نیویارک میں آئی سی ای اہلکار کی فائرنگ، ڈومینیکن شہری زخمی، گاڑی میں پانچ سالہ بچہ بھی موجود تھا، ممدانی کا ٹرمپ سے کارروائیاں روکنے کا مطالبہ
نیویارک:نیویارک کے علاقے ماربل ہِل میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک اہلکار نے امیگریشن کارروائی کے دوران ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کر دیا،امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق زخمی شخص ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والا تارکِ وطن تھا اور وفاقی اہلکار اسے امیگریشن کارروائی کے سلسلے میں نشانہ بنا رہے تھے
گوتھامسٹ کی رپورٹ کے مطابق واقعہ جمعرات کی سہ پہر تقریباً چار بجے پیش آیا،نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق شام 5 بج کر 24 منٹ تک زخمی شخص ہوش میں تھا اور قریبی اسپتال میں اس کا علاج جاری تھا،محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد آئی سی ای اہلکاروں نے زخمی شخص کو طبی امداد فراہم کی
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے کہا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وفاقی اہلکاروں نے فائرنگ سے قبل اس شخص کی گاڑی کو گھیرے میں لے لیا تھا، جس میں پانچ سالہ بچہ بھی موجود تھا،ممدانی کے مطابق بچے کو جسمانی طور پر نقصان نہ پہنچنے کی اطلاعات تھیں
ممدانی نے واقعے کو انتہائی سنگین اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے اور ان سے گفتگو کے دوران نیویارک شہر میں آئی سی ای کی تمام کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کریں گے
یہ واقعہ نیویارک میں وفاقی امیگریشن کارروائیوں اور مقامی حکومت کے اختیارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے،ممدانی پہلے بھی امیگریشن پالیسی اور وفاقی نفاذ کے طریقۂ کار پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں،تاہم، اس واقعے میں فائرنگ کی وجہ ،اہلکار کے اقدام کی ضرورت اور ممکنہ قانونی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا
واقعے سے متعلق اب تک سامنے آنے والی معلومات ابتدائی سرکاری بیانات پر مبنی ہیں،زخمی شخص کی شناخت، فائرنگ سے پہلے پیش آنے والے واقعات اور آیا اہلکار نے قواعد کے مطابق طاقت استعمال کی یا نہیں، ان امور پر مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں





