قطر کے قریب آئل ٹینکر پر حملہ، ایران کی آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کی بندش کی دھمکی، تیل 100 ڈالر سے پھر اوپر
خلیج میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور قطر کے شمالی ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر کو متعدد پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے،برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق جہاز نے اطلاع دی کہ اسے متعدد پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، تاہم حملے کے ذمہ دار اور جہاز کی شناخت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی
یہ حملہ آبنائے ہرمز کے بحران کے درمیان سامنے آیا ہے،ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے اس راستے کو بھی بند کر دیا جائے گا جس کے ذریعے ایران کی جانب سے عائد سمندری پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے تیل کی نقل و حرکت جاری تھی
بحری جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کے مستقبل کے بارے میں خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے پھر تجاوز کر گئی ہے،اگر ایران نے خلیج سے عالمی منڈی تک تیل کی ترسیل کے مزید راستے محدود کر دیے تو عالمی توانائی کی سپلائی کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے
دریں اثنا ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان پر غور کر رہی ہے اور یہ فیصلہ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے سامنے آ سکتا ہے،تاہم فوجی کارروائی کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شامل ہے اور یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات صرف خلیجی خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تیل کی عالمی قیمتوں، افراط زر اور عالمی معیشت پر بھی براہ راست پڑ سکتے ہیں





