Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

چونکا دینے والی پیش قدمی: ٹیکساس میں ڈیموکریٹ ٹلاریکو آگے، ہسپانک ووٹرز میں 63 فیصد حمایت

چونکا دینے والی پیش قدمی: ٹیکساس میں ڈیموکریٹ ٹلاریکو آگے، ہسپانک ووٹرز میں 63 فیصد حمایت

ٹیکساس میں سینیٹ کی دوڑ نے اچانک امریکی سیاست کے ایک روایتی نقشے کو بدلنے کے امکانات پیدا کردیئے ہیں،ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹلاریکو تازہ ترین نیویارک ٹائمز/سینا پول میں ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن سے 6 پوائنٹس آگے ہیں، 51 فیصد کے مقابلے میں 45 فیصد،تاہم مختلف تازہ پولز کو ملا کر دیکھا جائے تو ٹلاریکو کی اوسط برتری تقریباً 3.1 پوائنٹس بنتی ہے
یہ محض ایک پول کی کہانی نہیں،ستمبر اور اکتوبر کے مختلف سروے ٹلاریکو کو مسلسل معمولی یا نسبتاً واضح برتری دکھا رہے ہیں،فاکس نیوز کے تازہ سروے میں بھی ٹلاریکو 51 فیصد کے مقابلے میں 49 فیصد سے آگے ہیں، جبکہ یوگوو کے سروے میں ان کی برتری 50 کے مقابلے میں 44 فیصد رہی
اس دوڑ میں سب سے اہم عنصر ٹیکساس کی تیزی سے بدلتی ہوئی آبادی اور خاص طور پر ہسپانک ووٹرز ہیں؟امریکی مردم شماری کے مطابق ٹیکساس کی مجموعی آبادی کا 40.9 فیصد ہسپانک یا لاطینی ہے،مزید یہ کہ 2024 کے اعداد کے مطابق 5 سال سے زیادہ عمر کے 28.2 فیصد ٹیکسان اپنے گھر میں ہسپانوی بولتے ہیں
اور یہاں ٹلاریکو کے لیے سب سے بڑا فرق سامنے آتا ہے،Cook Political Report اور TelevisaUnivision کے تازہ ٹیکساس ہسپانک ووٹر سروے میں ٹلاریکو کو 63 فیصد جبکہ پیکسٹن کو صرف 30 فیصد حمایت ملی،یعنی ہسپانک ممکنہ ووٹرز میں ٹلاریکو کو 33 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی
یہ اعداد اس لیے اہم ہیں کہ ہسپانک ووٹر ٹیکساس کے انتخابی نقشے میں معمولی نہیں بلکہ ایک بہت بڑا ووٹر بلاک ہیں،2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہسپانک ووٹرز میں اپنی سابقہ نسبتاً کمزور کارکردگی کے مقابلے میں نمایاں بہتری حاصل کی تھی، لیکن 2026 کے موجودہ سروے یہ دکھا رہے ہیں کہ اس اتحاد میں دوبارہ تبدیلی آرہی ہے،واشنگٹن پوسٹ نے بھی ٹیکساس میں ہسپانک ووٹرز کی حمایت میں کمی کو ری پبلکنز کے لیے اہم چیلنج قرار دیا ہے
اسی پس منظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکساس کا بار بار دورہ بھی توجہ حاصل کر رہا ہے،وہ 7 اکتوبر کو سان انتونیو میں پیکسٹن کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے، جو ایک ایسے وقت میں ہوا جب ری پبلکن قیادت ٹیکساس جیسی روایتی طور پر مضبوط ریڈ ریاست میں سینیٹ کی نشست کے دفاع کے لیے زیادہ وسائل استعمال کر رہی ہے
تاہم ان پولز کو انتخابی نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا،نیویارک ٹائمز/سینا کا 6 پوائنٹس کا فرق نمایاں ہے، لیکن مجموعی پول اوسط میں فرق اس سے کم ہے اور بعض سروے تقریباً برابر مقابلہ دکھا رہے ہیں،اس لیے فی الحال زیادہ درست بات یہ ہے کہ ٹیکساس کی سینیٹ دوڑ غیر معمولی طور پر مسابقتی ہوچکی ہے اور ٹلاریکو نے ری پبلکنز کے روایتی مضبوط گڑھ میں مقابلے کو حقیقی طور پر سخت بنا دیا ہے، جبکہ ٹیکساس میں مہنگائ کے حوالے سے شہرت رکھنے والی ریاستیں نیویارک کیلی فورنیا سے ہجرت کرنے والی آبادی جو ایک بڑی اکثریت امیگرنٹس خاندانوں پر مشتمل ہے اور ان خاندانوں میں ایک اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے اور مسلم امریکن جو سانحہ نائن الیون سے پہلے ریپبلکن پارٹی کے ووٹرز تھے تاہم اب ڈیموکریٹس کی حمایت کرتے ہیں انکے ووٹ کا نمبر بھی ٹیکساس میں ریاست کے لال رنگ کو نیلا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے جو ٹیکساس کے شہری علاقوں میں اہمیت کے حامل ہیں

قومی خبریں سے مزید