Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت میں ووٹر فہرستوں کے تنازع پر مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

بھارت میں ووٹر فہرستوں کے تنازع پر مودی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا

بھارت میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر نظرثانی کے معاملے پر حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج مسلسل بڑھ رہا ہے اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں کی تحریک ’’کاکروچ‘‘ الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور الزام عائد کر رہی ہیں کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے الیکشن کمیشن اور بی جے پی ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں
تنازع کی بنیادی وجہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی ہے، جس کا آغاز گزشتہ سال ریاست بہار سے ہوا تھا اور بعد میں اسے بھارت کی بیشتر ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں تک پھیلا دیا گیا الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد جعلی، دہرے، فوت شدہ اور نااہل افراد کے نام ووٹر فہرستوں سے نکالنا اور انتخابی نظام کو زیادہ درست بنانا ہے
تاہم اپوزیشن جماعتوں اور بعض شہری گروہوں کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں حقیقی اور اہل ووٹر بھی فہرستوں سے خارج ہو گئے ہیں بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ ابتدائی ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کیے گئے ہیں، جو بھارت کے مجموعی انتخابی رجسٹر کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے
اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ تبدیلیاں خاص طور پر ان علاقوں اور طبقات کے ووٹروں کو متاثر کر سکتی ہیں جہاں مودی کی جماعت کو نسبتاً کم حمایت حاصل ہے بعض ناقدین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں مشکلات کے باعث غریب، نوجوان، اقلیتی اور کمزور طبقات کے افراد اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں الیکشن کمیشن تاہم کہتا ہے کہ نظرثانی کا مقصد سیاسی نہیں بلکہ انتخابی فہرستوں کی صفائی اور درستگی ہے
تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق بعض اہم فیصلوں پر الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات موجود تھے رپورٹ کے مطابق 3 رکنی کمیشن کے 2 ارکان نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران خصوصی نظرثانی کے بعض فیصلوں پر متعدد مرتبہ اعتراضات اٹھائے الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تمام فیصلے متفقہ اور قانون کے مطابق تھے
اس معاملے پر نئی دہلی میں مسلسل احتجاج ہو رہے ہیں۔ 6 اکتوبر کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا مظاہرین نے ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ کے نعرے لگائے جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد نے علاقے میں سکیورٹی سنبھال رکھی تھی
7 اکتوبر کو کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی احتجاج میں شریک ہوئے اور پولیس نے انہیں مختصر طور پر حراست میں لے لیا دیگر اپوزیشن ارکان اور مظاہرین کو بھی حراست میں لیا گیا، بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا یہ راہول گاندھی کی 2 دن میں دوسری حراست تھی
بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اس تنازع کا نوٹس لیا ہے عدالت نے حکومت، الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر سے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے عدالت میں دائر درخواستوں میں الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور نظرثانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مزید سماعت آئندہ ہفتے متوقع ہے
حکمران بی جے پی نے اپوزیشن کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں انتخابی شکست کے بعد الیکشن کمیشن جیسے اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں بی جے پی کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی اصلاح کا عمل قانونی ہے اور اس کا مقصد صرف غیر اہل یا جعلی اندراجات کو ختم کرنا ہے
یہ احتجاج مودی کے تیسرے دور حکومت میں ایک اور بڑا سیاسی تنازع بن گیا ہے چند ماہ قبل طلبہ کے احتجاج کے نتیجے میں امتحانی پرچوں کے افشا کے معاملے پر بھارت کے وزیر تعلیم کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا اب ووٹر فہرستوں کا تنازع اپوزیشن، نوجوانوں اور الیکشن کمیشن کے درمیان ایک نئے محاذ کی شکل اختیار کر رہا ہے، جبکہ عدالت میں بھی اس معاملے کی قانونی جانچ شروع ہو چکی ہے

قومی خبریں سے مزید