امریکی طاقت کا حیران کن الٹ پھیر، خلیج سے برطانیہ تک فوجی اڈے خطرے میں، ٹرمپ کی جنگ نے واشنگٹن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا
واشنگٹن: ایران کے خلاف شروع کی گئی وہ جنگ جس کا مقصد امریکی فوجی طاقت کی بے مثال رسائی اور واشنگٹن کی عالمی بالادستی کا مظاہرہ کرنا تھا، اب خود امریکہ کے لیے ایک مختلف اسٹریٹیجک حقیقت سامنے لا رہی ہے،نیویارک ٹائمز کے تازہ تجزیے کے مطابق امریکی فوج کو خلیج سے برطانیہ تک اپنے بعض اہم فوجی اثاثے خطرے والے مقامات سے پیچھے ہٹانے پڑ رہے ہیں، جس سے یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا کم لاگت والے ڈرون، میزائل اور غیر روایتی جنگی حربے ایک سپر پاور کی فوجی منصوبہ بندی کو تبدیل کر سکتے ہیں؟
اس تبدیلی کی سب سے نمایاں مثال برطانیہ کا رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اڈہ ہے، جہاں سے 12 امریکی B-1 بمبار طیاروں کو گزشتہ ہفتے واپس بلا لیا گیا،یہ وہی اڈہ ہے جو 1944 سے امریکہ اور برطانیہ کے فوجی تعاون میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے،امریکی حکام کے مطابق اڈے کے قریب ایران سے منسلک عناصر کی جانب سے ممکنہ ڈرون حملے کی اطلاعات کے بعد طیاروں کی واپسی کا فیصلہ کیا گیا
لیکن معاملہ صرف 12 بمبار طیاروں کا نہیں،نیویارک ٹائمز کے مطابق خلیج میں امریکی فوجی موجودگی بھی مسلسل دباؤ میں ہے،بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون خطرات کا سامنا ہے، جس کے باعث واشنگٹن کو اپنے اہلکاروں اور فوجی اثاثوں کی تعیناتی کے طریقے پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے
یہ صورتحال امریکی فوجی حکمت عملی کے ایک بنیادی اصول کو متاثر کرتی ہے،کئی دہائیوں سے واشنگٹن نے خلیج میں فوجی اڈوں، فضائی طاقت اور بحری موجودگی کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں فوری کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھی،اب اگر انہی اڈوں کو محفوظ رکھنے کے لیے امریکی فوج کو اپنے اہم اثاثے زیادہ دور منتقل کرنا پڑیں تو طاقت برقرار رہنے کے باوجود اس طاقت کو استعمال کرنے کی قیمت اور وقت دونوں بڑھ جاتے ہیں
یہی اس جنگ کا سب سے اہم جیوپولیٹیکل تضاد ہے،امریکہ کے پاس اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت، طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار، جدید میزائل اور عالمی سطح پر فوجی لاجسٹکس کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے،لیکن دوسری طرف ایران جیسے حریف کے نسبتاً کم لاگت والے ڈرون اور میزائل ایسے خطرات پیدا کر سکتے ہیں جن سے بچنے کے لیے امریکہ کو کہیں زیادہ مہنگے دفاعی انتظامات اور فوجی نقل و حرکت کرنا پڑتی ہے
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ B-1 بمبار امریکہ کے اندر موجود اڈوں سے بھی طویل فاصلے کے مشن انجام دے سکتے ہیں، اس لیے فیئر فورڈ سے ان کی واپسی کو امریکی فوجی طاقت کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے،تاہم مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جتنا اپنے فوجی اثاثوں کو جنگی علاقے سے دور لے جاتا ہے، اتنی ہی اس کی فوری رسپانس صلاحیت، ایندھن، پرواز کے وقت اور لاجسٹک انتظامات کی ضرورت بڑھتی ہے
اس کا اثر صرف ایران تک محدود نہیں رہ سکتا،خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی کئی دہائیوں سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور دیگر اتحادیوں کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانت کا ایک اہم حصہ رہی ہے،اگر واشنگٹن کو اپنے اڈوں کی حفاظت کے لیے خطے میں فوجی موجودگی کی نوعیت تبدیل کرنا پڑتی ہے تو اس کے اثرات امریکہ کے اتحادیوں، ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور چین و روس کے لیے پیدا ہونے والی نئی جیوپولیٹیکل گنجائش تک پہنچ سکتے ہیں
اس جنگ نے ایک اور اہم حقیقت بھی سامنے رکھی ہے،جدید جنگ میں طاقت کا پیمانہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ کس ملک کے پاس کتنے جدید طیارے یا میزائل ہیں،اگر ایک نسبتاً سستا ڈرون کسی انتہائی قیمتی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو طاقتور ملک کو اس خطرے سے بچنے کے لیے کہیں زیادہ وسائل خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں
نیویارک ٹائمز کے تجزیے کا اصل سوال بھی یہی ہے کہ کیا امریکی فوجی طاقت اپنے روایتی مراکز سے دور ہوتے ہوئے بھی وہی فوری اور فیصلہ کن اثر برقرار رکھ سکے گی جس پر واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ کی حکمت عملی کئی دہائیوں سے قائم رہی ہے
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ محض ایک فوجی تعیناتی کا مسئلہ نہیں،یہ اس بڑے سوال کا امتحان ہے کہ امریکہ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی فوجی طاقت کو کتنی آسانی سے اور کتنی کم قیمت پر استعمال کر سکتا ہے،ایران کے خلاف جنگ نے بظاہر امریکی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اس طاقت کی ایک نئی کمزوری نمایاں کر دی ہے،ایک عالمی فوجی طاقت کے لیے اپنے اربوں ڈالر کے اثاثوں کو نسبتاً کم قیمت والے، پھیلتے ہوئے ڈرون اور میزائل خطرات سے محفوظ رکھنا خود ایک بڑا اسٹریٹیجک چیلنج بن سکتا ہے





