Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کے پی حکومت کا گورنر کے مواخذے کے لیے قانون سازی کا اعلان، سہیل آفریدی نے فوجی آپریشن مسترد کردیا

کے پی حکومت کا گورنر کے مواخذے کے لیے قانون سازی کا اعلان، سہیل آفریدی نے فوجی آپریشن مسترد کردیا

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے چیف سیکریٹری اور پولیس سربراہ کے ساتھ سکیورٹی اجلاس بلانے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے گورنر کے مواخذے کے لیے قانون سازی کرنے کا عندیہ دے دیا ہے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ اگر گورنر کے خلاف کارروائی کے لیے قانون موجود نہیں تو صوبائی اسمبلی اس مقصد کے لیے قانون بنائے گی
سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے، اس لیے اگر گورنر کے لیے بھی ایسا کوئی قانونی طریقہ موجود نہیں تو خیبر پختونخوا اسمبلی قانون سازی کرے گی ان کے مطابق کسی کو جمہوری نظام کو پٹڑی سے اتارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
وزیراعلیٰ نے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے چیف سیکریٹری شاہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کے ساتھ سکیورٹی صورتحال پر اجلاس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے دونوں افسران کو ہدایت کی کہ اگر انہیں کوئی ایسا حکم دیا جائے جو ان کے خیال میں آئین یا قانون کے خلاف ہو تو اس پر عمل نہ کریں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، کابینہ اور اسمبلی مکمل طور پر فعال ہیں اور حکومت کو صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے
خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل عثمان خیل نے کابینہ کو بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 131 کے تحت گورنر وزیراعلیٰ سے صوبے کے انتظامی معاملات کے بارے میں معلومات طلب کرسکتا ہے، تاہم ان کے مطابق گورنر صوبائی حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست اس نوعیت کی کارروائی نہیں کرسکتا گورنر کے اجلاس پر پیدا ہونے والا تنازع بنیادی طور پر صوبائی حکومت اور گورنر کے آئینی اختیارات کی تشریح سے متعلق ہے
دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم اور صدر مملکت خیبر پختونخوا کو بچانے اور صوبے میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری سمجھیں تو ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا جائے گا انہوں نے ماضی میں ایسے اقدامات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں پہلے یہ فیصلہ ہوگا کہ ایسی صورتحال کب اور کس بنیاد پر پیدا ہوتی ہے
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کیا کہ ان کی حکومت خیبر پختونخوا میں مزید فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دے گی ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گزشتہ کئی برس کے دوران متعدد انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں اور بڑے فوجی آپریشن کیے گئے لیکن مستقل امن قائم نہیں ہوسکا
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کو معاوضوں کی مکمل ادائیگی نہیں ہوسکی اور تقریباً 100 ارب روپے کے معاوضے اب بھی واجب الادا ہیں انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد اور دیگر وعدوں کی تکمیل کی ضرورت ہے یہ اعداد و شمار وزیراعلیٰ کی جانب سے پیش کیے گئے دعوے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس، انسداد دہشت گردی محکمہ اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے اور ان کے خیال میں صوبے میں امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کی موجودہ حکمت عملی پر نظرثانی ضروری ہے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ اگر صوبائی سطح پر تجویز کردہ حکمت عملی اختیار کی جائے تو 100 دن میں امن کی صورتحال بہتر کی جاسکتی ہے
یہ سیاسی اور آئینی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کا احتجاجی مارچ خیبر پختونخوا میں جاری ہے سہیل آفریدی نے خیبر میں مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بھی کہا کہ جب تک وہ وزیراعلیٰ ہیں صوبے میں مزید فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے مارچ کے آئندہ مرحلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آئندہ حکمت عملی صوابی پہنچنے کے بعد بتائی جائے گی
صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان اختلافات میں انسداد دہشت گردی پالیسی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے اس سے قبل وفاقی سطح پر خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر بھی بیانات سامنے آچکے ہیں، جبکہ گورنر کنڈی نے بھی کہا ہے کہ اگر وفاقی قیادت ایسا اقدام ضروری سمجھے تو وہ اپنے آئینی فرائض انجام دیں گے
موجودہ صورتحال میں ایک طرف صوبائی حکومت گورنر کے اختیارات اور سکیورٹی اجلاس کے طریقہ کار کو چیلنج کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف گورنر اور وفاقی حکام صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بنیاد بنا کر وفاقی اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں اس طرح خیبر پختونخوا میں سیاسی اختلاف اب گورنر کے آئینی کردار، صوبائی خودمختاری، انسداد دہشت گردی پالیسی اور گورنر راج کے ممکنہ نفاذ جیسے اہم معاملات تک پھیل گیا ہے

قومی خبریں سے مزید