Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

عدالتی اعتراض کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی پر فرد جرم عائد

عدالتی اعتراض کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی پر فرد جرم عائد

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ رکاوٹ اور عوام کو بدامنی پر اکسانے کے مقدمے میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حازر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کردی، حالانکہ دفاع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مقدمے کی قانونی کارروائی کی تمام ضروریات ابھی مکمل نہیں ہوئیں
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کارروائی کی، جس میں دونوں ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔ ہادی علی چٹھہ نے فرد جرم عائد کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک مقدمے کی دستاویزات کی نقول فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے سے پہلے فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی
دفاع کی وکیل زینب جنجوعہ نے بھی عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو مقدمے کے ریکارڈ کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور انہیں اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی ان کا مؤقف تھا کہ ایسی صورتحال میں فرد جرم عائد کرنے کے لیے ضروری قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے
دفاع کے اعتراضات کے باوجود عدالت نے دونوں کے خلاف فرد جرم عائد کردی۔ جج طاہر عباس سپرا نے دفاع کو بتایا کہ اگر وہ چاہیں تو اس عدالتی حکم کو چیلنج کر سکتے ہیں
عدالت نے آئندہ سماعت پر دونوں ملزمان کو جسمانی طور پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے استغاثہ کے گواہوں کو بھی 9 اکتوبر کو طلب کرلیا مقدمے کی مزید سماعت بھی 9 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی
یہ مقدمہ اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کی آمد کے موقع پر سکیورٹی روٹ میں مبینہ رکاوٹ اور عوام کو احتجاج پر اکسانے کے الزام سے متعلق ہے۔ مقدمہ آبپارہ تھانے میں درج کیا گیا تھا
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اس سے قبل بھی عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر چکے ہیں انہیں 23 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے مبینہ بدسلوکی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اس کے ایک روز بعد سیشن عدالت نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں پیکا کے تحت مختلف دفعات میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی
اس سزا پر وکلا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین کی جانب سے بھی تنقید کی گئی تھی 17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے ان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اپیلوں پر حتمی فیصلے تک انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا
تاہم رہائی کے چند ہی گھنٹوں بعد اسلام آباد پولیس نے دونوں کو ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا انہیں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے دونوں کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا
موجودہ مقدمے میں ابتدا میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل نہیں تھیں مقدمے کی ایف آئی آر میں سرکاری حکم کی خلاف ورزی، راستہ روکنے، دھمکی، سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور سرکاری ملازم پر مبینہ حملے سے متعلق دفعات شامل کی گئی تھیں بعد میں مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت میں پہنچا
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی قانونی کارروائی کے دوران جیل حکام کے حوالے سے بھی متعدد اعتراضات سامنے آ چکے ہیں گزشتہ ہفتے عدالت نے وکالت ناموں پر دستخط اور وکلا تک رسائی کے معاملے پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھا

قومی خبریں سے مزید