بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کی ریکارڈ طویل تعیناتی ختم، 10 ماہ بعد وطن واپس پہنچ گیا
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن 10 ماہ کی طویل تعیناتی مکمل کرنے کے بعد جمعرات کو اپنے ہوم پورٹ سان ڈیاگو واپس پہنچ رہا ہے،امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے واپسی سے ایک روز قبل بحری جہاز کا دورہ کیا اور عملے کی طویل تعیناتی کے دوران خدمات اور جنگی کارروائیوں میں کردار کو سراہا
امریکی بحریہ کے مطابق ابراہم لنکن کی تعیناتی کے دوران جہاز 266 دن تک سمندر میں تعینات رہا اور تقریباً 200 دن جنگی زون میں گزارے،اس دوران 10 ہزار سے زیادہ فضائی مشن کیے گئے اور تقریباً 15 لاکھ پاؤنڈ وزنی جنگی سازوسامان استعمال کیا گیا
اے بی سی نیوز کے مطابق جہاز کی مجموعی تعیناتی 321 دن تک جاری رہی جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی طویل ترین تعیناتیوں میں شامل ہے،ہیگستھ نے عملے سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے مشن کی ضرورت کے باعث تعیناتی میں دو مرتبہ توسیع کی، جبکہ حالیہ برسوں میں عام طور پر طیارہ بردار بحری بیڑے کی تعیناتی تقریباً سات ماہ تک رہتی رہی ہے
اس طویل تعیناتی کے دوران ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا،امریکی بحریہ نے اگست میں کہا تھا کہ مشن کی ضروریات کے باعث تعیناتی طویل کی گئی اور اس دوران عملے پر غیر معمولی دباؤ بھی رہا
تاہم طویل تعیناتی کے انسانی اثرات بھی سامنے آئے ہیں،اے بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ قائم مقام سیکریٹری نیوی کے مطابق ابراہم لنکن سے منسلک 8 اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی،امریکی بحریہ نے مجموعی طور پر خودکشی سے متعلق واقعات کے لیے باقاعدہ معاونت اور نگرانی کا نظام بھی قائم کر رکھا ہے
یو ایس ابراہم لنکن کی واپسی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی بحریہ مشرق وسطیٰ میں طویل جنگی تعیناتیوں کے بعد اپنے اہلکاروں کے لیے آپریشنل ضرورت اور فوجیوں کی فلاح و بہبود کے درمیان توازن پر بھی توجہ دے رہی ہے





