آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کا معاہدہ، مگر غربت اور معاشی کمزوری بدستور بڑا چیلنج
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے
درمیان قرض پروگرام کے جائزوں پر عملے کی سطح کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملنے کی راہ ہموار ہوگی۔ تاہم معاشی استحکام کے حکومتی دعووں کے باوجود مہنگائی، غربت، کمزور برآمدات اور فی کس آمدنی میں محدود اضافے جیسے مسائل برقرار ہیں
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت مالیاتی اہداف پورے کرنے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے آئی ایم ایف کے وفد نے اسلام آباد میں تقریباً 2 ہفتے مذاکرات کیے اور پاکستان کے معاشی حالات کا جائزہ لینے کے ساتھ 2026 کے آرٹیکل 4 مشاورتی عمل کو بھی مکمل کیا معاہدے کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری کرنے کے لیے اب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہوگی
یہ رقم پاکستان کے جاری قرض پروگرام کے چوتھے ادائیگیوں کے توازن سے متعلق جائزے اور تیسرے موسمیاتی مالی معاونت کے جائزے سے منسلک ہے اس مرتبہ مذاکرات میں زیادہ ہنگامہ آرائی نہیں ہوئی، کیونکہ بجٹ کے اہم معاملات پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا موجودہ بجٹ میں مجموعی ملکی پیداوار کے 2 فیصد کے برابر بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس پر عمل درآمد آئی ایم ایف کی اہم شرائط میں شامل ہے
آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے مالیاتی اہداف پورے کرنے اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے معاشی اثرات سے نمٹنے کی کوششوں کو سراہا ہے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں، جبکہ مہنگائی مئی کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں کم ہوئی ہے تاہم ستمبر میں مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد رہی، جو اسٹیٹ بینک کے درمیانی مدت کے ہدف سے اب بھی خاصی زیادہ ہے
پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار بھی آبادی میں اضافے کے مقابلے میں محدود دکھائی دیتی ہے گزشتہ سال معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہی، جبکہ آبادی تقریباً 2 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے اس فرق کے باعث مجموعی معاشی ترقی کے باوجود عام شہری کی فی کس آمدنی اور معیار زندگی میں نمایاں بہتری لانا مشکل ہو رہا ہے
غربت کی صورت حال مزید تشویش ناک ہے عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق 2025 میں پاکستان کی تقریباً 42.4 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے تھی معاشی ترقی کی کم رفتار کے باعث صرف ایک سال میں مزید 19 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی استحکام کے اقدامات کے باوجود معاشی ترقی کے ثمرات عام لوگوں تک مناسب انداز میں نہیں پہنچ رہے
پاکستان کی بیرونی تجارت بھی دباؤ کا شکار ہے گزشتہ سال اشیا کی برآمدات تقریباً 6 فیصد کم ہو کر 30.1 ارب ڈالر رہ گئیں، جن میں ٹیکسٹائل کی برآمدات کا حصہ 17.9 ارب ڈالر تھا اس کے برعکس درآمدات 8 فیصد بڑھ کر 69.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کے نتیجے میں اشیا کی تجارت کا خسارہ بڑھ کر 39.6 ارب ڈالر ہو گیا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کی برآمدات نے مجموعی برآمدات کو تقریباً 40 ارب ڈالر کے قریب رکھنے میں مدد دی، لیکن یہ اضافہ صنعتی پیداوار اور اشیا کی برآمدات میں کمزوری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا
آئی ایم ایف نے حکومت کو ایندھن پر دی جانے والی عمومی سبسڈی بتدریج ختم کرنے کی سفارش کی ہے فنڈ کے مطابق اس نوعیت کی معاونت مہنگی پڑتی ہے اور اکثر ان افراد تک بھی پہنچ جاتی ہے جنہیں اس کی حقیقی ضرورت نہیں ہوتی تاہم ایسی سبسڈی ختم کرنا سیاسی اور سماجی طور پر مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نقل و حمل، اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی لاگت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کو دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے بروقت نرخوں میں ردوبدل، درمیانی مدت کی ٹیکس حکمت عملی، بجلی کی تقسیم کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت، سرکاری اداروں کی حکمرانی بہتر بنانے اور نجکاری کے عمل میں پیش رفت کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے
یہ سفارشات پاکستان کے لیے نئی نہیں ہیں گزشتہ جائزوں میں بھی ان معاملات پر توجہ دینے کا کہا جاتا رہا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بار بار کیے جانے والے وعدوں کے باوجود عملی تبدیلی کتنی آئی ہے مالیاتی اہداف پورے کرنا اور قرض کی قسط حاصل کرنا اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اس سے خودبخود روزگار میں اضافہ، غربت میں کمی یا برآمدات میں مستقل بہتری یقینی نہیں ہو جاتی
پاکستان کو ایسی معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو صرف بجٹ کا خسارہ کم کرنے اور قرض پروگرام کی شرائط پوری کرنے تک محدود نہ ہو صنعتی پیداوار میں اضافہ، برآمدات کے لیے نئی منڈیاں، کاروبار کے لیے قابل پیش گوئی پالیسیاں، ٹیکس نظام میں بہتری اور عام شہریوں پر مہنگائی کے بوجھ کو کم کرنا بھی ضروری ہے
آئی ایم ایف سے ملنے والی 1.2 ارب ڈالر کی رقم فوری مالی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن ملک کے بنیادی معاشی مسائل کا حل طویل مدتی اصلاحات اور تیز رفتار، روزگار پیدا کرنے والی ترقی میں ہے اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب معاشی استحکام کے اثرات عام خاندانوں کی آمدنی، روزگار اور معیار زندگی میں بھی نظر آئیں





