ایس ایم ای کاروباروں کے لیے بینک قرضے 1.137 ٹریلین روپے سے تجاوز کرگئے
پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے بینکوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرضوں کا حجم ستمبر 2026 کے اختتام تک 1.137 ٹریلین روپے سے تجاوز کرگیا ہے، جو جون کے مقابلے میں 23 ارب روپے زیادہ ہے اس دوران قرض لینے والے کاروباروں کی تعداد بھی 25,000 سے زیادہ اضافے کے بعد تقریباً 350,862 ہوگئی
یہ اعداد و شمار وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک اجلاس میں پیش کیے گئے، جس میں پاکستان میں کاروبار، زراعت اور دیگر شعبوں کے لیے مالی سہولتوں تک رسائی کا جائزہ لیا گیا
حکومت نے درمیانی مدت میں ایس ایم ای فنانسنگ کو بڑھا کر 2 ٹریلین روپے کرنے اور قرض لینے والے کاروباروں کی تعداد 775,000 تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے یہ ہدف جون 2028 تک حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس مقصد کے لیے صرف کمرشل بینکوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا بلکہ مائیکروفنانس اداروں اور دیگر مالیاتی اداروں کو بھی ایس ایم ای شعبے تک قرض کی رسائی بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو قرض حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے مالیاتی تربیت، دستاویزات کی تیاری، کاروباری ریکارڈ اور ڈیجیٹل ٹولز تک رسائی بہتر بنائی جائے حکومت کا کہنا ہے کہ صرف قرض کی رقم بڑھانا کافی نہیں بلکہ کاروباروں کو رسمی مالیاتی نظام سے منسلک کرنے کے لیے مکمل ماحول تیار کرنا ضروری ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایک الگ جائزہ اجلاس میں ایس ایم ای شعبے کے لیے مالی سہولتیں بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ایس ایم ای پورٹل کو نومبر کے اختتام تک فعال کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو قرضوں تک رسائی میں آسانی ہو اور بینکوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں کی نگرانی بھی کی جاسکے
حکومت کے مطابق ایس ایم ای شعبے کے لیے قرضوں کی رسائی میں بہتری پاکستان کی نجی شعبے پر مبنی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔ چھوٹے اور درمیانے کاروبار روزگار پیدا کرنے، مقامی پیداوار بڑھانے اور برآمدی سرگرمیوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم انہیں طویل عرصے سے بینک قرضوں کے حصول میں ضمانتوں، دستاویزات، محدود مالیاتی ریکارڈ اور زیادہ خطرے کے تصور جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے
حکومت اب مشترکہ رسک شیئرنگ، سپلائی چین فنانسنگ، مستند کاروباری ڈیٹا کے تبادلے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے قرضوں کے حصول کا عمل آسان بنانے پر کام کررہی ہے اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ چھوٹے قرضوں کے خواہش مند کاروباری افراد کو بار بار بینکوں کی شاخوں کے چکر نہ لگانے پڑیں
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے اختتام تک زراعت کے لیے قرضوں کا حجم بھی 1.35 ٹریلین روپے سے تجاوز کرچکا تھا جبکہ ہاؤسنگ فنانس 426 ارب روپے تک پہنچ گیا اس سے حکومت کی جانب سے کاروبار، زراعت اور رہائش سمیت مختلف شعبوں میں مالیاتی رسائی بڑھانے کی کوششوں کا اندازہ ہوتا ہے
ایس ایم ای فنانسنگ میں موجودہ اضافہ حکومت کے مقرر کردہ 2 ٹریلین روپے کے ہدف کی جانب پیش رفت ہے، تاہم آئندہ مرحلے میں اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ منظور شدہ قرضے حقیقی کاروباری سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار میں کس حد تک تبدیل ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ چھوٹے کاروبار رسمی مالیاتی نظام سے کس طرح منسلک ہوتے ہیں





