Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مشی گن کے ریپبلکن سینیٹ امیدوار نے کینیڈا پر ٹیرف کے معاملے میں ٹرمپ سے اختلاف کرتے ہوئے تجارتی جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

مشی گن کے ریپبلکن سینیٹ امیدوار نے کینیڈا پر ٹیرف کے معاملے میں ٹرمپ سے اختلاف کرتے ہوئے تجارتی جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

امریکی ریاست مشی گن سے ریپبلکن پارٹی کے سینیٹ امیدوار مائیک راجرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کینیڈا کے خلاف تجارتی پالیسی سے کھل کر اختلاف کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان جاری ٹیرف جنگ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے
مائیک راجرز نے اپنی انتخابی مہم کی ایک نئی ویڈیو میں کہا کہ مشی گن کے عوام جانتے ہیں کہ کینیڈا ان کا دشمن نہیں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جاری ٹیرف جنگ اب ختم ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر وہ سینیٹر منتخب ہوئے تو دونوں سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر قیمتیں کم کرنے کی کوشش کریں گے
راجرز کا یہ بیان اس لیے اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ وہ ماضی میں ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی حمایت کرچکے ہیں اور اسے ضروری قرار دے چکے ہیں تاہم اب انہوں نے مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ ختم کرنے کی بات کی ہے
مشی گن کی معیشت کا کینیڈا کے ساتھ گہرا تعلق ہے، خصوصاً گاڑیوں کی صنعت اور سرحد پار سپلائی نظام کے باعث کینیڈا اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹیرف نے مشی گن کے کاروبار اور صارفین پر اضافی لاگت کے خدشات پیدا کیے ہیں
راجرز کا مقابلہ ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید سے ہے اور دونوں کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت قرار دیا جارہا ہے کینیڈا کے خلاف ٹرمپ کی تجارتی جنگ بھی اب مشی گن کے انتخابی مقابلے میں ایک اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہے
عبدالسید نے راجرز کے نئے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریپبلکن امیدوار ابتدا سے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی حمایت کرتے رہے ہیں اور اب انتخابی صورتحال تبدیل ہونے کے بعد اپنا مؤقف بدل رہے ہیں انہوں نے راجرز پر سیاسی فائدے کے لیے مؤقف تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا
دوسری جانب ٹرمپ نے راجرز کی نئی انتخابی مہم کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ انہوں نے اس بیان کو اس طرح سمجھا ہے کہ راجرز چاہتے ہیں کینیڈا امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرے۔ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر مؤقف اختیار کیا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ مناسب معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے
کینیڈا اور امریکا کے درمیان حالیہ ہفتوں میں ایک دوسرے کی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کیے گئے ہیں امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف اور بعض کینیڈین اشیا پر اضافی پابندیوں کے بعد اوٹاوا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کیے ہیں
مائیک راجرز کا مؤقف تبدیل کرنا اس وسیع تر سیاسی رجحان کا بھی حصہ سمجھا جارہا ہے جس میں سخت مقابلے والی ریاستوں کے بعض ریپبلکن امیدوار ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں سے محدود فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں سینیٹ پر کنٹرول کے لیے مشی گن کی نشست اہم قرار دی جارہی ہے
راجرز اس سے قبل ایران کے معاملے پر بھی ٹرمپ سے اختلاف کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جنگ اور بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کا براہ راست اثر امریکی عوام پر پڑ رہا ہے یوں کینیڈا کے ساتھ ٹیرف جنگ کے خاتمے کا مطالبہ ان کی انتخابی مہم میں ٹرمپ سے آزادانہ مؤقف اختیار کرنے کی ایک اور نمایاں مثال بن گیا ہے

قومی خبریں سے مزید