Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جنوبی افریقہ میں تارکین وطن کے خلاف احتجاج پرتشدد، دکانوں میں لوٹ مار اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی

جنوبی افریقہ میں تارکین وطن کے خلاف احتجاج پرتشدد، دکانوں میں لوٹ مار اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی

جنوبی افریقہ کے دو شہروں میں تارکین وطن کے خلاف احتجاج جمعرات کو پرتشدد واقعات میں تبدیل ہوگیا،جوہانسبرگ کے علاقے سوویٹو میں ایک دکان سے سامان لوٹ لیا گیا، جبکہ ساحلی شہر ڈربن میں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور غیر ملکی شہریوں کی ملکیت والی دکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا،جنوبی افریقی حکومت نے تشدد کا ذمہ دار پناہ کے متلاشی افراد سے متعلق عدالتی فیصلے کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات کو قرار دیا ہے
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ڈربن کے مرکزی شہری علاقے میں اس کے رپورٹر نے 5 جلی ہوئی گاڑیاں دیکھیں،وہاں غیر ملکی شہریوں کی ملکیت والی دکانوں میں لوٹ مار کی اطلاعات بھی سامنے آئیں،احتجاج کا آغاز ایسے مظاہرین کی سرگرمیوں کے بعد ہوا جو ایک پناہ گزین مرکز سے پناہ کی درخواستوں پر کارروائی روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے
جوہانسبرگ کے علاقے سوویٹو میں رائٹرز کے رپورٹر نے مقامی افراد کو ایک دکان سے گروسری کا سامان لے جاتے دیکھا،مظاہرین کا دعویٰ تھا کہ دکان کا مالک صومالی شہری ہے، جسے وہ علاقے سے بھگا چکے تھے،پولیس کی آمد اور منتشر ہونے کے حکم کے بعد لوٹ مار کرنے والے افراد وہاں سے چلے گئے
جنوبی افریقی حکومت کے ترجمان ولیم بالوئی نے کہا کہ تشدد کی ایک وجہ آئینی عدالت کے جولائی میں دیے گئے فیصلے کے بارے میں جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلانا ہے،ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے قرار دیا تھا کہ پناہ کے متلاشی افراد کو محض طریقۂ کار سے متعلق وجوہات کی بنا پر جنوبی افریقہ کے پناہ کے نظام تک رسائی سے محروم نہیں کیا جا سکتا،اس میں غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونا بھی شامل ہے
بالوئی کے مطابق، اس فیصلے کی غلط تشریح کی گئی ہے،انہوں نے واضح کیا کہ فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ غیر دستاویزی تارکین وطن کو خودکار طور پر پناہ گزین کا درجہ، مستقل رہائش یا دیگر قانونی حقوق مل جاتے ہیں،حکومت نے تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بارے میں غلط معلومات لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں
یہ واقعات جنوبی افریقہ میں تارکین وطن کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت اور پناہ کے نظام پر جاری بحث کے تناظر میں سامنے آئے ہیں،تازہ احتجاج میں غیر ملکی شہریوں کی دکانوں کو نشانہ بنائے جانے اور املاک کو نقصان پہنچنے سے یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کے بارے میں غلط معلومات کس طرح مقامی کشیدگی کو تشدد میں بدل سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید