Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت نے اسٹارلنک کی منظوری میں جانبداری کے الزامات مسترد کر دیے، ایلون مسک نے ارب پتیوں پر اجارہ داری کا الزام عائد کر دیا

بھارت نے اسٹارلنک کی منظوری میں جانبداری کے الزامات مسترد کر دیے، ایلون مسک نے ارب پتیوں پر اجارہ داری کا الزام عائد کر دیا

بھارت نے ایلون مسک کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ ملک میں اسٹارلنک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز میں بعض ارب پتی کاروباری افراد رکاوٹیں ڈال رہے ہیں تاکہ بھارتی انٹرنیٹ مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھ سکیں
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ اسٹارلنک کو بھارت میں بعض ’’اولیگارکس‘‘ کی جانب سے روکا جا رہا ہے جو بھارتی عوام پر اجارہ دارانہ گرفت برقرار رکھنا چاہتے ہیں مسک نے کسی شخص یا کمپنی کا نام نہیں لیا تاہم ان کے بیان کو بھارت کے بڑے کاروباری گروپس ریلائنس جیو اور بھارتی ایئرٹل سے جوڑا جا رہا ہے، جو ملک کی ٹیلی کمیونیکیشن مارکیٹ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں
بھارت کی وزارت مواصلات نے مسک کے الزام کے جواب میں کہا کہ سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات کے لیے ملک کا ضابطہ کار منصفانہ اور غیر امتیازی ہے وزارت کے مطابق اسٹارلنک سمیت سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی اجازت حاصل کرنے والی 3 کمپنیاں اس وقت تقریباً ایک ہی ریگولیٹری مرحلے میں ہیں اور تینوں کی سکیورٹی جانچ جاری ہے وزارت نے مسک کے امتیازی سلوک کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے
اسٹارلنک کو بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا لائسنس مل چکا ہے، جبکہ کمپنی نے ملک میں اپنے انفراسٹرکچر کی تیاری بھی کافی حد تک مکمل کر لی ہے تاہم تجارتی سروس شروع کرنے کے لیے اسے سکیورٹی کلیئرنس اور اسپیکٹرم کی حتمی منظوری کا انتظار ہے بھارت میں جیو اور ون ویب کو بھی سیٹلائٹ مواصلاتی لائسنس حاصل ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے ابھی مکمل تجارتی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس شروع نہیں کی
اسٹارلنک کا کہنا ہے کہ وہ بھارت میں داخل ہونے کے لیے تقریباً 5 سال سے حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے اور کمپنی نے ملک میں تقریباً 20 گراؤنڈ اسٹیشنز سمیت ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کر لیا ہے کمپنی کے مطابق وہ بھارتی سکیورٹی اور ڈیٹا سے متعلق تقاضوں کی تعمیل کے لیے بھی انتظامات کر چکی ہے
اس معاملے میں رکاوٹوں کی ایک بڑی وجہ بھارتی حکام کی جانب سے سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی رہی ہے۔ 2024 میں بھارتی حکام نے 2 مختلف کارروائیوں کے دوران اسٹارلنک کے آلات برآمد ہونے کی اطلاع دی تھی ان واقعات کے بعد کمپنی کی سروس اور سکیورٹی تقاضوں پر مزید سوالات اٹھے مسک نے بعد میں کہا تھا کہ اسٹارلنک کے سیٹلائٹ سگنلز بھارت میں بند کر دیے گئے تھے اور یہ بھی واضح کیا کہ سروس وہاں پہلے سے فعال نہیں تھی
بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک میں ایسے دور دراز علاقے موجود ہیں جہاں فائبر کیبل یا موبائل ٹاورز کے ذریعے تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانا مشکل ہے اسٹارلنک کا مؤقف ہے کہ اس کی سیٹلائٹ سروس ایسے علاقوں میں ان لوگوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کر سکتی ہے جہاں موجودہ نیٹ ورک محدود یا دستیاب نہیں
اس تنازعے کا ایک تجارتی پہلو بھی ہے کیونکہ بھارت کی سیٹلائٹ براڈ بینڈ مارکیٹ آنے والے برسوں میں ایک بڑی مارکیٹ بننے کی توقع ہے اسی لیے مسک کی اسٹارلنک، ریلائنس جیو اور ون ویب سمیت کئی بڑی کمپنیاں اس مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں تجزیوں کے مطابق بھارت کی سیٹلائٹ براڈ بینڈ مارکیٹ 2030 تک تقریباً 1.9 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے
یوں ایک طرف بھارت کی حکومت تمام کمپنیوں کے لیے یکساں ضابطہ کار ہونے پر زور دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اسٹارلنک کے سربراہ ایلون مسک کئی سال سے جاری منظوری کے عمل پر کھل کر اعتراض کر رہے ہیں معاملہ اب صرف ایک کمپنی کے لائسنس کا نہیں رہا بلکہ بھارت کی اربوں ڈالر کی مستقبل کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ مارکیٹ میں مقابلے، سکیورٹی اور بڑی کاروباری کمپنیوں کے اثر و رسوخ سے بھی جڑ گیا ہے

قومی خبریں سے مزید