Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹیکساس میں پھانسی، ٹینیسی کی ناکام کوشش کے بعد امریکہ میں پہلی سزائے موت

ٹیکساس میں پھانسی، ٹینیسی کی ناکام کوشش کے بعد امریکہ میں پہلی سزائے موت

ٹیکساس میں بدھ کی رات ایک قیدی کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی، جو ٹینیسی میں سزائے موت کی ناکام کوشش کے بعد امریکہ میں دی جانے والی پہلی سزائے موت ہے،ٹیکساس کے محکمہ فوجداری انصاف کے مطابق جمال ہاورڈ کو رات 8 بج کر 3 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا
ہاورڈ کو 2000 میں ٹیکساس کے شہر سِلبی میں ایک سہولت اسٹور میں ڈکیتی کے دوران 42 سالہ کلرک وکی سوارٹ آؤٹ کو گولی مار کر قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی،جرم کے وقت ہاورڈ کی عمر 20 سال تھی اور اسے ایک سال سے بھی کم عرصے میں مجرم قرار دے کر ہارڈن کاؤنٹی میں سزائے موت سنائی گئی
اپنے آخری بیان میں ہاورڈ نے مقتولہ کے خاندان سے معافی مانگی اور کہا کہ وہ امید کرتا ہے کہ ایک دن اسے معاف کر دیا جائے گا،اس نے اپنے خاندان کا بھی شکریہ ادا کیا
ہاورڈ کی سزائے موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹینیسی میں حالیہ ناکام سزائے موت کے بعد امریکہ میں مہلک انجیکشن کے طریقہ کار پر نئے سوالات اٹھے ہیں،ٹیکساس کی یہ سزائے موت اس واقعے کے بعد ملک میں پہلی سزائے موت تھی
امریکہ میں سزائے موت کے استعمال پر طویل عرصے سے قانونی، اخلاقی اور طبی بحث جاری ہے، جبکہ مہلک انجیکشن کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں نے اس طریقہ کار کی شفافیت اور قابلِ اعتماد ہونے پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے

قومی خبریں سے مزید