس افغانستان میں استحکام اور علاقائی تعاون کے لیے منعقد کیا گیا تھا، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دہشت گردی کے معاملے پر اختلافات نے اس کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے،سب سے اہم بات یہ ہے کہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا، کیونکہ پاکستان اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے خطرے سے متعلق زبان پر اتفاق نہیں ہوسکا،یہ اختلاف پاکستان کے لیے محض سفارتی ناکامی نہیں بلکہ خطے میں اس کے سلامتی سے متعلق مؤقف کی حمایت حاصل کرنے کے مشکل ہوتے ہوئے عمل کی نشاندہی بھی کرتا ہے
مذاکرات میں ایرانی اور افغان نمائندوں کی شرکت کو ایران اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ ملاقات قرار دینا مکمل تصویر پیش نہیں کرے گا،یہ روس کی سرپرستی میں ہونے والے ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں مشاورتی اجلاس کا حصہ تھا، جس میں متعدد علاقائی ممالک شریک تھے۔ تاہم ایران اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان بھی اجلاس کے موقع پر الگ ملاقات ہوئی،پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے صادق خان نے ایرانی وزارت خارجہ کے جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل محمد رضا بہرامی سے علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا،ایرانی حکام نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کی آمادگی بھی ظاہر کی؟اس پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران ایک طرف کابل کے ساتھ اپنے روابط کو آگے بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف اسلام آباد کے ساتھ رابطہ برقرار رکھ کر خود کو علاقائی ثالث کے طور پر بھی پیش کرنا چاہتا ہے
پاکستان کے لیے اس اجلاس کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ تھا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کے خلاف کارروائی کے معاملے پر علاقائی ممالک مشترکہ مؤقف اختیار نہیں کرسکے،پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند گروہ پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ طالبان حکومت پاکستان کے سرحد پار حملوں پر اعتراض کرتی رہی ہے،ماسکو میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے ساتھ مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی بات کی، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کے حوالے سے دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلاف برقرار رہا،اجلاس کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی واضح کیا کہ اسلام آباد سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کا حامی ہے، لیکن اس کے لیے دوسری جانب سے بھی عملی آمادگی ضروری ہے
اس صورت حال میں بھارت کا کردار بھی پاکستان کے لیے اہم ہے،ماسکو مذاکرات کے دوران بھارت نے افغانستان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی،نئی دہلی کے اس مؤقف سے طالبان حکومت کے ساتھ بھارت کے سفارتی روابط کو آگے بڑھانے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے، اگرچہ اس بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کسی مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے،پاکستان کے لیے اصل خطرہ یہ ہوسکتا ہے کہ اگر بھارت، ایران اور دوسرے علاقائی ممالک افغانستان کے ساتھ اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دیتے رہے تو اسلام آباد کا وہ اثر و رسوخ کم ہوسکتا ہے جو کئی دہائیوں سے افغانستان کے معاملے میں اس کی جغرافیائی قربت اور تجارتی راستوں کی اہمیت سے وابستہ رہا ہے،تاہم فی الحال ان ممالک کے درمیان کسی باقاعدہ پاکستان مخالف اتحاد کے قیام کا ثبوت سامنے نہیں آیا
ایران کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تجارتی روابط بھی پاکستان کے لیے طویل مدتی اہمیت رکھتے ہیں،پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور تجارت میں رکاوٹیں افغانستان کو متبادل راستوں اور علاقائی شراکت داروں کی تلاش پر مجبور کرسکتی ہیں؟ایران اپنی بندرگاہوں، خصوصاً چاہ بہار، اور زمینی رابطوں کے ذریعے افغانستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟حالیہ رپورٹنگ کے مطابق تہران کابل کے ساتھ اقتصادی تعاون اور رابطہ کاری کو وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے،اگر یہ کوششیں آگے بڑھتی ہیں تو پاکستان کو افغانستان کے لیے تجارتی راہداری، ٹرانزٹ فیس، برآمدات اور علاقائی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے مقابلے کا سامنا ہوسکتا ہے،تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ افغانستان فوری طور پر پاکستانی راستوں کا متبادل اختیار کرسکتا ہے، کیونکہ اس کے لیے بنیادی ڈھانچے، لاگت اور تجارتی سہولتوں سے متعلق عملی رکاوٹیں موجود ہیں
اس تناظر میں روس کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،ماسکو نے 2025 میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور اب وہ افغانستان کے معاملے میں اپنی علاقائی حیثیت مستحکم کرنے کی کوشش کررہا ہے،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے طالبان حکومت کے ساتھ تعاون اور دہشت گردی و منشیات کی روک تھام کے حوالے سے اس کی کوششوں کو سراہا،روس نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مدد دینے کو تیار ہے، بشرطیکہ دونوں فریق اس کے لیے آمادہ ہوں،پاکستان کے لیے اس صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ اسے افغانستان کے معاملے میں صرف کابل کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر انحصار کرنے کے بجائے ماسکو، بیجنگ، تہران اور دوسرے علاقائی دارالحکومتوں میں بھی اپنا سفارتی مؤقف مضبوط کرنا ہوگا
مجموعی طور پر ماسکو مذاکرات سے پاکستان کو فوری طور پر کسی نئے فوجی یا اقتصادی نقصان کا سامنا ہونے کا ثبوت نہیں ملا، لیکن تین بڑے خطرات واضح ہوتے ہیں،پہلا، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مطالبات پر علاقائی اتفاق رائے پیدا نہ ہونا،دوسرا، افغانستان کے ساتھ ایران اور بھارت کے بڑھتے ہوئے سیاسی و اقتصادی روابط سے پاکستان کے روایتی اثر و رسوخ اور تجارتی اہمیت کو چیلنج ملنا؛ اور تیسرا، روس کی جانب سے طالبان حکومت کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون، جس سے کابل کو متبادل سفارتی راستے میسر آسکتے ہیں،اس کے باوجود ایران کی ثالثی کی پیشکش اور روس کی کشیدگی کم کرنے کی آمادگی پاکستان کے لیے سفارتی مواقع بھی فراہم کرتی ہے،اسلام آباد کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ ان روابط کو اپنے خلاف علاقائی صف بندی میں تبدیل ہونے سے روک سکے اور ساتھ ہی افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرے کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کے لیے مؤثر سفارتی حمایت حاصل کرے

قومی خبریں سے مزید