سوشل میڈیا کی متنازع فیشن اسٹار، کروڑوں ڈالر کا کاروبار اور شہرت کے ساتھ جڑے تنازعات
امریکی فیشن انفلوئنسر ڈینیئل برنسٹین نے سوشل میڈیا کو صرف لباس اور فیشن کی نمائش کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے کروڑوں ڈالر کے کاروبار میں تبدیل کر دیا،تاہم، ان کی غیر معمولی کامیابی کے ساتھ ڈیزائن کی مبینہ نقل، تصاویر میں تبدیلی اور نجی زندگی کو کاروباری تشہیر کا حصہ بنانے جیسے تنازعات بھی جڑے رہے ہیں،اب وہ اپنی ساکھ بہتر بنانے اور اپنے برانڈ کو نئی سمت دینے کی کوشش کر رہی ہیں
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، 34 سالہ برنسٹین نے 2011 میں فیشن بلاگنگ کا آغاز کیا تھا،اس وقت وہ فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں طالبہ تھیں،وقت کے ساتھ ان کی سوشل میڈیا موجودگی ایک بڑے تجارتی پلیٹ فارم میں بدل گئی، جہاں وہ اپنے پہنے ہوئے ملبوسات کی تشہیر کرتی ہیں اور ان کی خریداری کے لنکس کے ذریعے کمیشن بھی حاصل کرتی ہیں،برنسٹین کے مطابق، انہوں نے 2025 میں برانڈز کے ساتھ معاہدوں اور خریداری کے کمیشن سے 28 لاکھ ڈالر کمائے
ان کے کاروباری اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض برانڈز انہیں تشہیری مہمات کے لیے سالانہ ڈھائی لاکھ ڈالر تک ادا کرتے ہیں،رپورٹ میں ایک کاروباری خاتون کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برنسٹین کی تشہیر سے ہونے والی فروخت بعض اوقات ان کی تشہیری فیس سے دوگنی ہو جاتی ہے،اس طرح وہ ان سوشل میڈیا شخصیات میں شامل ہو گئی ہیں جن کی مقبولیت براہ راست مصنوعات کی فروخت پر اثر انداز ہوتی ہے
لیکن یہی شہرت ان کے لیے مسلسل تنقید کا سبب بھی بنی،ان کے فیشن برانڈ ’’وی وئیر واٹ‘‘ پر دوسرے ڈیزائنرز کے کام سے مشابہت رکھنے والے ڈیزائن پیش کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں،2020 میں لنجری برانڈ ’’دی گریٹ ایروس‘‘ نے بھی ان کے برانڈ کے خلاف ڈیزائن کی نقل سے متعلق قانونی کارروائی کی تھی،یہ تنازعہ 2022 میں ایک خفیہ تصفیے کے بعد ختم ہو گیا،برنسٹین نے وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ جب ان کے ڈیزائنوں کی دوسرے برانڈز سے مشابہت پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے ابتدا میں تنقید کو سننے کے بجائے دفاعی رویہ اختیار کیا،اب ان کا کہنا ہے کہ بعض ڈیزائن تیار ہی نہیں ہونے چاہییں تھے
ان کی ذاتی زندگی بھی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی،گزشتہ سال اکتوبر میں منعقد ہونے والی ان کی منگنی کی تقریب ایک بڑی شادی جیسی تقریب تھی، جس میں مہمانوں کے لباس سے متعلق خریداری کے لنکس بھی شیئر کیے گئے،ان لنکس سے خریداری کرنے پر انہیں کمیشن مل سکتا تھا، جبکہ بعض برانڈز نے تقریب کے لیے مفت ملبوسات اور جوتے فراہم کیے تھے؟بعد میں ان کی منگنی ختم ہونے پر بھی انٹرنیٹ پر قیاس آرائیاں اور تنقید جاری رہی،برنسٹین نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں احساس دلایا کہ انہیں اپنی نجی زندگی کے ہر پہلو کو سوشل میڈیا مواد میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے
برنسٹین نے ماضی میں اپنی انسٹاگرام تصاویر میں جسمانی ساخت کو پتلا دکھانے کے لیے تبدیلیاں کرنے کا اعتراف بھی کیا،ان کے مطابق، وہ اس وقت اپنی ظاہری شکل کے بارے میں عدم اعتماد کا شکار تھیں، تاہم اب وہ کہتی ہیں کہ ان کا رویہ بدل چکا ہے
اب وہ اپنے برانڈ ’’وی وئیر واٹ‘‘ کی نئی تشکیل پر کام کر رہی ہیں،نئے لائسنسنگ شراکت دار کے تحت برانڈ میں نسبتاً مہنگے ملبوسات، بہتر معیار کے کپڑے اور ڈیزائنوں کے لیے فیشن شوز اور پرانے ملبوسات سے حاصل ہونے والی تحریک کی وضاحت شامل کرنے کا منصوبہ ہے،برنسٹین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے تنازعات پر بھی ایک تحریر میں بات کریں گی اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہتی ہیں
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ ایک ایسے کاروباری ماڈل کی تصویر پیش کرتی ہے جس میں سوشل میڈیا پر شہرت براہ راست آمدنی میں تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن اسی پلیٹ فارم پر عوامی نگرانی اور تنقید بھی مسلسل ساتھ چلتی ہے،برنسٹین کی کوشش اب یہ ہے کہ وہ اپنی تجارتی کامیابی برقرار رکھتے ہوئے ماضی کے تنازعات سے آگے بڑھیں اور اپنے برانڈ کے بارے میں اعتماد بحال کر سکیں





