تحریک آزادی کی تاریخ دہرانے کا الزام، نیہا بورا کا اعلان: گرفتاریاں بھی 10 اکتوبر کے احتجاج کو نہیں روک سکتیں
نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر اور طلبہ رہنما نیہا بورا نے الزام عائد کیا ہے کہ جنتر منتر پر 10 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، گھروں میں نظر بندیاں اور مظاہرین کی نقل و حرکت محدود کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں،انہوں نے 1942 کی تحریکِ آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح برطانوی حکومت نے آزادی کی تحریک کو دبانے کے لیے رہنماؤں کو گرفتار کیا تھا، اسی طرح آج بھی احتجاجی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
ویڈیو پیغام میں نیہا بورا نے دعویٰ کیا کہ پولیس احتجاج کے منتظمین کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے، دہلی آنے والی ٹرینوں کو روکا جا رہا ہے اور مظاہرے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کو راستے میں حراست میں لیا جا رہا ہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور سکیورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی کے ذریعے لوگوں کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، انہیوں نے دعویٰ کیا حکومت نے ملک کے باون ریلوے اسٹیشن ہی بند کردئیے ہیں
نیہا بورا نے 1942 کی تحریکِ ہندوستان چھوڑ دو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہنماؤں کی گرفتاری اس وقت بھی تحریک کو ختم نہیں کر سکی تھی اور اب بھی گرفتاریاں احتجاج کو روک نہیں سکیں گی،انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ اگر انہیں ٹرین، بس یا کسی دوسری گاڑی سے اتار کر آگے جانے سے روکا جائے تو وہ وہیں پُرامن دھرنا دیں اور اپنے مطالبات کے لیے آواز بلند کریں
ان کے مطابق، احتجاج کا بنیادی مقصد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے متنازعہ عمل کو واپس لینے کا مطالبہ ہے،ناقدین کا الزام ہے کہ خصوصی نظرثانی کے عمل سے بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں، جبکہ انتخابی حکام اس عمل کو انتخابی فہرستوں کی درستگی کی کوشش قرار دیتے ہیں
نیہا بورا کا پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 10 اکتوبر کے احتجاج سے قبل دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور مختلف سیاسی و طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت نہ ملنے اور پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرین کو روکنے کے اقدامات کیے ہیں
نیہا بورا نے واضح کیا کہ منتظمین کی گرفتاری کی صورت میں بھی احتجاج ختم نہیں ہونا چاہیے اور شرکا کو اپنے مطالبات کے لیے پُرامن طور پر آواز اٹھاتے رہنا چاہیئے





