Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کراچی سے یورپ کی بڑی بندرگاہوں تک براہ راست بحری سروس بحال، پاکستانی برآمد کنندگان کو ریلیف ملنے کی امید

کراچی سے یورپ کی بڑی بندرگاہوں تک براہ راست بحری سروس بحال، پاکستانی برآمد کنندگان کو ریلیف ملنے کی امید

پاکستان اور یورپ کے درمیان براہ راست بحری رابطہ بحال کر دیا گیا ہے، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو سامان کی ترسیل میں تاخیر اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعرات کو بتایا کہ بحری جہاز چلانے والی بین الاقوامی کمپنی میڈیٹیرینین شپنگ کمپنی نے برآمد کنندگان کے مطالبے پر اپنی پریمیم آئی پاک سروس دوبارہ شروع کر دی ہے
اس سروس کے تحت کراچی گیٹ وے ٹرمینل انٹرنیشنل پر ہر ہفتے جہاز لنگر انداز ہوں گے، جہاں سے سامان سری لنکا کی بندرگاہ کولمبو کے راستے یورپ کی اہم بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا۔ ان مقامات میں فیلکس اسٹو، روٹرڈیم، ہیمبرگ، بریمرہیون، اینٹورپ، لی ہاورے اور لندن گیٹ وے شامل ہیں
بحیرہ احمر کی صورت حال اور بین الاقوامی بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان کو طویل سفری راستے اختیار کرنا پڑ رہے تھے اس کے نتیجے میں سامان کی ترسیل کا وقت بڑھ گیا تھا اور مال برداری کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا تھا خاص طور پر ٹیکسٹائل کی صنعت متاثر ہوئی، کیونکہ اس شعبے کا انحصار یورپ اور امریکا کی منڈیوں تک بروقت سامان پہنچانے پر ہے
وفاقی وزیر کے مطابق، ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان نے حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ جہازوں کے طویل راستوں اور ترسیل میں تاخیر سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مسابقت متاثر ہو رہی ہے براہ راست بحری سروس کی بحالی سے برآمد کنندگان کو سامان بھیجنے کے لیے مزید سہولت ملے گی اور ترسیل کے انتظامات بہتر بنانے میں مدد ملے گی
وزیر نے واضح کیا کہ اس سروس کی بحالی کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی بحری تجارت کو درپیش تمام مسائل حل ہو گئے ہیں بین الاقوامی راستوں میں رکاوٹیں بدستور موجود ہیں اور حکومت شپنگ کمپنیوں اور برآمد کنندگان کے ساتھ مل کر ان مسائل کے حل پر کام جاری رکھے گی
دوسری جانب کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین نے بندرگاہ پر سامان کی کلیئرنس تیز کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں ان میں 24 گھنٹے الیکٹرانک ڈیلیوری آرڈرز کا اجرا، خطرے کی بنیاد پر سامان کی جانچ، جدید اسکیننگ، مختلف متعلقہ اداروں کے مشترکہ معائنے اور نمونوں کی مشترکہ جانچ شامل ہیں
ان اقدامات کا مقصد بندرگاہ پر غیر ضروری تاخیر اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے ٹرمینل چلانے والی کمپنیوں نے رات کے وقت بھی معائنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ پاکستان کسٹمز سے چوبیس گھنٹے کام کرنے کے انتظامات میں تعاون کی درخواست کی گئی ہے
پاکستان کی برآمدات کے لیے بحری نقل و حمل کی اہمیت بہت زیادہ ہے، کیونکہ سامان کی ترسیل کے اخراجات اور وقت میں اضافہ مقامی صنعتوں کی پیداواری لاگت اور عالمی منڈیوں میں مقابلے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے براہ راست بحری سروس کی بحالی ایک مثبت سہولت ہے، تاہم برآمدات میں مستقل اضافے کے لیے بندرگاہوں کی کارکردگی، کسٹمز کے طریقہ کار، صنعتی پیداوار اور تجارتی پالیسیوں میں بھی بہتری ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید