بیرون ملک لاپتا 50 سے زائد پاکستانیوں کا معاملہ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت سے رپورٹ طلب کرلی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ 3 برس کے دوران بیرون ملک جانے کے بعد لاپتا ہونے والے 50 سے زائد پاکستانیوں کے بارے میں وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کی موجودہ صورتحال اور whereabouts سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے عدالت نے وزارت خارجہ کو متعلقہ ممالک میں قونصلر تحقیقات شروع کرنے اور پاکستانی شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے ذریعے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے
جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری افضل حسین کی درخواست کی سماعت کی درخواست گزار کا تعلق منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ سے بتایا گیا ہے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ علاقے کے 50 سے زائد نوجوان گزشتہ 3 برس کے دوران روزگار کی تلاش میں غیر معمولی اور غیر قانونی راستوں سے بیرون ملک گئے، لیکن ان کے اہل خانہ کو ان کے بارے میں کوئی قابل اعتماد اطلاع نہیں مل سکی
عدالت کو بتایا گیا کہ ان نوجوانوں میں منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد اور دیگر علاقوں کے افراد شامل ہیں درخواست گزار کے وکیل کے مطابق متعدد نوجوان اپریل 2024 سے جنوری 2025 کے دوران افریقی ملک موریطانیہ سے مختلف کشتیوں کے ذریعے اسپین جانے کی کوشش میں روانہ ہوئے تھے، لیکن وہ اپنی منزل تک پہنچے یا نہیں، اس بارے میں خاندانوں کے پاس کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وزارت خارجہ کو متعلقہ ممالک میں قونصلر تحقیقات کرانے اور پاکستانی سفارت خانوں و قونصل خانوں کو لاپتا شہریوں کا سراغ لگانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی جائے اس کے علاوہ امیگریشن، سفری دستاویزات اور دیگر دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کی بھی درخواست کی گئی تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ افراد کس راستے سے بیرون ملک گئے اور اس کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا
وکیل نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ لاپتا پاکستانی کسی ملک میں پھنسے ہوئے ہیں، انہیں گرفتار یا ملک بدر کیا گیا ہے، یا وہ کسی اور قانونی یا غیر قانونی حیثیت میں بیرون ملک موجود ہیں اگر کسی شہری کے حوالے سے مجرمانہ سرگرمی کا معاملہ سامنے آئے تو متعلقہ اداروں کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی بھی ہدایت کی جائے
سماعت کے دوران عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر طلب کیا اور انہیں معاملے کا جائزہ لے کر آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی 2 نومبر تک ملتوی کردی
یہ معاملہ اس خطرے کی بھی نشاندہی کرتا ہے جس کا سامنا پاکستانی نوجوان بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کی کوشش میں غیر قانونی یا غیر محفوظ راستوں کا انتخاب کرتے ہوئے کرتے ہیں خاص طور پر سمندری راستوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش میں انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں لٹنے، گرفتار ہونے، سمندر میں حادثات کا شکار ہونے یا لاپتا ہوجانے کے خطرات انتہائی زیادہ ہوتے ہیں
عدالت میں پیش کیے گئے معاملے میں اب حکومت اور وزارت خارجہ کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ لاپتا ہونے والے 50 سے زائد پاکستانی شہری کہاں ہیں، وہ زندہ اور محفوظ ہیں یا نہیں، اور اگر کسی ملک میں گرفتار یا زیر حراست ہیں تو ان کی قانونی حیثیت کیا ہے





