پاکستان کا فتح 4: 750 کلومیٹر کی مار، مگر غربت اور بھوک کے بیچ ایک مہنگا سوال، دشمن بھارت یا اپنی بے بس عوام؟
راولپنڈی: پاکستان نے فتح 4 کروز میزائل کے توسیعی ورژن کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جسے فوج نے مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے لانچ ہونے والا کروز میزائل قرار دیتے ہوئے جدید ایویونکس، جدید نیوی گیشنل نظام، زیادہ درستگی اور بہتر بقا کی صلاحیتوں سے لیس بتایا ہے،تاہم اس تجربے نے صرف پاکستان کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت کا سوال نہیں اٹھایا بلکہ ایک غریب اور شدید معاشی و سماجی مشکلات میں گھرے ملک میں دفاعی ترجیحات پر ایک زیادہ بنیادی سوال بھی کھڑا کردیا ہے،پاکستان آخر اپنی بڑھتی ہوئی میزائل طاقت کس کو روکنے کے لیے بنا رہا ہے اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟
فتح 4 کی پہلے ظاہر کی گئی معلومات کے مطابق اس میزائل کی بنیادی رینج تقریباً 750 کلومیٹر ہے، جبکہ اس کی پرواز انتہائی کم بلندی پر زمین کے خدوخال کے ساتھ چلنے کے لیے بنائی گئی ہے،جینز کے مطابق اس کا وزن تقریباً 1,530 کلوگرام، رفتار تقریباً 0.7 میک اور وارہیڈ تقریباً 330 کلوگرام بتایا گیا ہے،پاکستان نے آج کے تجربے میں توسیعی ورژن کی اضافی کارکردگی کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں، اس لیے اس نئے ورژن کی اصل زیادہ سے زیادہ مار ابھی سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئی
فتح 4 کی فی میزائل لاگت بھی پاکستان نے سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی،دفاعی تجزیوں میں اسے نسبتاً کم لاگت پر بڑی تعداد میں تیار کیے جانے والے روایتی میزائل نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن فی یونٹ قیمت کا کوئی قابل اعتماد سرکاری یا آزادانہ مستند تخمینہ دستیاب نہیں،اس لیے لاکھوں یا کروڑوں ڈالر کی کوئی مخصوص رقم بیان کرنا محض قیاس ہوگا،اصل مالی بوجھ صرف ایک میزائل کی قیمت نہیں بلکہ اس کے تحقیق و ترقی، پیداواری مراکز، لانچرز، کمانڈ اینڈ کنٹرول، تربیت، ذخیرہ، نگرانی اور مسلسل تیاری کے پورے نظام پر آتا ہے
فوجی اعتبار سے فتح 4 کا سب سے واضح اسٹریٹجک حوالہ بھارت ہے،750 کلومیٹر کی رینج پاکستان کے اندر نسبتاً محفوظ مقامات سے بھارت کے اندر گہرے اہداف تک روایتی حملے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے،دفاعی تجزیوں کے مطابق یہ صلاحیت پاکستان کی اس نئی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں جوہری ہتھیاروں کی سطح تک پہنچے بغیر بھارت کے خلاف روایتی طویل فاصلے کی جوابی کارروائی کی گنجائش بڑھائی جائے،پاکستان نے 2025 کی بھارت کے ساتھ جنگ کے بعد اپنے روایتی میزائل ڈھانچے پر خاص توجہ دی ہے اور اسی سلسلے میں آرمی راکٹ فورس کمانڈ بھی قائم کی گئی
لیکن یہاں ایک بنیادی حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی،2026 کے دستیاب دفاعی تخمینوں میں بھارت کا سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 109 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کا تقریباً 9.1 ارب ڈالر بتایا گیا ہے،یعنی مجموعی رقم کے اعتبار سے بھارت کا دفاعی خرچ پاکستان سے تقریباً 12 گنا بنتا ہے، اگرچہ مختلف ممالک کے بجٹ کے حساب اور تعریفوں میں فرق موجود ہوتا ہے،اسی طرح گلوبل فائر پاور کے مطابق بھارت کی فعال فوج تقریباً 14 لاکھ 31 ہزار جبکہ پاکستان کی تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار ہے
یہی وہ مقام ہے جہاں فتح 4 کی کہانی محض ایک فوجی کامیابی نہیں رہتی بلکہ پاکستان کی قومی ترجیحات کا آئینہ بن جاتی ہے
ایک طرف پاکستان ایک ایسے حریف کے ساتھ روایتی فوجی مقابلے میں ہے جس کی معیشت، دفاعی صنعت، فوجی افرادی قوت اور مجموعی دفاعی وسائل اس سے کہیں زیادہ ہیں،دوسری طرف اسی پاکستان میں اقوام متحدہ کے مطابق 60 فیصد سے زیادہ آبادی صحت مند غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی اور تقریباً 16.5 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے،اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں بھی 23 فیصد آبادی بین الاقوامی انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے تھی، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے یہ تعداد چالیس فیصد سے زیادہ اور ملکی معشیت دان پچاس فیصد سے بھی زیادہ آبادی کو غربت کی لکیر سے نیچے بتاتے ہیں
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ میزائل صرف جنگی ہتھیار نہیں ہوتے،ان کے پیچھے ریاستی ترجیحات ہوتی ہیں،ایک میزائل پروگرام کے لیے انجینئرز، سائنس دان، صنعتی ادارے، درآمدی پرزے، فیکٹریاں، ٹیسٹنگ، تربیت، لانچنگ نظام، کمانڈ نیٹ ورک اور مسلسل مالی وسائل درکار ہوتے ہیں،جب ایک ملک اپنی محدود قومی آمدنی میں سے دفاعی صلاحیت کو مسلسل بڑھاتا ہے تو اس کے سامنے لازماً یہ سوال بھی کھڑا ہوتا ہے کہ تعلیم، صحت، غذائی تحفظ، روزگار، انصاف اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کے لیے کتنے وسائل بچتے ہیں
پاکستان کے مسئلے کی سنگینی صرف غربت نہیں،ملک کو سیاسی تقسیم، دہشت گردی، بلوچستان میں شورش، خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی، کمزور حکمرانی، معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی عدم اعتماد جیسے متعدد خوفناک بحرانوں کا سامنا ہے،ایسے ماحول میں میزائل کی کامیابی بلاشبہ فوجی سائنس اور انجینئرنگ کی کامیابی ہوسکتی ہے، مگر اسے قومی ترقی کی کامیابی قرار دینا ایک مختلف سوال ہے
پاکستانی ریاست کا مؤقف یہ ہے کہ بھارت کی فوجی برتری کے مقابلے میں قابل اعتماد دفاعی اور جوابی حملے کی صلاحیت ضروری ہے،یہ دلیل اپنی جگہ موجود ہے،ایٹمی ہتھیاروں کے باوجود روایتی جنگ کا امکان ختم نہیں ہوا، اور 2025 کی پاک بھارت لڑائی نے یہ حقیقت مزید واضح کردی کہ دونوں ملکوں کے درمیان روایتی فوجی صلاحیت اب بھی اہم ہے،اسی لیے فتح 4 کو محض ایک راکٹ نہیں بلکہ پاکستان کی نئی روایتی جنگی حکمت عملی کا حصہ سمجھنا زیادہ درست ہوگا
مگر سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے ساتھ اسلحے کی دوڑ میں پاکستان کبھی بھارت کو اس کی اپنی شرائط پر شکست دے سکتا ہے؟ اگر ایک طرف بھارت کے پاس پاکستان سے کئی گنا زیادہ دفاعی وسائل اور کہیں بڑی افرادی قوت ہے اور دوسری طرف پاکستان کو اپنی معیشت، غربت، غذائی قلت اور انسانی ترقی کے بنیادی مسائل سے بھی نمٹنا ہے تو محض مزید میزائل اس بنیادی عدم توازن کو ختم نہیں کرسکتے
اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں فتح 4 کا تجربہ ایک تلخ سوال بن جاتا ہے
اگر اس میزائل کا مقصد بھارت کو یہ پیغام دینا ہے کہ پاکستان کسی بھی روایتی حملے کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تو یہ ایک قابل فہم فوجی حکمت عملی ہے،لیکن اگر قومی طاقت کا پیمانہ صرف میزائلوں کی تعداد، راکٹوں کی رینج اور جنگی مشقوں کی کامیابی بن جائے اور شہری کی زندگی، صحت، تعلیم، روزگار، انصاف اور خوراک کو ثانوی حیثیت حاصل ہوجائے تو پھر ریاست کو خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ وہ اپنی طاقت کس کے لیے بنا رہی ہے
کیونکہ ایک ریاست کی اصل طاقت صرف یہ نہیں کہ وہ کتنی دور تک میزائل پہنچا سکتی ہے،اصل طاقت یہ بھی ہے کہ اس کے کتنے شہری بھوک سے محفوظ ہیں، کتنے بچوں کو معیاری تعلیم ملتی ہے، کتنے لوگوں کو علاج میسر ہے، کتنے شہری قانون پر اعتماد کرتے ہیں اور کتنے نوجوان اپنا مستقبل ملک سے باہر تلاش کرنے پر مجبور نہیں ہوتے
فتح 4 شاید 750 کلومیٹر دور تک پہنچ سکے،لیکن پاکستان کے لیے اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی محدود قومی دولت کو اتنی ہی دور تک اپنے عام شہری کی زندگی بہتر بنانے کے لیے پہنچا سکتی ہے






