برطانیہ کے فوجی اڈے کے واقعے میں ساتویں گرفتاری، ایران سے تعلق کے شبہے کی تحقیقات جاری
برطانوی پولیس نے امریکا کے زیر استعمال اہم فوجی اڈے رائل ایئر فورس فیئر فورڈ کے قریب پیش آنے والے مشتبہ واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں 22 سالہ برطانوی شہری کو گرفتار کرلیا ہے یہ اس معاملے میں ساتویں گرفتاری ہے
انسداد دہشت گردی پولیس کے مطابق گرفتار شخص کو لندن کے ویسٹ منسٹر علاقے سے دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبہے میں حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے اس کے ایک مقام پر تلاشی بھی لی ہے حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لیا جارہا ہے
یہ معاملہ 27 ستمبر کو اس وقت سامنے آیا تھا جب جنوب مغربی انگلینڈ میں واقع فیئر فورڈ اڈے کے قریب 3 مشتبہ گاڑیوں کو روکا گیا۔ پولیس نے 5 افراد کو گرفتار کیا تھا اور علاقے کے رہائشیوں کے ایک حصے کو احتیاطی طور پر گھروں سے نکالا گیا تھا گاڑیوں سے کچھ مقدار میں پٹرول ملا تھا تاہم کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا
بعد میں ایک 25 سالہ برطانوی ایرانی دوہری شہریت رکھنے والے شخص کو بھی گرفتار کیا گیا تھا یوں تازہ گرفتاری سے پہلے اس معاملے میں 6 افراد حراست میں لیے جاچکے تھے ان تمام 6 افراد کو پولیس نے ضمانت پر رہا کردیا ہے اور ابھی تک کسی پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی
فیئر فورڈ اڈہ اس لیے انتہائی اہم ہے کہ اسے امریکی فوج اپنے بھاری بمبار طیاروں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔ حالیہ ایران جنگ کے دوران بھی امریکی طیاروں نے اس اڈے سے کارروائیاں کیں امریکی حکام کے مطابق ایران سے منسلک ممکنہ خطرے کے خدشے کے بعد امریکا نے اپنے بی 1 بمبار طیارے اڈے سے واپس امریکا منتقل کردیے
برطانوی حکام نے اس واقعے میں ایران کے ممکنہ کردار کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا ہے وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا تھا کہ ایسے مضبوط اشارے موجود ہیں کہ ایران نے اس واقعے میں کردار ادا کیا ہوسکتا ہے، تاہم تہران نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ بمبار طیاروں کو اڈے سے منتقل کرنے کی وجہ ایک خطرہ تھا اور ان کے بقول اس خطرے کا تعلق ایران سے ہوسکتا ہے تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مخصوص خطرے کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کیا ہے
برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ اور جاری تحقیقات ہے اور تفتیش کار واقعے کے محرکات اور ممکنہ بیرونی روابط سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں پولیس نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک واقعے کی اصل نوعیت اور گرفتار افراد کے مبینہ کردار کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا






