خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت کی جگہ 11 رکنی کونسل؟ وفاقی کنٹرول، گورنر راج اور بااثر خاندانوں کے ارکان کی تفصیلات
اسلام آباد : خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے انتظامی اختیارات کی منتقلی نے کئی اہم آئینی اور سیاسی سوالات کھڑے کردیے ہیں،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق صوبائی حکومت ختم ہوچکی ہے اور گورنر کے ماتحت 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کردی گئی ہے، جو صوبے کے مختلف محکموں کے معاملات میں معاونت کرے گی،اس اقدام کے نتیجے میں صوبے میں منتخب حکومت کے بجائے ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے ذریعے معاملات چلانے کی تیاری کی گئی ہے
اس معاملے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے،آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 ایمرجنسی سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت ایسی صورت میں اقدامات کیے جاسکتے ہیں جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہ چلائی جاسکے،گورنر راج کے تحت صدر صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں یا گورنر کو ان کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں،اس صورت میں گورنر صوبے کے انتظامی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے، جبکہ وفاقی حکومت آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہدایات دے سکتی ہے،تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فیصلہ لازماً اسلام آباد میں ہوگا یا گورنر کے پاس کوئی اختیار نہیں رہے گا
ابھی یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں ایمرجنسی اور باقی اضلاع میں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے،اس کی حتمی وضاحت صدارتی اعلامیے اور متعلقہ نوٹیفکیشن کی مکمل عبارت سے ہی ہوسکتی ہے،اسی طرح 11 رکنی کونسل کے ارکان کو محض مشاورتی ذمہ داریاں دی گئی ہیں یا انہیں مختلف محکموں کے انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، اس کا تعین ان کی تقرری کے نوٹیفکیشن سے ہوگا
کونسل میں شامل بعض شخصیات کے خاندانی اور سیاسی پس منظر بھی قابل توجہ ہیں،ثمر ہارون بلور کا تعلق خیبر پختونخوا کے معروف بلور سیاسی خاندان سے ہے،وہ ہارون بلور کی بیوہ اور اے این پی کے سابق رہنما اور صوبائی وزیر بشیر احمد بلور کی بہو ہیں،ان کے والد عرفان اللہ خان مروت سندھ کے سابق سیاست دان ہیں،اس طرح ان کا تعلق دو معروف سیاسی خاندانوں سے جڑتا ہے
عثمان سیف اللہ خان کا تعلق لکی مروت کے معروف سیف اللہ سیاسی خاندان سے ہے،اس خاندان میں سلیم سیف اللہ خان اور انور سیف اللہ خان سمیت متعدد شخصیات سیاست میں سرگرم رہی ہیں،عثمان سیف اللہ خان خود بھی سینیٹر رہ چکے ہیں،ان کی شمولیت اس لحاظ سے اہم ہے کہ سیف اللہ خاندان خیبر پختونخوا کی سیاست میں طویل عرصے سے اثر و رسوخ رکھتا ہے
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر کا پس منظر سیاسی خاندان کے بجائے فوجی اور طبی خدمات سے وابستہ ہے،ان کے والد عبدالقادر فوج میں کرنل تھے،نگار جوہر پاکستان آرمی میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچنے والی پہلی خاتون ہیں،انہیں کونسل میں صحت کے شعبے کی ذمہ داری دی گئی ہے
طارق محمود پاشا ایک سینئر سرکاری افسر اور سابق چیئرمین ایف بی آر رہ چکے ہیں،انہیں خزانے کے شعبے کی ذمہ داری دی گئی ہے،ان کے کسی معروف سیاسی خاندان سے تعلق کی قابل اعتماد تصدیق دستیاب نہیں،اسی طرح عامر جاوید کو قانون، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کو تعلیم، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کو کان کنی و معدنیات، ڈاکٹر محمد ارشاد کو صنعت و تجارت، آصف رفیق آفریدی کو مواصلات و تعمیرات، طیب قریشی کو مذہبی امور اور کفایت اللہ خان کو مشاورتی کونسل میں شامل کیا گیا ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات سے ان سات شخصیات کے خاندانی پس منظر کی مکمل اور قابل اعتماد تصدیق نہیں ہوسکی
اس فیصلے کا بنیادی سیاسی سوال یہ ہے کہ منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات کس حد تک واپس لے کر ایک غیر منتخب کونسل اور گورنر کے ذریعے منتقل کیے جارہے ہیں،اگر کونسل کے ارکان کو محض مشاورت کے بجائے محکموں کے عملی انتظامی فیصلوں کا اختیار بھی دیا جاتا ہے تو یہ صوبے کے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی ہوگی،تاہم اس تبدیلی کی قانونی حدود، اسمبلی کے اختیارات اور وفاق کے براہ راست کردار کا حتمی تعین صدارتی اعلامیے اور متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مکمل متن سے ہی کیا جاسکتا ہے





