غزہ کے بچوں کی کلاسوں میں مصنوعی ذہانت سے نگرانی کا امریکی منصوبہ، نفرت انگیز گفتگو کی نشاندہی پر تنازع
امریکا سے تعلق رکھنے والا ایک خیراتی ادارہ غزہ میں اپنے تعلیمی مراکز کے اندر اساتذہ اور طلبہ کی گفتگو ریکارڈ کرنے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسے بیانات کی نشاندہی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جنہیں نفرت انگیز یا اشتعال انگیز قرار دیا جائے،تاہم، جنگ سے تباہ حال غزہ میں اس منصوبے نے رازداری، بچوں کی حفاظت، اخلاقی حدود اور نگرانی کی ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، غزہ چلڈرن ولیج نامی خیراتی ادارے کے بانی نے گزشتہ ماہ ایک آن لائن اجلاس میں اس منصوبے کی تفصیلات بیان کیں،ادارے کو خدشہ ہے کہ اس کے اسکولوں میں اساتذہ ایسے نصاب سے انحراف کر سکتے ہیں جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ امن، برداشت اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے،اسی خدشے کے پیش نظر کلاس رومز کی گفتگو ریکارڈ کرنے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے قابل اعتراض سمجھے جانے والے بیانات کی نشان دہی کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے
اس منصوبے پر فلسطینی حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض گروپوں، سماجی کارکنوں اور خیراتی ادارے کے کم از کم ایک شراکت دار نے تحفظات ظاہر کیے ہیں،ناقدین کے نزدیک بنیادی سوال یہ ہے کہ کلاس روم میں بچوں اور اساتذہ کی گفتگو کون ریکارڈ کرے گا، اسے کس معیار کے تحت نفرت انگیز یا اشتعال انگیز قرار دیا جائے گا اور اس بات کی ضمانت کیسے دی جائے گی کہ نگرانی سے حاصل ہونے والی معلومات کا غلط استعمال نہیں ہوگا
غزہ میں ان خدشات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ علاقے نے تقریباً تین برس کی جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر تباہی اور عدم تحفظ کا سامنا کیا ہے،اسرائیلی فوج بھی نگرانی اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کرتی رہی ہے، جن کے ذریعے روکے گئے مواصلاتی پیغامات کا تجزیہ کرکے مشتبہ گفتگو کی نشاندہی اور حملوں کے لیے اہداف کی شناخت کی جاتی رہی ہے،ایسے ماحول میں تعلیمی اداروں کے اندر گفتگو ریکارڈ کرنے کا خیال مزید حساس بن جاتا ہے
رپورٹ کے مطابق، فی الحال کوئی اشارہ نہیں ملا کہ خیراتی ادارہ کلاس رومز کی ریکارڈنگ کسی دوسرے فریق کے ساتھ شیئر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،تاہم، صرف ریکارڈنگ تک رسائی، معلومات محفوظ رکھنے کے طریقے اور مصنوعی ذہانت کے فیصلوں کی درستگی بھی اہم سوالات ہیں،اگر کسی گفتگو کو سیاق و سباق سے الگ کرکے جانچا جائے تو سیاسی، تاریخی یا سماجی معاملات پر اظہار رائے کو غلط طور پر نفرت انگیز قرار دیے جانے کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے
فلسطینی حقوق کے بعض ادارے خیراتی ادارے کے تعلیمی منصوبے پر وسیع تر اعتراضات بھی اٹھاتے ہیں،ان کے مطابق، غزہ میں تعلیم سے متعلق اس کے اقدامات مقامی اداروں اور اقوام متحدہ کے ان اداروں کے سامنے جواب دہ نہیں جو طویل عرصے سے علاقے کے تعلیمی نظام کا انتظام کرتے آئے ہیں،جنگ کے بعد غزہ میں تعلیم کا اختیار کس کے پاس ہوگا، یہ ان متعدد معاملات میں شامل ہے جن پر ابھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا
اس منصوبے کے آغاز کا وقت بھی واضح نہیں ہے،تاہم، اس بحث نے ایک بنیادی سوال کو نمایاں کر دیا ہے،کیا امن اور برداشت کی تعلیم کے نام پر بچوں کی گفتگو کی مسلسل نگرانی قابل قبول ہے، اور اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون سے الفاظ نفرت یا اشتعال انگیزی کے زمرے میں آتے ہیں؟ غزہ جیسے جنگ زدہ علاقے میں یہ معاملہ محض تعلیمی نظم و ضبط کا نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ، اظہار رائے اور نگرانی کے اختیارات کی حدود کا بھی ہے





