جنوبی افریقی نژاد قانون دان ناوی پلّے کو امن کا نوبیل ناوی پلّے کو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں 2026 کا امن کا نوبیل انعام دیا گیا ہے
ناوی پلّے جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئیں اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ رہ چکی ہیں،ان کے پیشہ ورانہ سفر میں نیلسن منڈیلا کے قید کے زمانے میں ان کے حقوق کا دفاع کرنے سے لے کر بین الاقوامی عدالتوں میں خدمات انجام دینے تک کئی اہم مراحل شامل ہیں
غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کی سربراہی بھی ان کے نمایاں کاموں میں شامل ہے،اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے،اسرائیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کمیشن کے نتائج کو مسترد کیا ہے
خبر کے مطابق، نوبیل انعام کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر نئی وسیع پابندیاں عائد کیں،امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ عدالت سیاسی طور پر جانبدار ہو چکی ہے اور امریکیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کی کوشش کر رہی ہے





