Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی سفارت خانے کی اسرائیل پر تنقیدی رپورٹیں روکنے کا الزام، ہکابی کے قریبی مشیر پر سفارتی معلومات کا رخ بدلنے کا دعویٰ

امریکی سفارت خانے کی اسرائیل پر تنقیدی رپورٹیں روکنے کا الزام، ہکابی کے قریبی مشیر پر سفارتی معلومات کا رخ بدلنے کا دعویٰ

امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی کے ایک اعلیٰ مشیر ڈیوڈ ملستین پر الزام ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی امریکی سفارت خانے کی رپورٹیں روکیں، ان میں تبدیلیاں کیں یا انہیں تاخیر سے واشنگٹن بھیجا، تاکہ اسرائیلی حکومت کو امریکی حکام کی تنقید سے بچایا جا سکے،نیویارک ٹائمز کی تحقیق پر مبنی ایک رپورٹ نے امریکی سفارتی نظام میں سیاسی اثر و رسوخ، معلومات کی شفافیت اور اسرائیل کے بارے میں واشنگٹن کو دی جانے والی رپورٹس کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھا دیے ہیں
دی ہل اور نیویارک ٹائمز کے مطابق، ملستین اپریل 2025 سے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے میں ہکابی کے سینئر مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں،نیویارک ٹائمز نے 15 امریکی اہلکاروں سے گفتگو اور درجنوں داخلی مراسلوں، یادداشتوں اور دیگر دستاویزات کے جائزے کی بنیاد پر بتایا کہ ملستین نے مبینہ طور پر ایسی سفارتی رپورٹنگ میں مداخلت کی جو اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں، مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد سے متعلق تھی
رپورٹ کے مطابق، مارچ کے اواخر میں اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک ہی مرحلے میں غیر معمولی تعداد میں نئی یہودی بستیوں کی منظوری دی،امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں نے اس اقدام کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس واضح پالیسی سے ممکنہ انحراف سمجھا جس کے تحت مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی مخالفت کی گئی تھی،سفارت کاروں نے اس معاملے پر واشنگٹن کے پالیسی سازوں کے لیے فوری یادداشت تیار کی، لیکن تین امریکی اہلکاروں کے مطابق ملستین نے اسے آگے بھیجنے سے روک دیا
نیویارک ٹائمز کی تحقیق میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کے دوران امریکی سفارت کاروں نے ایسی رپورٹ تیار کی تھی جس میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے تشدد روکنے کے لیے ناکافی کارروائی پر تشویش ظاہر کی گئی تھی،تاہم، رپورٹ کے مطابق، اس کے بجائے واشنگٹن کو ایسا سفارتی پیغام بھیجا گیا جس میں اسرائیل کی جانب سے تشدد کے خلاف کارروائی کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا،ان واقعات کے بارے میں بات کرنے والے اہلکاروں نے کہا کہ انہیں تشویش تھی کہ امریکی حکام کو اسرائیل کی صورت حال کی درست تصویر نہیں مل رہی
یہ معاملہ صرف مغربی کنارے تک محدود نہیں رہا،رپورٹ کے مطابق، غزہ میں انسانی بحران کے دوران بھی امریکی سفارت کاروں نے امداد کی رسائی روکنے کے اسرائیلی فیصلے کے بعد بگڑتے حالات پر تشویش کا اظہار کرنے والی سفارتی یادداشت تیار کی تھی،ملستین پر الزام ہے کہ انہوں نے اس کے بجائے ایک الگ مراسلہ آگے بڑھایا جس میں امریکی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے کردار کو زیادہ مثبت انداز میں پیش کیا گیا،اس فاؤنڈیشن کو غزہ میں امداد کی تقسیم کے متبادل نظام کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا
رپورٹ میں فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات سے متعلق سفارتی معلومات پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں،نیویارک ٹائمز کے مطابق، مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں یا سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں چار برس کے دوران 9 فلسطینی نژاد امریکی شہریوں کی ہلاکتوں کی تحقیقات پر ایک تفصیلی رپورٹ روکنے کا الزام بھی ملستین پر عائد کیا گیا،امریکی اہلکاروں کے مطابق، اس کے بجائے اسرائیلی حکام کی تحقیقات کو مناسب قرار دینے والا پیغام بھیجنے کی تجویز دی گئی تھی
اس معاملے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکی سفیر ہکابی کو اپنے مشیر کی مبینہ مداخلتوں کا کس حد تک علم تھا،ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، بعض اہلکاروں نے کہا کہ ہکابی نے کبھی ملستین کے ساتھ سفارتی رپورٹوں کو محدود یا ان کا رخ بدلنے پر کام کیا، لیکن بعض مواقع پر انہیں حد سے تجاوز کرنے سے بھی روکا،تاہم، یہ واضح نہیں کہ ان مداخلتوں کا وائٹ ہاؤس کی پالیسی پر کتنا اثر پڑا
ہکابی نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے جواب میں الزامات کی سختی سے تردید کی،انہوں نے کہا کہ اخبار کی رپورٹ حقائق سے خالی ہے اور انہوں نے اس کے مجوزہ مواد کو قطعی طور پر مسترد کیا،امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر کہا کہ اس کے اہلکار صدر ٹرمپ کے ’’امریکا فرسٹ‘‘ ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں،ملستین کی جانب سے ان مخصوص الزامات پر کوئی الگ تفصیلی جواب فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں تھا
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان غزہ کی جنگ کے بعد کے انتظامات، تعمیر نو اور مغربی کنارے میں آبادکاری کے معاملے پر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں،اس پس منظر میں امریکی سفارت خانے کی رپورٹنگ کی غیر جانب داری کا سوال خاص اہمیت اختیار کرتا ہے، کیونکہ واشنگٹن کے پالیسی ساز مشرق وسطیٰ کے بارے میں فیصلے کرتے وقت اپنے سفارت کاروں کی زمینی معلومات پر انحصار کرتے ہیں
اگر سفارتی مراسلوں کو سیاسی ترجیحات کے مطابق روکا یا تبدیل کیا گیا ہو تو اس سے امریکی حکومت کو موصول ہونے والی معلومات اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں کے درمیان تعلق متاثر ہو سکتا ہے،تاہم، ملستین کے خلاف الزامات ابھی صحافتی تحقیق میں سامنے آنے والے دعوے ہیں، کسی عدالتی فیصلے یا سرکاری تحقیقات کے حتمی نتائج نہیں،مائیک ہکابی کی تردید بھی اس تنازعہ کا اہم حصہ ہے

قومی خبریں سے مزید