فرانس نے افغان شہریوں کی ملک بدری کے لیے طالبان حکومت سے تکنیکی بات چیت شروع کردی
فرانس نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ تکنیکی سطح پر بات چیت شروع کردی ہے تاکہ فرانس میں غیر قانونی طور پر مقیم ان افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجنے کا طریقہ کار آسان بنایا جاسکے جنہیں فرانسیسی حکام عوامی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں
فرانسیسی سفارتی ذرائع کے مطابق یہ بات چیت خاص طور پر ان افغان شہریوں کی براہ راست افغانستان واپسی کو ممکن بنانے کے لیے شروع کی گئی ہے جن کے خلاف فرانس میں ملک چھوڑنے کے احکامات موجود ہیں اور جنہیں عوامی نظم و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے ذرائع نے بتایا کہ اس عمل کا مقصد فرانس میں مقیم تمام افغان شہریوں کو اجتماعی طور پر واپس بھیجنا نہیں بلکہ مخصوص افراد کی واپسی کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے
فرانس نے واضح کیا ہے کہ طالبان سے یہ محدود تکنیکی رابطہ افغانستان کے بارے میں اس کی بنیادی پالیسی میں تبدیلی یا طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے کے مترادف نہیں فرانس نے 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے اور کابل میں فرانسیسی سفارتخانہ بھی بند ہے فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق طالبان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا انحصار افغانستان کی سیاسی صورتحال اور خواتین و بچیوں کے حقوق سمیت انسانی حقوق سے متعلق شرائط پر ہے
فرانس اس معاملے میں یورپ کے تقریباً 20 ممالک کی وسیع تر کوشش کا حصہ بن گیا ہے جو افغانستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا عمل تیز کرنا چاہتے ہیں جرمنی، بیلجیم اور سویڈن سمیت بعض یورپی ممالک خاص طور پر ایسے افغان شہریوں کی واپسی چاہتے ہیں جنہیں عدالتوں سے سنگین جرائم میں سزا ہوچکی ہے یا جو سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں
فرانس اور طالبان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ طالبان کے نمائندے فرانس جاکر براہ راست ان افراد کی واپسی کے معاملات دیکھیں گے یا نہیں فرانسیسی وزارت خارجہ نے اس بارے میں سوالات کا فوری جواب نہیں دیا ایک ذریعے کے مطابق ممکنہ طور پر سینکڑوں افغان شہری اس عمل سے متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم فرانسیسی حکومت نے حتمی تعداد نہیں بتائی
یورپ میں طالبان کے ساتھ اس نوعیت کے رابطوں کا سلسلہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے جرمنی نے اگست میں طالبان حکومت کے نمائندوں کو افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق تکنیکی معاملات پر بات چیت کے لیے اپنے ملک آنے کی اجازت دی تھی، تاہم جرمن حکام نے واضح کیا تھا کہ انہیں سفارتی نمائندوں کی حیثیت حاصل نہیں ہوگی
اس سے قبل برسلز میں بھی یورپی حکام اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان افغان شہریوں کی واپسی سے متعلق بات چیت ہوچکی ہے یورپی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو تسلیم کیے بغیر بھی ایسے عملی معاملات پر رابطہ ضروری ہوسکتا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس رابطے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں
انسانی حقوق کے حوالے سے تشویش کی بڑی وجہ افغانستان میں خواتین اور بچیوں پر طالبان کی عائد کردہ پابندیاں ہیں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کو متعدد سرکاری اور عوامی شعبوں میں کام کرنے سے روکا گیا ہے جبکہ بچیوں کی ثانوی تعلیم بھی شدید طور پر محدود ہے۔ یونیسکو کے مطابق تقریباً 2.4 ملین افغان بچیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں
فرانس کا کہنا ہے کہ ایک طرف وہ مخصوص افغان شہریوں کی واپسی کے لیے طالبان سے تکنیکی رابطہ کررہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ افغانستان کے عوام، خصوصاً خواتین کے لیے انسانی امداد جاری رکھے ہوئے ہے فرانس افغان شہریوں کو بھی پناہ دیتا ہے جو اپنے ملک میں خطرے سے دوچار ہیں
اس معاملے نے فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے لیے ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کردی ہے، جہاں ایک طرف غیر قانونی طور پر مقیم یا جرائم میں سزا یافتہ غیر ملکی شہریوں کی واپسی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کیے بغیر اس کے ساتھ عملی تعاون کرنے پر انسانی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں





