Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جارجیا میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار کو انتخابی سروے میں دھچکا، ڈیموکریٹ جون اوسوف کو 8 پوائنٹس کی برتری، مباحثے میں نسل پرستی اور مہنگائی پر سخت ٹکراؤ

جارجیا میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار کو انتخابی سروے میں دھچکا، ڈیموکریٹ جون اوسوف کو 8 پوائنٹس کی برتری، مباحثے میں نسل پرستی اور مہنگائی پر سخت ٹکراؤ

امریکی ریاست جارجیا میں سینیٹ کی اہم نشست کے لیے ڈیموکریٹ سینیٹر جون اوسوف اور ریپبلکن امیدوار مائیک کولنز کے درمیان پہلے انتخابی مباحثے میں مہنگائی، صحت کی سہولتوں، امیگریشن اور نسل پرستی کے الزامات پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ کولنز نے اوسوف کو انتہا پسند قرار دیا، جبکہ اوسوف نے اپنے حریف پر نسل پرستانہ خیالات رکھنے والے افراد سے روابط کے الزامات اٹھائے،انتخابی سروے بھی اس مقابلے کو قومی توجہ کا مرکز بنا رہے ہیں، کیونکہ تازہ دستیاب اعداد و شمار میں اوسوف کو برتری حاصل ہے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، اٹلانٹا میں ہونے والا تقریباً ایک گھنٹے کا مباحثہ 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے دونوں امیدواروں کا پہلا براہ راست مقابلہ تھا،دونوں نے ایک دوسرے کے سیاسی ریکارڈ اور جماعتی وابستگیوں کو نشانہ بنایا،کولنز نے اوسوف پر ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کی حمایت کرنے کا الزام لگایا، جبکہ اوسوف نے ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی اور امیگریشن پالیسیوں کو جارجیا کے شہریوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا
270 ٹو ون کی جانب سے مرتب کردہ پانچ حالیہ سروے کے اوسط کے مطابق، اوسوف کو 51 فیصد جبکہ کولنز کو 43.4 فیصد حمایت حاصل ہے،اس طرح اوسوف کی برتری تقریباً 7.6 پوائنٹس بنتی ہے
4 اکتوبر کو شائع ہونے والے ویج ووڈ پولز کے سروے میں اوسوف 55 فیصد اور کولنز 45 فیصد پر تھے،انسائیڈر ایڈوانٹیج کے 25 ستمبر کے سروے میں اوسوف کو 50 فیصد اور کولنز کو 42 فیصد حمایت حاصل تھی،یوگوو کے ستمبر کے سروے میں بھی اوسوف 52 فیصد اور کولنز 42 فیصد پر رہے،اس سے پہلے 18 ستمبر کو کوانٹس انسائٹس کے سروے میں اوسوف کو 49 فیصد اور کولنز کو 45 فیصد حمایت ملی تھی
یہ اعداد و شمار اوسوف کی انتخابی برتری ظاہر کرتے ہیں، تاہم سروے حتمی نتیجے کی ضمانت نہیں ہوتے،مختلف اداروں کے نمونے، سروے کے طریقے اور ووٹروں کی رائے میں تبدیلی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے،3 نومبر کے انتخابات سے پہلے ابھی انتخابی مہم جاری ہے اور دونوں امیدواروں کو ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مزید وقت ملے گا
نسل پرستی کے الزامات پر تلخ جملوں کا تبادلہ
مباحثے میں اوسوف نے کولنز پر ایسے افراد سے روابط رکھنے کا الزام لگایا جن کے بارے میں نسل پرستانہ یا نازی نظریات کی حمایت کرنے والی آن لائن سرگرمیوں کی رپورٹس سامنے آئی تھیں،واشنگٹن پوسٹ نے اگست میں کولنز کے ایک سابق ملازم کی جانب سے سوشل میڈیا پر نازی علامت اور کو کلاکس کلان کے لباس سے متعلق تصاویر شیئر کیے جانے کی رپورٹ دی تھی،سی این این نے جولائی میں کولنز کے داماد کی جانب سے نازی علامات پر مبنی مواد شیئر کرنے کی خبر دی تھی
اوسوف نے ان واقعات کو کولنز کے سیاسی فیصلوں سے جوڑتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی،کولنز نے جواب میں کہا کہ وہ نسل پرستی، یہود دشمنی اور نفرت کی مذمت کرتے ہیں،انہوں نے اوسوف کو انتہا پسند قرار دیا اور ان کی جانب سے ترقی پسند ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت پر اعتراض کیا
معیشت بھی مباحثے کا بڑا موضوع رہی،اوسوف نے ٹرمپ انتظامیہ کے محصولات اور ایران جنگ کو ایندھن، خوراک اور زرعی اخراجات میں اضافے سے جوڑا،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ڈیزل کی قیمت میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے اور گائے کے گوشت اور کافی کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں،
کولنز نے ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس میں چھوٹ اور کاروباری سرمایہ کاری کے لیے مراعات معیشت کے لیے فائدہ مند ہیں،انہوں نے مہنگائی کی ذمہ داری سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں پر بھی عائد کی،دونوں امیدواروں کے درمیان یہ اختلاف اس وسیع تر بحث کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی ووٹروں کو درپیش بڑھتے ہوئے اخراجات کا ذمہ دار کون ہے
اوسوف نے کولنز پر الزام لگایا کہ انہوں نے ٹرمپ کے بڑے بجٹ بل کی حمایت کرکے میڈیکیڈ میں کٹوتیوں کی راہ ہموار کی، جس سے کم آمدنی والے خاندانوں اور دیہی اسپتالوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے،کولنز نے اس کے جواب میں کہا کہ اس قانون میں دیہی اسپتالوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں اور انہوں نے صحت کے نظام کے مسائل کی ذمہ داری ڈیموکریٹس کی پالیسیوں پر ڈالی
امیگریشن کے معاملے میں بھی دونوں کے مؤقف مختلف رہے،کولنز نے سخت امیگریشن پالیسیوں کا دفاع کیا، جبکہ اوسوف نے امیگریشن حکام کی بعض کارروائیوں پر سوال اٹھائے اور کہا کہ غیر مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے
جارجیا کی نشست قومی سطح پر اس لیے اہم ہے کہ سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے درمیان طاقت کا توازن آئندہ قانون سازی اور ٹرمپ انتظامیہ کے ایجنڈے پر اثر انداز ہو سکتا ہے،کولنز کو ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، جبکہ اوسوف اپنی انتخابی مہم میں انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں، صحت کے اخراجات اور امیگریشن کارروائیوں کو مرکزی موضوع بنا رہے ہیں
مباحثے کے بعد انتخابی مقابلے کی توجہ صرف امیدواروں کے بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ سروے کے اعداد و شمار بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں،فی الحال دستیاب سروے اوسوف کو برتری دکھاتے ہیں، لیکن یہ طے نہیں کرتے کہ انتخابی نتیجہ کیا ہوگا،اصل فیصلہ 3 نومبر کو ووٹروں کے انتخاب سے ہوگا

قومی خبریں سے مزید