Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت، مگر راستے میں کس کا حکم؟ لانگ مارچ وفاق اور صوبے کی اختیارات کا سنگین بحران سامنے لے آیا، اٹک پر کے پی، پنجاب، وفاق اور فوج کا امتحان ہوگا

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت، مگر راستے میں کس کا حکم؟ لانگ مارچ وفاق اور صوبے کی اختیارات کا سنگین بحران سامنے لے آیا، اٹک پر کے پی، پنجاب، وفاق اور فوج کا امتحان ہوگا

پشاور :تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد خیبر پختونخوا سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اب محض ایک سیاسی احتجاج نہیں رہا بلکہ اس نے ایک بنیادی آئینی اور سیاسی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر خیبر پختونخوا میں حکومت کس کی ہے اور انتظامی اختیار کس کے پاس ہے؟
تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی تحریک انصاف کے رہنما ہیں، صوبائی اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے، لیکن جیسے ہی پارٹی نے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا، سڑکوں پر کنٹینرز، رکاوٹیں، موبائل اور انٹرنیٹ کی بندش، دفعہ 144 اور انتظامی پابندیاں سامنے آنے لگیں،اس صورتحال نے بیرسٹر گوہر اور دیگر رہنماؤں کے اس الزام کو تقویت دی ہے کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت موجود ہونے کے باوجود چیف سیکریٹری، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے انتظامی فیصلوں پر وفاقی دباؤ موجود ہے
تاہم یہاں ایک اہم قانونی فرق بھی سمجھنا ضروری ہے،ہر رکاوٹ کا براہ راست حکم اسلام آباد سے آنا ثابت نہیں ہوا،دفعہ 144 صوبائی انتظامیہ یا متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ذریعے نافذ ہو سکتی ہے اور بعض معاملات میں محکمہ داخلہ بھی احکامات جاری کرتا ہے،مثال کے طور پر خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ نے ماضی میں بھی مختلف اضلاع میں دفعہ 144 کے احکامات جاری کیے ہیں،اس لیے صرف دفعہ 144 کی موجودگی سے یہ حتمی نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوگا کہ ہر حکم وفاقی حکومت نے دیا ہے،لیکن موجودہ صورتحال میں جب صوبائی حکومت خود لانگ مارچ کی قیادت کر رہی ہے اور اسی صوبے کے انتظامی ڈھانچے کے بعض حصے اس مارچ کی نقل و حرکت محدود کر رہے ہیں، تو صوبائی حکومت اور انتظامی مشینری کے درمیان ایک غیر معمولی اختیاری تضاد ضرور سامنے آتا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے صوبائ انتظامیہ صوبے کی حکومت کی بجائے حکم کہیں اور سے لیتی اور مانتی ہے
یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہو گیا جب سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا قافلہ راستے کی رکاوٹوں اور امن و امان کی صورتحال کے باعث یارک کے مقام سے واپس مڑ گیا،میڈیا کے مطابق اس علاقے میں تین روز کے لیے دفعہ 144 نافذ تھی، تاہم امین گنڈا پور کے بارے میں تحریک انصاف کے کارکنوں کا الزام ہے گنڈا پور بھی کسی اور کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے واپس گھر لوٹے
دوسری طرف پنجاب نے پہلے ہی خیبر پختونخوا سے اسلام آباد جانے والے اہم راستوں، خصوصاً اٹک اور ٹیکسلا کے اطراف میں کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل فیصلہ کن مرحلہ ابھی شروع ہی نہیں ہوا،پشاور تک پہنچنا نسبتاً آسان مرحلہ ہے، اصل امتحان خیبر پختونخوا سے پنجاب میں داخل ہونے کا ہے
مذاکرات کیوں ٹوٹے؟
تحریک انصاف کے سلمان اکرم راجہ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مذاکرات کا آخری تنازعہ صرف لانگ مارچ کا نہیں تھا،ایک طرف خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے متعلق مسودے کی زبان پر اختلاف ہوا اور دوسری طرف عمران خان تک ذاتی معالج اور دیگر ڈاکٹروں کی رسائی کا معاملہ فیصلہ کن بن گیا
تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف مسودے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ’’متفقہ اور مشاورت‘‘ کی زبان شامل کرنے کی تجویز دی، مگر حکومت نے اسے قبول نہیں کیا،اس کے ساتھ عمران خان سے ڈاکٹر کی ملاقات نہ ہونے کو پارٹی نے بنیادی انسانی اور سیاسی مسئلہ قرار دیا
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کا مرکزی تنازعہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی اور خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون سے متعلق تھا،رائٹرز کے مطابق مذاکرات اسی اختلاف پر تعطل کا شکار ہوئے اور حکومت نے لانگ مارچ روکنے کے لیے پہلے ہی اسلام آباد سمیت اہم راستوں پر بڑے پیمانے پر سکیورٹی اقدامات کیے تھے
یہاں ایک سیاسی نکتہ بہت اہم ہے،تحریک انصاف کے لیے عمران خان تک ڈاکٹر کی رسائی صرف طبی معاملہ نہیں بلکہ اعتماد کا مسئلہ بن چکا ہے،پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپنے ہی مذاکراتی مسودے میں تبدیلیاں کر سکتی ہے، عمران خان تک ڈاکٹروں کی رسائی نہیں دیتی اور دوسری جماعتیں اپنے سربراہوں کی منظوری کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتیں تو PTI بھی عمران خان کی منظوری کے بغیر کسی سمجھوتے کی پابند نہیں ہوسکتی
اب تک دستیاب آزاد بین الاقوامی رپورٹنگ کے مطابق لانگ مارچ کے ابتدائی مرحلے میں 5,000 سے زیادہ افراد شریک تھے،ایسوسی ایٹڈ پریس نے 4 اکتوبر کو شروع ہونے والے قافلے کی تعداد 5,000 سے زائد بتائی، جبکہ اے ایف پی اور الجزیرہ کی رپورٹنگ میں بھی 5,000 سے زیادہ افراد کا ذکر آیا
یہ تعداد PTI کے سیاسی دعووں سے کہیں کم ہے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے آج دعویٰ کیا کہ PTI نے دو ملین افراد کا دعویٰ کیا ہے لیکن وہ تعداد دکھانے میں ناکام رہی ہے،ان کا کہنا ہے کہ مارچ کو اٹک سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا
لیکن ابتدائی 5,000 کو حتمی تعداد سمجھنا بھی غلط ہوگا، کیونکہ PTI کا منصوبہ ایک ہی مقام سے لوگوں کو جمع کرنا نہیں بلکہ راستے کے مختلف اضلاع سے قافلے شامل کرنا ہے،کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے کارکن 6 اکتوبر کو شامل ہونے ہیں، پشاور اور خیبر کے کارکن 7 اکتوبر کو، جبکہ چارسدہ اور مہمند کے قافلے 8 اکتوبر کو شامل ہوں گے
اس لیے پشاور کے قریب تعداد 5,000 سے خاصی زیادہ ہونے کا امکان ہے، لیکن اس وقت سیکڑوں ہزار یا لاکھوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں،واشنگٹن پوسٹ، اے پی اور دیگر بین الاقوامی رپورٹنگ بھی PTI کے بڑے عوامی دعووں کے مقابلے میں ابتدائی طور پر ہزاروں کی تعداد ہی بتا رہی ہے
کیا واقعی بین الاقوامی میڈیا لانگ مارچ کے ساتھ ہے؟
یہاں ’’بین الاقوامی میڈیا ساتھ ہے‘‘ اور ’’بین الاقوامی میڈیا اس کی کوریج کر رہا ہے‘‘ میں بڑا فرق ہے
کوریج واقعی ہو رہی ہے اور خاصی نمایاں ہے،رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، واشنگٹن پوسٹ، گارڈین، الجزیرہ، اے ایف پی اور ڈی ڈبلیو سمیت بڑے بین الاقوامی اداروں نے لانگ مارچ، مذاکرات کی ناکامی، عمران خان کی قید، طبی رسائی، حکومتی رکاوٹوں اور اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کو رپورٹ کیا ہے
خصوصاً اے پی کی رپورٹ میں 5,000 سے زیادہ افراد کے لانگ مارچ شروع کرنے، راستے میں رکاوٹوں اور PTI کے مزید بڑے اجتماع کے دعووں کا ذکر ہے،واشنگٹن پوسٹ نے بھی مارچ کے آغاز اور اسلام آباد کے راستوں پر کنٹینرز کی تفصیل دی
لیکن اس بات کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ملا کہ ’’بین الاقوامی میڈیا‘‘ بحیثیت مجموعی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا ہے،زیادہ درست صحافتی جملہ یہ ہوگا کہ بین الاقوامی میڈیا اس مارچ کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے ایک اہم واقعے کے طور پر مسلسل کور کر رہا ہے
PTI کے موجودہ شیڈول کے مطابق قافلہ 6 اکتوبر کو کوہاٹ سے پشاور کی طرف بڑھے گا اور رات متنی کے قریب قیام متوقع ہے7، اکتوبر کو بڈھا بیر اور پشاور کے مختلف علاقوں سے مزید کارکن شامل ہوں گے اور قافلہ چارسدہ انٹرچینج کی طرف جائے گا،8 اکتوبر کو چارسدہ اور مہمند کے قافلے شامل ہوں گے اور تمام بڑے قافلوں کو خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحد کے قریب خیرآباد میں جمع ہونا ہے
یعنی اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ ’’کل اسلام آباد پہنچ جائیں گے‘‘ تو یہ موجودہ سرکاری یا PTI شیڈول کے مطابق درست نہیں،8 اکتوبر تک PTI کا واضح ہدف خیرآباد ہے، اسلام آباد نہیں
خیرآباد اور اٹک ایک ہی مقام نہیں،خیرآباد خیبر پختونخوا اور پنجاب کی سرحدی گزرگاہ ہے، جبکہ اٹک پنجاب میں ہے،گورنر خیبر پختونخوا نے آج صاف کہا ہے کہ مارچ کو اٹک سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا
اس لیے موجودہ شیڈول کی بنیاد پر 8 اکتوبر کو خیرآباد پہنچنا زیادہ یقینی ہے، جبکہ اٹک عبور کرنے اور اس کے بعد اسلام آباد جانے کا وقت ابھی طے نہیں،خود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی آخری مرحلے کا روٹ ظاہر نہیں کیا اور کہا ہے کہ خیرآباد پہنچ کر اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا
یہی دراصل اس لانگ مارچ کا سب سے بڑا سیاسی موڑ ہوگا
اگر قافلہ 8 اکتوبر کو خیرآباد پہنچ جاتا ہے اور اس کے بعد پنجاب میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو پھر مقابلہ صرف PTI اور وفاقی حکومت کے درمیان نہیں رہے گا بلکہ خیبر پختونخوا کی PTI حکومت، پنجاب کی انتظامیہ، وفاقی وزارت داخلہ، پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اختیارات ایک ہی مقام پر آمنے سامنے ہوں گے
اس پورے بحران کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ لانگ مارچ میں 5,000 لوگ ہیں یا 50,000
اصل سوال یہ ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایک منتخب صوبائی حکومت خود ایک سیاسی مارچ کی قیادت کر رہی ہے تو اس صوبے کے چیف سیکریٹری، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران کس آئینی کمانڈ کے تحت فیصلے کر رہے ہیں؟
اگر صوبائی حکومت کہتی ہے کہ مارچ پرامن ہے لیکن ضلعی انتظامیہ اسی مارچ کے راستے بند کرتی ہے تو صوبائی حکومت کو عوام کے سامنے یہ بتانا ہوگا کہ یہ احکامات کس نے دیے،اگر احکامات صوبائی محکمہ داخلہ یا ضلعی انتظامیہ نے اپنے اختیار کے تحت دیے تو پھر PTI کی شکایت کا رخ وفاق کے بجائے اپنے ہی انتظامی ڈھانچے کی طرف بنتا ہے،لیکن اگر ثبوت سامنے آتا ہے کہ انتظامی افسران کو براہ راست وفاقی یا کسی غیر منتخب مرکز سے ہدایات مل رہی تھیں تو پھر یہ پاکستان میں وفاق اور صوبے کے اختیارات کے ایک کہیں زیادہ سنگین بحران کی نشاندہی ہوگی
اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں بیرسٹر گوہر کا سوال سیاسی نعرے سے بڑھ کر آئینی سوال بن جاتا ہے
خیبر پختونخوا میں حکومت PTI کی ہے، مگر اگر حکومت اپنے صوبے میں اپنی ہی سیاسی سرگرمی کے راستے محفوظ نہیں بنا سکتی تو پھر اصل اختیار کس کے پاس ہے؟
دوسری طرف وفاقی حکومت کا مؤقف بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،خیبر پختونخوا اس وقت شدید دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، اور حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے ماحول میں ایک بڑے سیاسی اجتماع کے سکیورٹی خطرات موجود ہیں،گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی آج یہی دلیل دیتے ہوئے ممکنہ شرپسندی اور دہشت گردی کے خطرے کا سوال اٹھایا ہے
چنانچہ آنے والے 48 گھنٹے فیصلہ کن ہیں،پشاور تک مارچ کی کامیابی PTI کے لیے سیاسی طاقت کا مظاہرہ ہوگی، لیکن خیرآباد، اٹک اور اس کے بعد اسلام آباد کی طرف پیش قدمی اصل امتحان ہوگا،حکومت اگر اٹک پر روکنے کا فیصلہ نافذ کرتی ہے اور PTI اسے توڑنے کی کوشش کرتی ہے تو سیاسی مذاکرات کی ناکامی ایک عملی تصادم میں بدل سکتی ہے،اور اگر PTI بڑی تعداد میں مزید کارکن جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حکومت کے لیے صرف انتظامی رکاوٹوں کے ذریعے بحران کو ختم کرنا مزید مشکل ہو جائے گا
اس وقت دستیاب آزاد اعداد و شمار کی بنیاد پر 5,000 سے زائد افراد کی ابتدائی شرکت قابل تصدیق ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق سہیل آفریدی کی سربراہی میں نکلنے والے مارچ کے شرکاء کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے ، جبکہ پشاور میں تعداد اس سے کہیں زیادہ بڑھنے کا امکان ہے، لیکن لاکھوں کی تعداد کا دعویٰ ابھی آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا،بین الاقوامی میڈیا کی دلچسپی البتہ حقیقی اور نمایاں ہے، اور اس مارچ کو اب پاکستان کے ایک بڑے سیاسی و سکیورٹی بحران کے طور پر دنیا بھر میں رپورٹ کیا جا رہا ہے، اسی کے ساتھ وفاقی حکومت کی گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی دھمکیوں کے جواب میں تحریک انصاف کی قیادت کے ساتھ وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے “ گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کا شوق بھی پورا کرلیں، ہم آپ کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے، اسی کے ساتھ ہی پاکستانی سیاسی حلقوں میں عمران خان کے بلڈ پریشر بڑھنے اور لندن سے کسی پاکستانی ڈاکٹر کو خفیہ طور پر مدعو کرنے علاجِ کرانے کی اطلاعات نہ صرف گردش کررہی ہیں بلکہ اس پر گرما گرم بحث کا آغاز بھی ہوچکا ہے

قومی خبریں سے مزید