Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کیوبیک کے انتخابی نتائج سے البرٹا کے علیحدگی پسندوں کو تقویت، کینیڈا کی وحدت پر بحث تیز

کیوبیک کے انتخابی نتائج سے البرٹا کے علیحدگی پسندوں کو تقویت، کینیڈا کی وحدت پر بحث تیز

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں علیحدگی کی حامی جماعت پارتی کیبیکوا کی انتخابی کامیابی نے البرٹا کی آزادی کے حامیوں کو بھی حوصلہ دیا ہے البرٹا میں علیحدگی کی تحریک چلانے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کیوبیک کے انتخابی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے ناراض حلقے صرف البرٹا تک محدود نہیں ہیں یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب البرٹا میں 19 اکتوبر کو ہونے والی رائے شماری میں ووٹرز سے کینیڈا میں رہنے یا علیحدگی کے عمل کو آگے بڑھانے کے سوال پر رائے لی جائے گی
البرٹا کی علیحدگی کی تحریک چلانے والے البرٹا پراسپیرٹی پروجیکٹ کے سربراہ مچ سلویسٹر نے کہا کہ کیوبیک میں علیحدگی پسند جماعت کی کامیابی سے ان کے مؤقف کو تقویت ملی ہے ان کے بقول، اب ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ البرٹا اس معاملے میں اکیلا کھڑا ہے، کیونکہ کیوبیک بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان نتائج سے ملک بھر میں وفاقی حکومت کے ساتھ صوبوں کے اختلافات پر مزید بحث شروع ہوگی
کیوبیک میں پارتی کیبیکوا نے صوبائی انتخابات میں 127 میں سے 59 نشستیں حاصل کیں، تاہم حکومت بنانے کے لیے درکار 64 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اس کے باوجود جماعت کی کامیابی نے صوبے کی آزادی کے سوال کو دوبارہ سیاسی ایجنڈے پر نمایاں کر دیا ہے جماعت کے رہنما پال سینٹ پیئر پلامونڈن نے مستقبل میں کینیڈا سے علیحدگی کے معاملے پر تیسرا ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں رہنے تک وہ ایسا ریفرنڈم نہیں کرائیں گے
سیاسی ماہرین کے مطابق، اگرچہ کیوبیک اور البرٹا دونوں میں وفاقی حکومت سے ناراضی اور خودمختاری کے مطالبات پائے جاتے ہیں، لیکن دونوں تحریکوں کی بنیادی وجوہات مختلف ہیں البرٹا میں اختلافات کا تعلق بڑی حد تک تیل اور گیس کی صنعت، وفاقی ماحولیاتی پالیسیوں، توانائی کے منصوبوں اور صوبے کے مالی و سیاسی اختیارات سے ہے اس کے برعکس کیوبیک کی علیحدگی پسند تحریک کی تاریخی بنیاد فرانسیسی زبان، ثقافت اور فرانسیسی بولنے والی آبادی کی شناخت کا تحفظ ہے
البرٹا میں علیحدگی کے حامیوں کا خیال ہے کہ کیوبیک میں نئی حکومت کے قیام سے صوبائی خودمختاری اور آزادی کی تحریکوں کو قومی سطح پر زیادہ سیاسی اہمیت مل سکتی ہے کیوبیک کے نئے سیاسی رہنما پہلے بھی البرٹا کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں، جسے البرٹا کے علیحدگی پسند اپنے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھتے ہیں تاہم، کیوبیک کے انتخابی نتائج کو البرٹا میں علیحدگی کے حق میں عوامی حمایت کا براہ راست ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ دونوں صوبوں کے ووٹروں کے سیاسی رجحانات، معاشی مفادات اور آئینی ترجیحات الگ ہیں البرٹا میں آئندہ رائے شماری کے نتائج یہ واضح کرنے میں مدد دیں گے کہ علیحدگی کے حامیوں کو عوامی سطح پر کتنی حمایت حاصل ہے اور آیا اس معاملے کو باقاعدہ ریفرنڈم تک لے جانے کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے
اس صورت حال نے وزیر اعظم مارک کارنی کی وفاقی حکومت کے لیے بھی قومی وحدت کا معاملہ اہم بنا دیا ہے اگر دونوں صوبوں میں علیحدگی کی بحث مزید زور پکڑتی ہے تو وفاقی حکومت کو صوبائی اختیارات، توانائی کی پالیسی، معاشی مفادات اور قومی یکجہتی سے متعلق اختلافات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم، فی الحال کیوبیک کی انتخابی کامیابی اور البرٹا کی علیحدگی پسند تحریک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کو کینیڈا کی تقسیم کا حتمی اشارہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا

قومی خبریں سے مزید