ناروے کی شہزادی اور ان کے شمن شوہر کا سابق دوستوں کے خلاف 8 کروڑ ڈالر کا مقدمہ، خاندان کے افراد بھی نامزد
ناروے کی شہزادی مارتھا لوئیس اور ان کے شوہر شمن دوریک وریٹ نے اپنے سابق قریبی ساتھیوں، کاروباری شراکت داروں اور خاندان کے ایک فرد سمیت 14 افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے،جوڑے نے مبینہ ہتک عزت اور رازداری کے معاہدوں کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت 8 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے
امریکی جریدے پیپل کے مطابق، قانونی دستاویزات میں شہزادی اور ان کے شوہر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سابق قریبی تعلقات رکھنے والے افراد نے برسوں کے دوران ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا،مقدمے میں شمن دوریک وریٹ کی سوتیلی بہن اور ان کے سابق کاروباری شراکت دار بھی شامل ہیں
شکایت میں جوڑے نے الزام لگایا ہے کہ ان کے سابق قریبی ساتھیوں نے اعتماد اور نجی تعلقات سے حاصل ہونے والی رسائی کو ان کے خلاف استعمال کیا،ان کے مطابق، معاملہ محض ذاتی اختلافات کا نہیں بلکہ مبینہ طور پر نجی معلومات کے استعمال، ہتک عزت اور رازداری سے متعلق معاہدوں کی خلاف ورزی کا ہے
اس مقدمے میں 14 افراد کو نامزد کیا گیا ہے، تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں تمام نامزد افراد کا تفصیلی مؤقف شامل نہیں،اسی طرح عدالت کی جانب سے الزامات پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے آنے کی اطلاع بھی اس اقتباس میں موجود نہیں؟اس لیے مقدمے میں بیان کیے گئے الزامات کو ثابت شدہ حقائق کے بجائے مدعیان کے دعووں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے
شہزادی مارتھا لوئیس ناروے کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، جبکہ دوریک وریٹ خود کو شمن اور روحانی معالج کے طور پر پیش کرتے ہیں،جوڑے کی جانب سے سابق دوستوں اور کاروباری ساتھیوں کے خلاف اتنی بڑی رقم کے ہرجانے کا مطالبہ اس تنازعہ کو غیر معمولی قانونی اور عوامی توجہ کا مرکز بنا سکتا ہے
مقدمے کا بنیادی نکتہ یہ ہوگا کہ آیا مدعیان اپنے الزامات کو عدالت میں ثابت کر پاتے ہیں اور آیا نامزد افراد نے واقعی ہتک عزت یا رازداری کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی،فی الحال 8 کروڑ ڈالر کا مطالبہ جوڑے کا قانونی دعویٰ ہے، عدالت کی جانب سے منظور کردہ ہرجانہ نہیں





