فضل الرحمان کا حکومت کو پی ٹی آئی مارچ نہ روکنے کا مشورہ
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی طرف بڑھنے والے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کرے اور سیاسی احتجاج کو جمہوری حق کے طور پر تسلیم کرے
اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ کے باہر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں پرامن احتجاج کی یقین دہانی کراتی ہیں تو حکومت کو ان کے مؤقف پر اعتماد کرنا چاہیے ان کے مطابق ہر سیاسی جماعت کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کا حق حاصل ہے
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوسکتے تھے، لیکن ان کے بقول پس پردہ قوتوں کی مداخلت نے بات چیت کے عمل کو متاثر کیا انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ لچک دکھانا پڑتی ہے
اپوزیشن رہنماؤں کے ایک وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی وفد میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا اور دیگر رہنما شامل تھے جبکہ جے یو آئی ف کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے علاوہ سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر رہنما موجود تھے
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے بعض ارکان کی حب الوطنی پر سوال اٹھائے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی ملک سے وفادار ہیں اور آئین اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے مطابق ملک کے سیاسی ماحول میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور کسی کی حب الوطنی کو مشکوک بنانا سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھائے گا
جے یو آئی ف کے سربراہ نے بتایا کہ انہیں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی کے اندر مشاورت کی جائے گی اور کوشش ہوگی کہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک مشترکہ ایجنڈا سامنے آئے
خیبر پختونخوا میں ممکنہ انسداد دہشت گردی آپریشن کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سوات سے وزیرستان تک کئی فوجی آپریشن ہوچکے ہیں، لیکن بدامنی سے متاثرہ علاقوں کے بہت سے لوگ اب بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے نام پر مزید کتنے عرصے تک آپریشن کیے جاتے رہیں گے
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت بدامنی کی وجہ سے مفلوج ہوچکی ہے اور صوبے کی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے انہوں نے حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کی بھی مخالفت کی
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ملک کو درپیش مشکلات سے لاتعلق نہیں رہ سکتیں اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ان کے مطابق جہاں سیاسی عمل رک جاتا ہے وہاں انتہا پسند رجحانات کو فروغ ملتا ہے
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے عوام اور ریاست کے درمیان خلیج پیدا ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جدوجہد آئین اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہے اور پی ٹی آئی اس سیاسی جدوجہد کو جاری رکھے گی
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے اور وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں مظاہرین کے داخلے کو روکنے کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان نے سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے





