Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کا بینکوں کے خلاف بڑا قدم، کریڈٹ کارڈ کے اس قانون کی حمایت جس سے اربوں ڈالر کی آمدنی خطرے میں پڑ سکتی ہے

ٹرمپ کا بینکوں کے خلاف بڑا قدم، کریڈٹ کارڈ کے اس قانون کی حمایت جس سے اربوں ڈالر کی آمدنی خطرے میں پڑ سکتی ہے

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کریڈٹ کارڈ کی صنعت میں مسابقت بڑھانے کے لیے ایسی قانون سازی کی حمایت کر دی ہے جس سے بڑے بینکوں اور ویزا اور ماسٹرکارڈ جیسی کمپنیوں کے کاروباری مفادات متاثر ہو سکتے ہیں،وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، اس مجوزہ قانون کا مقصد دکانداروں کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی وصول کرتے وقت اپنی پسند کا ادائیگی نیٹ ورک منتخب کر سکیں،اس تبدیلی سے بینکوں کی فیسوں سے ہونے والی آمدنی اور صارفین کو دیے جانے والے انعامات کے پروگرام دباؤ میں آ سکتے ہیں
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، اس قانون کی حمایت کرنے والوں میں ٹرمپ کے علاوہ نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کی سیاسی ٹیم کے اہم ارکان بھی شامل ہیں،کریڈٹ کارڈ مسابقتی قانون کے نام سے معروف یہ بل طویل عرصے سے زیر التوا ہے،اسے 2022 میں سینیٹر ڈک ڈربن اور ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل نے متعارف کرایا تھا،جے ڈی وینس نے بھی سینیٹر ہونے کے زمانے میں اس کی حمایت کی تھی
اس قانون کا مرکزی مقصد کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیوں کے نظام میں ویزا اور ماسٹرکارڈ کے غلبے کو محدود کرنا اور تاجروں کے لیے متبادل نیٹ ورکس کے استعمال کا راستہ کھولنا ہے،اس وقت دکانداروں کو کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی وصول کرنے پر بینکوں اور ادائیگی کے نظام سے وابستہ کمپنیوں کو فیس ادا کرنا پڑتی ہے،مجوزہ قانون کے تحت بڑے کارڈ جاری کرنے والے اداروں کو کم از کم دو ادائیگی نیٹ ورکس کی سہولت فراہم کرنا ہوگی، تاکہ تاجر کم فیس والے نیٹ ورک کا انتخاب کر سکیں
قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ادائیگیوں کی پروسیسنگ میں مقابلہ بڑھنے سے دکانداروں کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں،کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کی فیس ان کے لیے ایک بڑا خرچ ہے اور اس میں کمی سے انہیں صارفین کے لیے قیمتیں کم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے
دوسری جانب بینکنگ انڈسٹری کو خدشہ ہے کہ اس قانون سے ان کی آمدنی متاثر ہوگی اور کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والوں کو ملنے والے انعامات، کیش بیک اور دیگر مراعات کے پروگرام کمزور پڑ سکتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ بینک اور مالیاتی ادارے اس قانون سازی کی مخالفت کرتے رہے ہیں،ان کے نزدیک ادائیگی کے نظام میں تبدیلی کے اثرات صرف کمپنیوں کے منافع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صارفین کو فراہم کی جانے والی سہولتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں
بینکوں کی تشویش کی ایک وجہ ماضی کا تجربہ بھی ہے،ڈیبٹ کارڈ کی فیسوں پر پہلے کی گئی قانونی پابندیوں کے بعد مالیاتی اداروں نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ ایسی مداخلت ان کے کاروباری ماڈل اور صارفین کو دی جانے والی مراعات کو متاثر کر سکتی ہے،اب کریڈٹ کارڈ کی فیسوں کے معاملے پر بھی بینکوں اور تاجروں کے درمیان یہی اختلاف ایک نئی سیاسی بحث بن گیا ہے
ٹرمپ کی حمایت نے اس بل کو نئی سیاسی اہمیت دی ہے، تاہم اس کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ قانون منظور ہو چکا ہے،اس کی منظوری کے لیے کانگریس میں قانون سازی کا عمل مکمل ہونا باقی ہے،مالیاتی صنعت میں اس کے ممکنہ اثرات کے باعث بینکوں اور کاروباری تنظیموں کی لابنگ بھی تیز ہونے کا امکان ہے
یہ معاملہ امریکی معیشت میں ایک بڑے سوال کو سامنے لاتا ہے،کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کتنا حصہ مالیاتی اداروں کے پاس رہے اور تاجروں کو فیسوں میں کمی کا کتنا فائدہ ملے؟ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس سے ادائیگیوں کے نظام میں مقابلے کی نوعیت بدل سکتی ہے،لیکن صارفین کو حقیقی فائدہ کس حد تک پہنچے گا اور ان کے انعامات کے پروگراموں پر کیا اثر پڑے گا، اس کا انحصار قانون کی حتمی شکل اور اس پر عمل درآمد کے طریقے پر ہوگا

قومی خبریں سے مزید