پاکستان میں سیلاب کا ڈیٹا موجود ہے، مگر بروقت استعمال کرنے والا نظام نہیں
پاکستان میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات سے متعلق معلومات کی کمی نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مختلف اداروں کے پاس موجود معلومات کو بروقت ایک جگہ جمع کرکے فیصلے کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا ماہر ماحولیات علی توقیر شیخ کے مطابق پاکستان کو صرف بہتر اعداد و شمار نہیں بلکہ ایسا باقاعدہ نظام درکار ہے جس کے تحت کسی ادارے یا فرد کی ذمہ داری ہو کہ وہ دستیاب معلومات کو فیصلہ سازوں تک پہنچائے
مضمون میں 2022 کے تباہ کن سیلاب کو اس مسئلے کی بڑی مثال قرار دیا گیا ہے اس وقت ملک کا تقریباً ایک تہائی حصہ سیلاب سے متاثر ہوا تھا اور انخلا سے لے کر عالمی امداد کی اپیل تک کئی اہم فیصلے ایسے وقت میں کیے گئے جب متعلقہ معلومات مختلف اداروں میں موجود ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے مربوط نہیں تھیں
محکمہ موسمیات نے معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کی پیش گوئی کی تھی قومی سماجی و معاشی رجسٹری میں 38 ملین گھرانوں کا جغرافیائی ریکارڈ موجود تھا جبکہ دریاؤں اور سیلاب سے متعلق معلومات واپڈا، وفاقی فلڈ کمیشن اور سپارکو کے پاس موجود تھیں مسئلہ یہ تھا کہ ان تمام معلومات کو بروقت ملا کر عملی فیصلے کرنے کی ذمہ داری کسی ایک ادارے کے پاس نہیں تھی
مضمون کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے بچاؤ کے نظام میں عموماً خطرے کی نشاندہی، موسم اور سیلاب کی پیش گوئی، لوگوں تک بروقت اطلاع پہنچانا اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے عملی اقدامات شامل ہوتے ہیں پاکستان میں زیادہ توجہ پہلے 2 مراحل یعنی معلومات جمع کرنے اور پیش گوئی پر رہی ہے، جبکہ لوگوں تک مؤثر پیغام پہنچانے اور انہیں محفوظ مقام تک منتقل کرنے کے نظام کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی
اس کی ایک مثال اگست 2025 میں بنوں میں سامنے آئی، جہاں شدید سیلاب کا خطرہ ظاہر کرنے والا الرٹ موجود تھا لیکن بہت سے گھرانے بروقت منتقل نہیں ہوئے مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ لوگوں کو خطرے کی اطلاع نہیں ملی بلکہ انہیں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کیا کرنا ہے اور مقامی حکومتوں کا بھی آخری مرحلے میں لوگوں تک ہدایات پہنچانے کا واضح کردار مقرر نہیں تھا
مضمون میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ریکارڈ کو بھی اہم مثال قرار دیا گیا ہے اگر اس ریکارڈ کو سیلاب کے خطرے والے علاقوں کے نقشوں کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو حکومت چند گھنٹوں میں یہ معلوم کر سکتی ہے کہ ممکنہ سیلاب کی زد میں آنے والے علاقوں میں کون سے گھرانے رہتے ہیں اور امدادی رقم کس طرح ان تک پہنچائی جا سکتی ہے
2022 کے سیلاب کے بعد نقد امداد حکومت کے تیز ترین ذرائع میں شامل رہی، لیکن اس کا بڑا حصہ پہلے سے رجسٹرڈ گھرانوں تک محدود رہا بعض اضلاع میں ایک تہائی تک متاثرہ افراد امداد سے محروم رہے جبکہ رجسٹرڈ نہ ہونے والے تقریباً نصف افراد کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ رجسٹریشن کیسے کرا سکتے ہیں
مضمون کے مطابق پاکستان میں آفات سے ہونے والے نقصانات کا مکمل اور مستقل ریکارڈ رکھنے کا بھی مؤثر نظام موجود نہیں۔ 2022 کے سیلاب کے بعد نقصانات کا جائزہ زیادہ تر عالمی امداد حاصل کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن تعمیر نو کے پورے عمل کے ساتھ اسے مربوط نہیں کیا گیا
18ویں آئینی ترمیم کے بعد آفات سے نمٹنے اور آبپاشی کے کئی معاملات صوبوں کے پاس ہیں جبکہ موسمیاتی معلومات، قومی رجسٹری اور بین الاقوامی مالی معاونت سے متعلق کئی ذمہ داریاں وفاق کے پاس ہیں اس تقسیم کی وجہ سے معلومات کو وفاق سے صوبوں اور پھر مقامی سطح تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط نظام کی ضرورت ہے
مضمون میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2010، 2022 اور 2025 کے سیلاب نے پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا اور ترقیاتی وسائل کا بڑا حصہ بحالی اور تعمیر نو پر خرچ کرنا پڑا بہتر معلومات اور بروقت کارروائی سے اگر کچھ نقصان پہلے ہی روکا جا سکتا ہو تو بعد میں اسی تباہی کی تعمیر نو پر خرچ ہونے والی رقم اسکولوں، اسپتالوں اور ترقیاتی منصوبوں پر لگائی جا سکتی ہے
ماہر کے مطابق پاکستان کو صرف جدید پیش گوئی کے ماڈل اور ٹیکنالوجی خریدنے پر توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ موجودہ معلومات کو ایک دوسرے سے جوڑنے، مقامی حکومتوں کو واضح ذمہ داری دینے اور لوگوں تک بروقت اور قابل عمل ہدایات پہنچانے کا نظام بھی بنانا چاہیے کیونکہ اگر کسی علاقے میں 72 گھنٹے پہلے سیلاب کی درست پیش گوئی موجود ہو لیکن متاثرہ خاندانوں تک یہ پیغام نہ پہنچے کہ انہیں کب اور کہاں منتقل ہونا ہے تو ایسی پیش گوئی عام شہری کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی
مضمون کے مطابق پاکستان کو آئندہ مون سون سے پہلے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا لازمی نظام بنانا، موجودہ رجسٹری کو سیلاب کے خطرے والے علاقوں کے نقشوں سے جوڑنا، نقصانات کا مستقل ریکارڈ تیار کرنا اور مقامی حکومتوں کو سیلاب کی وارننگ لوگوں تک پہنچانے کی باقاعدہ ذمہ داری دینا ہوگی
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس سیلاب سے متعلق معلومات نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ معلومات موجود ہونے کے باوجود انہیں بروقت فیصلوں میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری واضح نہیں





