مینسن کی پیروکار پیٹریشیا کرین وِنکل کی تیسری بار پیرول کی کوشش ، 57 سال بعد رہائ کا راستہ کھلنے کا امکان
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بدنام زمانہ قاتل چارلس مینسن کی سابق پیروکار 78 سالہ پیٹریشیا کرین وِنکل کو تقریباً 57 سال جیل میں گزارنے کے بعد تیسری مرتبہ پیرول پر رہائی کی منظوری دے دی گئی ہے،وہ کیلیفورنیا کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک قید رہنے والی خاتون قیدی ہیں،تاہم اس بار بھی ان کی رہائی فوری نہیں ہوگی،پیرول بورڈ کے قانونی جائزے کے بعد فیصلہ حتمی ہوا تو گورنر گیون نیوزوم کے پاس اسے برقرار رکھنے یا مسترد کرنے کا اختیار ہوگا
کرین وِنکل 3 دسمبر 1947 کو لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں پیدا ہوئیں،ان کے والد انشورنس کے شعبے میں کام کرتے تھے جبکہ والدہ گھریلو خاتون تھیں،انہوں نے لاس اینجلس کے مختلف اسکولوں میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں الاباما کے اسپرنگ ہِل کالج میں داخلہ لیا، جہاں وہ حاصل کر کے راہبہ بننے پر بھی غور کر رہی تھیں، لیکن صرف ایک سمسٹر کے بعد تعلیم چھوڑ کر واپس کیلیفورنیا آ گئیں،بعد میں جیل میں انہوں نے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کی اور ہیومن سروسز میں بیچلر ڈگری حاصل کی
ان کی زندگی 1967 میں اس وقت یکسر بدل گئی جب 19 سال کی عمر میں ان کی ملاقات چارلس مینسن سے ہوئی،وہ مینسن کے ساتھ اس کے گروپ، جسے “مینسن فیملی” کہا جاتا تھا، میں شامل ہوگئیں،وکلا کے مطابق مینسن نے انہیں نفسیاتی طور پر اپنے قابو میں کیا اور بعد میں ان کے ساتھ جسمانی، جذباتی اور جنسی زیادتی بھی ہوئی،کرین وِنکل خود بھی برسوں بعد اس دور کو اپنی زندگی کا ایسا مرحلہ قرار دیتی رہی ہیں جب انہوں نے اپنی اخلاقی سوچ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو دی تھی
اصل جرم اگست 1969 میں دو راتوں کے دوران پیش آنے والے سات قتل تھے،9 اگست کی رات کرین وِنکل چارلس مینسن کے ساتھیوں کے ساتھ لاس اینجلس میں اداکارہ شیرون ٹیٹ کے گھر پہنچیں،شیرون ٹیٹ اس وقت آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں،وہاں ٹیٹ کے علاوہ جے سیبرنگ، ابی گیل فولگر، ووجچ فریکووسکی اور اسٹیون پیرنٹ کو قتل کیا گیا،کرین وِنکل نے بعد میں تسلیم کیا کہ انہوں نے ابی گیل فولگر کو چاقو کے وار کیے تھے،اگلی رات وہ مینسن کے ساتھ لینو اور روزمیری لا بیانکا کے گھر بھی گئیں، جہاں میاں بیوی کو قتل کیا گیا۔ یوں دو راتوں میں مجموعی طور پر سات افراد مارے گئے
1971 میں کرین وِنکل کو سات افراد کے فرسٹ ڈگری قتل اور قتل کی سازش کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی،لیکن 1972 میں کیلیفورنیا کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد اس وقت ریاست میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزائیں تبدیل کر دی گئیں،کرین وِنکل کی سزائے موت بھی عمر قید میں تبدیل ہوگئی، جس میں اس وقت پیرول کی گنجائش موجود تھی،اسی وجہ سے وہ آج تک جیل میں ہیں، لیکن قانونی طور پر پیرول کے لیے درخواست دینے کا حق برقرار رہا
جیل میں ان کا ریکارڈ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بنیادی طور پر صاف رہا ہے،انہوں نے کالج کی ڈگری حاصل کی، دوسرے قیدیوں کی مدد کے پروگراموں میں حصہ لیا، ناخواندہ قیدیوں کو پڑھنا سکھایا اور معذور افراد کے لیے سروس ڈاگز کی تربیت کے پروگرام میں کام کیا،ان کے وکیل کے مطابق گزشتہ 40 برسوں کے دوران ہونے والے مسلسل نو نفسیاتی جائزوں میں انہیں عوام کے لیے کم خطرہ قرار دیا گیا،موجودہ پیرول بورڈ نے بھی ان کی طویل مدت کی اصلاح اور رویے میں تبدیلی کو اہم قرار دیا ہے
اس کے باوجود انہیں پہلے کئی مرتبہ پیرول سے انکار کیا گیا،2022 میں پہلی مرتبہ پیرول بورڈ نے انہیں رہائی کے لیے موزوں قرار دیا، لیکن گورنر گیون نیوزوم نے یہ فیصلہ مسترد کر دیا،نیوزوم نے کہا تھا کہ کرین وِنکل نے جیل میں قابل ذکر اصلاح کی ہے، مگر ان کے خیال میں وہ ابھی اپنے جرم کی بنیادی وجوہ اور ایسے عوامل کو پوری طرح نہیں سمجھ سکیں جن کی وجہ سے وہ دوبارہ نقصان دہ اثرات کا شکار ہوسکتی تھیں،2025 میں دوبارہ پیرول منظور ہونے کے بعد نیوزوم نے اسے پھر مسترد کیا اور کہا کہ ان کی عمر اور طبی مسائل کے باوجود عوامی تحفظ سے متعلق خدشات باقی ہیں
اب 2026 میں پیرول بورڈ نے تیسری مرتبہ ان کی رہائی کی منظوری دی ہے،ان کے وکیل کیتھ واٹلی کا کہنا ہے کہ کرین وِنکل اپنے جرائم کی مکمل ذمہ داری قبول کرتی ہیں، متاثرین کو پہنچنے والے نقصان کو تسلیم کرتی ہیں اور کئی دہائیوں سے خود کو تبدیل کرنے کے لیے کام کرتی رہی ہیں،دوسری طرف شیرون ٹیٹ کی بہن ڈیبرا ٹیٹ طویل عرصے سے کرین وِنکل کی رہائی کی مخالفت کرتی آئی ہیں،لاس اینجلس ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے بھی گورنر کے دفتر سے انہیں جیل میں رکھنے کی درخواست کرنے کا عندیہ دیا ہے
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی جیل سے باہر آئیں گی،موجودہ طریقہ کار کے تحت پیرول بورڈ کے فیصلے کا قانونی جائزہ مکمل ہونے میں 120 دن تک لگ سکتے ہیں، اس کے بعد گورنر کے پاس فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے 30 دن تک کا وقت ہوتا ہے،اس لیے تیسری مرتبہ پیرول منظور ہونا اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن ابھی حتمی رہائی کی ضمانت نہیں،اگر نیوزوم اس بار فیصلہ برقرار رکھتے ہیں تو 78 سالہ کرین وِنکل تقریباً چھ دہائیوں بعد جیل سے باہر آ سکتی ہیں





