کارنی کا ایلون مسک کو دوٹوک جواب، کینیڈا کا مستقبل غیر ملکی ٹیک کمپنیوں کے ہاتھ میں نہیں
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ارب پتی امریکی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک کی جانب سے کیوبیک، البرٹا اور سسکیچیوان کی کینیڈا سے علیحدگی کی حمایت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کینیڈین عوام خود کریں گے، نہ کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ کینیڈا کو بتا سکتی ہیں کہ اسے کیا کرنا چاہیے
کارنی نے جمعرات کو کیوبیک کے شہر شیربروک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کا مستقبل ملک کے شہریوں اور ان کی ترجیحات کے مطابق طے ہوگا۔ انہوں نے خاص طور پر کیوبیک کے عوام کی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے مستقبل سے متعلق بحث غیر ملکی حکومتوں اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مداخلت سے آزاد ہونی چاہیے
ایلون مسک نے 7 اکتوبر کو اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کیوبیک کی کینیڈا سے علیحدگی کی حمایت کی تھی انہوں نے کہا کہ کیوبیک کو الگ ملک بن جانا چاہیے اور البرٹا اور سسکیچیوان بھی کینیڈا سے علیحدگی اختیار کرکے بہتر پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ مسک کے اس بیان پر دونوں مغربی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی اعتراض کیا
سسکیچیوان کے وزیر اعلیٰ اسکاٹ مو نے مسک کی تجویز کے جواب میں مختصر الفاظ میں کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ مو اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ خود کو کینیڈین سمجھتے ہیں، تاہم اگر صوبے کے شہری علیحدگی کے معاملے پر عوامی رائے شماری کا مطالبہ کریں تو وہ اسے روکنے کے حق میں نہیں ہوں گے
البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے بھی مسک کی رائے سے واضح اختلاف کیا ہے اسمتھ کا کہنا ہے کہ وہ البرٹا کے کینیڈا میں رہنے کے حق میں ووٹ دیں گی ان کے مطابق وفاقی حکومت کے رویے میں تبدیلی اور البرٹا کے مسائل پر بات چیت کے لیے آمادگی کے باعث صوبے میں علیحدگی کی حمایت میں کمی آئی ہے
البرٹا میں 19 اکتوبر کو اس معاملے پر ووٹنگ ہونے والی ہے کہ صوبہ کینیڈا کا حصہ برقرار رہے یا علیحدگی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اور پابند رائے شماری کی جائے۔ اس معاملے نے وفاقی حکومت اور البرٹا کے درمیان تعلقات کو ایک بار پھر قومی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے
دوسری جانب کیوبیک میں حالیہ صوبائی انتخابات کے نتیجے میں علیحدگی کی حامی جماعت پارتی کیبیکوا نے اقلیتی حکومت تشکیل دینے کا موقع حاصل کیا ہے تاہم جماعت کے رہنما پال سینٹ پیئر پلامونڈون نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں رہنے تک وہ کینیڈا سے علیحدگی کے لیے رائے شماری نہیں کرائیں گے۔
کارنی کی وفاقی حکومت کیوبیک کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے اور صوبے کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے حکومت کا مؤقف ہے کہ وفاقی تعاون کے ذریعے کیوبیک کی معیشت مضبوط بنائی جاسکتی ہے اور ملک کے اندر اتحاد برقرار رکھا جاسکتا ہے
اس تنازعے کا ایک اقتصادی پہلو بھی ہے کارنی حکومت نے حال ہی میں ٹیلی سیٹ کے ساتھ 2.3 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت فوج کے لیے زمین سے کم بلندی پر مدار میں گردش کرنے والے مصنوعی سیاروں کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی اس منصوبے سے مستقبل میں ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک کو تجارتی سطح پر مقابلہ ملنے کا امکان ہے، جو اس وقت مصنوعی سیاروں کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرنے والی نمایاں عالمی کمپنی ہے
مسک کے بیان اور کارنی کے جواب نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کینیڈا کے صوبوں کے سیاسی مستقبل پر بیرونی ارب پتی شخصیات اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بیانات کس حد تک اثر انداز ہوسکتے ہیں کارنی نے واضح کیا ہے کہ کینیڈا کی وحدت اور مستقبل سے متعلق فیصلوں کا اختیار کینیڈین عوام کے پاس ہونا چاہیے، جبکہ البرٹا اور سسکیچیوان کی قیادت نے بھی مسک کی علیحدگی کی تجویز کو مسترد کردیا ہے





