Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مکہ دفاعی اتحاد عملی مرحلے میں داخل، پاکستان اور ترکیہ کی سعودی عرب میں دفاعی معاونت کا فیصلہ

مکہ دفاعی اتحاد عملی مرحلے میں داخل، پاکستان اور ترکیہ کی سعودی عرب میں دفاعی معاونت کا فیصلہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد محض سیاسی معاہدے سے آگے بڑھ کر عملی تعاون کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، تاہم ابھی اسے مکمل طور پر فعال فوجی اتحاد قرار نہیں دیا جاسکتا
5 اکتوبر کو ریاض میں ہونے والے اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع کی ذمہ داریوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا معاہدے کے تحت سعودی عرب میں پہلے سے طے شدہ فوجی فورسز اور دفاعی صلاحیتوں کی تعیناتی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور ان کی تیز رفتار تعیناتی کو یقینی بنایا جائے گا
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ستمبر اور اکتوبر کے دوران یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں، توانائی تنصیبات اور دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ایک حملے میں مدینہ منورہ کو بجلی فراہم کرنے والے ایک پاور اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا
اتحاد کے تحت اب تک سیاسی عزم، ادارہ جاتی قیادت، ریاض میں سیکریٹریٹ، دو کمیٹی اجلاس، تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کی ملاقات اور عملی دفاعی تعاون شروع کرنے کا فیصلہ سامنے آچکا ہے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داری سونپی گئی ہے
تاہم اتحاد کے حوالے سے ابھی کئی بنیادی معاملات واضح نہیں ہیں مستقل فوجی فورس، مشترکہ کمانڈر، مشترکہ جنگی اصول اور واضح فوجی حکمت عملی عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ اسی طرح پاکستان یا ترکیہ کی جانب سے یمن کے اندر حوثیوں کے خلاف براہ راست جنگی کارروائی میں حصہ لینے کی کوئی عوامی منظوری بھی سامنے نہیں آئی
ترکیہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ انقرہ کی موجودہ معاونت بنیادی طور پر سعودی عرب کے لیے دفاعی اور تکنیکی مدد تک محدود ہے، جس میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس تعاون اور دفاعی نظام شامل ہیں
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے ہی مکہ دفاعی معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دے چکے ہیں اور کہا ہے کہ اس کا کوئی جارحانہ ایجنڈا نہیں وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق پاکستانی اور ترک افواج معاون کردار ادا کریں گی جبکہ سعودی افواج حوثیوں کے خلاف جنگی کارروائیاں جاری رکھیں گی
پاکستان کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر حساس ہے کیونکہ 2015 میں پارلیمان نے یمن کی جنگ میں غیر جانب داری اختیار کرنے کی قرارداد منظور کی تھی، تاہم ساتھ ہی کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت یا مکہ اور مدینہ کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا
اسی لیے سعودی سرزمین اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پاکستانی فوجی موجودگی کو اس پالیسی کے مطابق پیش کیا جاسکتا ہے، لیکن یمن کے اندر براہ راست جنگی کارروائی میں پاکستانی فوج کی شمولیت ایک مختلف نوعیت کا فیصلہ ہوگا اور اس کے لیے مزید سیاسی منظوری درکار ہوسکتی ہے
مکہ دفاعی اتحاد کے تینوں ممالک کے مفادات بھی مکمل طور پر یکساں نہیں سعودی عرب اپنی سرزمین اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے مضبوط علاقائی تعاون چاہتا ہے، پاکستان سعودی عرب سے اپنے دیرینہ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے یمن کی ایک اور جنگ میں براہ راست الجھنے سے گریز کرنا چاہتا ہے، جبکہ ترکیہ خطے میں اپنے دفاعی کردار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے قانونی اور سیاسی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھتا ہے
اتحاد کی کامیابی کا اگلا امتحان اس بات سے ہوگا کہ سعودی عرب میں اضافی فضائی دفاع، انٹیلی جنس، نگرانی اور انسداد ڈرون صلاحیتیں کس حد تک تعینات کی جاتی ہیں اور کیا پاکستان یا ترکیہ کی معاونت سعودی حدود سے باہر کسی فوجی کارروائی تک پہنچتی ہے
فی الحال دستیاب معلومات کے مطابق مکہ دفاعی اتحاد کا بنیادی رخ سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ یمن کے اندر براہ راست جنگ میں پاکستانی یا ترک افواج کی شمولیت کا کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا

قومی خبریں سے مزید