Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 110,513 تک پہنچ گئی، 75 فیصد مقدمات کے فیصلوں کے منتظر

پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 110,513 تک پہنچ گئی، 75 فیصد مقدمات کے فیصلوں کے منتظر

پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی موجود ہیں، جبکہ ہر 4 قیدیوں میں سے تقریباً 3 ایسے ہیں جن کے مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، 9 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی سالانہ جیل رپورٹ میں ملک کے نظام انصاف میں مقدمات کی تاخیر، ضمانت کے مسائل اور جیلوں میں حد سے زیادہ بھیڑ کو نمایاں کیا
گیا ہے
پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی تعداد 110,513 ہو گئی ہے، جبکہ ملک کی تمام جیلوں میں مجموعی گنجائش صرف 68,832 قیدیوں کی ہے اس طرح جیلوں میں گنجائش سے 41,681 زیادہ افراد رکھے گئے ہیں اور جیلوں کا نظام اپنی مقررہ گنجائش کے 160 فیصد سے بھی زیادہ پر چل رہا ہے
سالانہ جیل ڈیٹا رپورٹ 2026 کے مطابق، زیر سماعت قیدیوں کی تعداد 82,988 ہے، جو جیلوں میں موجود مجموعی قیدیوں کا 75 فیصد بنتی ہے ان افراد کے مقدمات ابھی عدالتوں میں زیر التوا ہیں اور انہیں حتمی عدالتی فیصلے کا انتظار ہے زیر سماعت قیدیوں کی تعداد ملک کی تمام جیلوں کی مجموعی منظور شدہ گنجائش سے بھی 14,156 زیادہ ہے
رپورٹ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے یورپی یونین کے تعاون سے تیار کی ہے۔ اسے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران جاری کیا گیا رپورٹ میں جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں، مقدمات میں تاخیر، ضمانت کے مسائل، منشیات سے متعلق جرائم اور قید کے متبادل طریقوں کا جائزہ لیا گیا ہے
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا کے مطابق، پاکستان کا مسئلہ صرف جیلوں میں جگہ کی کمی نہیں بلکہ فوجداری نظام انصاف کا وسیع تر بحران ہے ان کا کہنا تھا کہ لوگ جیلوں میں اس رفتار سے داخل ہو رہے ہیں جس رفتار سے نظام انصاف ان کے مقدمات نمٹا نہیں پا رہا انہوں نے طویل حراست، مقدمات میں تاخیر، ضمانت حاصل کرنے میں رکاوٹوں اور قید کے متبادل طریقوں کے محدود استعمال پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا
رپورٹ میں منشیات سے متعلق جرائم کو بھی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھنے کی ایک اہم وجہ قرار دیا گیا ہے منشیات کے کنٹرول سے متعلق قانون کے تحت 28,000 سے زیادہ افراد جیلوں میں بند ہیں، جو مجموعی قیدیوں کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بنتے ہیں۔ 2023 کے مقابلے میں منشیات سے متعلق قوانین کے تحت قید افراد کی تعداد میں 43 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے
صوبوں کی صورت حال میں بھی نمایاں فرق موجود ہے پنجاب اور سندھ میں قیدیوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے اور وہاں جیلوں میں شدید گنجائش کا بحران برقرار ہے اس کے برعکس خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قیدیوں کی تعداد کم ہوئی ہے اور دونوں صوبے مجموعی طور پر اپنی منظور شدہ گنجائش کے اندر ہیں رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پیرول، پروبیشن اور قید کے متبادل اقدامات کے نسبتاً زیادہ استعمال نے قیدیوں کی تعداد کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے
خواتین اور بچوں کی صورت حال بھی تشویش ناک ہے رپورٹ کے مطابق، 2024 کے بعد جیلوں میں خواتین کی تعداد میں 45.96 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ جیلوں میں موجود بچوں میں سے 86.2 فیصد زیر سماعت ہیں یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عدالتی کارروائی میں تاخیر کا مسئلہ صرف بالغ مرد قیدیوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین اور کم عمر افراد بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں
رپورٹ میں ایک مثبت پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی تعداد کم ہو کر 3,220 رہ گئی ہے، جو 2024 کے مقابلے میں 11.7 فیصد کم ہے تاہم مجموعی طور پر جیلوں میں حد سے زیادہ بھیڑ اور زیر سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد نظام انصاف میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے
جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال نے زور دیا کہ جیلوں سے متعلق اعداد و شمار کو اصلاحات کی رہنمائی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں غیر ضروری حراست کم کرنے، ضمانت کے نظام میں بہتری، مقدمات جلد نمٹانے، جیل کے بجائے متبادل سزاؤں کے استعمال اور جیلوں کی نگرانی مضبوط بنانے کی سفارش کی گئی ہے
پاکستان میں زیر سماعت افراد کی اتنی بڑی تعداد اس سوال کو اہم بناتی ہے کہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے اور ضمانت کا نظام تمام شہریوں کے لیے مؤثر طور پر کیوں کام نہیں کر رہا جب کسی شخص کو جرم ثابت ہونے سے پہلے طویل عرصے تک جیل میں رہنا پڑتا ہے تو اس کی ملازمت، آمدنی، خاندان اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو سکتی ہے غریب خاندانوں کے لیے وکیل کی فیس، عدالتی اخراجات اور ضمانتی رقم کا انتظام کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے
جیلوں میں گنجائش بڑھانے کے لیے نئی عمارتیں تعمیر کرنا ایک ممکنہ اقدام ہو سکتا ہے، لیکن اس سے مقدمات کی تاخیر اور غیر ضروری حراست جیسے بنیادی مسائل خود بخود حل نہیں ہوں گے اس کے لیے پولیس کی تفتیش، استغاثہ، عدالتی کارروائی اور ضمانت کے طریقہ کار میں بہتری ضروری ہے معمولی نوعیت کے جرائم میں قانون کے مطابق متبادل سزاؤں، پروبیشن اور پیرول کا زیادہ مؤثر استعمال بھی جیلوں پر دباؤ کم کر سکتا ہے
رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انصاف کا مؤثر نظام صرف مجرموں کو سزا دینے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس میں ملزم کے منصفانہ مقدمے، بروقت فیصلے اور انسانی حقوق کا تحفظ بھی شامل ہے اگر مقدمات جلد نمٹائے جائیں، غیر ضروری حراست کم ہو اور جیلوں کی نگرانی بہتر بنائی جائے تو قیدیوں کی بھیڑ کم کرنے کے ساتھ نظام انصاف پر عوام کا اعتماد بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید