اسپین میں 87 سالہ خاتون کی بے دخلی اور موت پر 20 ہزار افراد سڑکوں پر نکل آئے، رہائشی بحران سیاسی بحران بن گیا
اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ہزاروں افراد نے 87 سالہ ماریا ڈیل کارمن اباسکال کی یاد میں احتجاجی مارچ کیا، جن کی رہائش گاہ سے بے دخلی نے ملک بھر میں رہائشی بحران کے خلاف مظاہروں کو جنم دیا تھا، جمعرات کی شام ہونے والے اس مارچ میں تقریباً 20 ہزار افراد شریک ہوئے،مظاہرین کے غصے کا مرکز مکانوں کے بڑھتے ہوئے کرائے، سرمایہ کاری کمپنیوں کا کردار اور عام شہریوں کے لیے رہائش کا حصول مشکل ہونے کا مسئلہ تھا
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، اباسکال کو ان کی رہائش گاہ سے بے دخل کیے جانے کا واقعہ ان کی موت سے تقریباً دو ہفتے قبل پیش آیا تھا،ان کے فلیٹ کو ایک سرمایہ کاری کمپنی نے خرید لیا تھا، جس نے ان کا کرایہ 230 فیصد بڑھانے کی کوشش کی،اس معاملے نے 87 سالہ خاتون کو اسپین میں رہائشی بحران کے خلاف عوامی احتجاج کی علامت بنا دیا،اباسکال بدھ کی رات اسپتال میں انتقال کر گئیں
ان کی بے دخلی کے بعد اسپین کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی لہریں اٹھیں،میڈرڈ کے مرکزی علاقے میں مظاہرین نے احتجاجی کیمپ بھی قائم کیا، جبکہ رہائش کے مسئلے پر عوامی دباؤ بڑھنے کے بعد سوشلسٹ قیادت والی حکومت نے کرائے کے نظام کو زیادہ منصفانہ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات تجویز کیے
تاہم، گزشتہ ہفتے دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں نے ان اقدامات کو مسترد کر دیا،جس کے بعد وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کیا ہے ، جو 29 نومبر کو منعقد ہونے ہیں،یوں رہائش کا مسئلہ محض معاشی اور سماجی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ اسپین کی قومی سیاست میں بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے
اباسکال کی موت کے بعد ہونے والا مارچ اس بات کی علامت ہے کہ اسپین میں مکانوں کے کرایوں اور بے دخلی کے معاملات پر عوامی غصہ کس قدر بڑھ چکا ہے،ایک عمر رسیدہ خاتون کی رہائش چھن جانے کا واقعہ ایسے ملک میں بڑے احتجاج کا سبب بنا ہے جہاں شہریوں کے لیے قابل برداشت کرائے پر گھر حاصل کرنا ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے
اس واقعے نے حکومت اور سیاسی جماعتوں کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے،کیا رہائش کو صرف سرمایہ کاری اور منافع کے کاروبار کے طور پر دیکھا جائے گا، یا کم آمدنی والے اور عمر رسیدہ شہریوں کے لیے محفوظ اور قابل برداشت گھر کی فراہمی کو بھی ترجیح دی جائے گی؟ 29 نومبر کے انتخابات میں یہ تنازعہ سیاسی بحث کا اہم موضوع بن سکتا ہے





