ترکی میں اپوزیشن کے مضبوط گڑھ ازمیر کے میئر نے اردوان کی جماعت میں شمولیت اختیار کرلی
ترکی کے تیسرے بڑے شہر ازمیر کے میئر جمیل توغائے نے حزب اختلاف سے علیحدگی اختیار کرکے صدر رجب طیب اردوان کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی، اے کے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے،یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی کی اپوزیشن جماعتوں اور ان کے منتخب نمائندوں کے خلاف گرفتاریوں اور مقدمات کی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں
جمیل توغائے کی اے کے پی میں شمولیت کا اعلان خود اردوان نے انقرہ میں پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس کے دوران کیا،اجلاس براہ راست ٹی وی پر نشر کیا گیا، جہاں اردوان نے ازمیر کے میئر کا پارٹی میں خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں اے کے پی کا بیج بھی لگایا
توغائے کا فیصلہ اس لیے بھی نمایاں ہے کہ وہ اس سے قبل اپنی سیاسی وابستگی تبدیل نہ کرنے کا عزم ظاہر کرچکے تھے،ازمیر طویل عرصے سے ترکی میں سیکولر اور اپوزیشن سیاست کا مضبوط مرکز سمجھا جاتا ہے اور اردوان کی اے کے پی کو یہاں طویل عرصے سے سیاسی مزاحمت کا سامنا رہا ہے
گارڈین کےمطابق ازمیر میں توغائے کے فیصلے پر بعض شہریوں نے شدید غصے اور مایوسی کا اظہار کیا،
توغائے کی سیاسی تبدیلی ایسے ماحول میں ہوئی ہے جس میں ترکی کی اپوزیشن پہلے ہی شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے،مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے میئرز اور منتخب عہدیداروں کے خلاف گرفتاریوں اور مقدمات کی ایک بڑی تعداد سیاسی نوعیت کے سوالات پیدا کر رہی ہے، جبکہ حکومت ان کارروائیوں کو قانونی عمل کا حصہ قرار دیتی ہے





