ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال، مگر دنیا کو درکار ڈیزل کی قلت نے نیا بحران کھڑا کر دیا
آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل ایران جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ رہی ہے، لیکن عالمی توانائی بحران ختم ہونے کے بجائے ایک نئی شکل اختیار کر گیا ہے۔ تیل بردار جہاز بڑی مقدار میں خام تیل تو لے جا رہے ہیں، مگر ڈیزل کی ترسیل انتہائی کم ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی متعدد بڑی ریفائنریوں کو پہنچنے والے نقصان نے دنیا بھر میں تیار ایندھن کی سپلائی مزید محدود کر دی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق موجودہ صورتحال میں اصل مسئلہ خام تیل کی کمی نہیں بلکہ اسے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول میں تبدیل کرنے کی محدود صلاحیت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کئی بڑی ریفائنریوں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے عالمی سطح پر ڈیزل کی فراہمی دباؤ میں آ گئی ہے۔
امریکا میں اس بحران کے سیاسی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ڈیزل کی تیزی سے بڑھتی قیمتوں کو روکنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، کیونکہ ڈیزل صرف ٹرانسپورٹ کا ایندھن نہیں بلکہ خوراک سے لے کر الیکٹرانکس اور دیگر اشیا کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
امریکا میں ڈیزل کی قومی اوسط قیمت گزشتہ ماہ کے آخر میں ریکارڈ $6.53 فی گیلن تک پہنچ گئی، جبکہ کیلیفورنیا میں قیمت تاریخی طور پر بڑھ کر $8.44 فی گیلن فی گیلن ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق ٹرکنگ کی لاگت بڑھنے کے نتیجے میں اس کا اثر سپلائی چین کے ذریعے عام صارف تک پہنچتا ہے۔
ہیوسٹن میں قائم لیپ آئل ایسوسی ایٹس کے صدر اینڈی لیپوف کے مطابق صارف خام تیل نہیں خریدتے بلکہ پٹرول، جیٹ فیول اور ڈیزل خریدتے ہیں۔ ان کے بقول مشرق وسطیٰ میں میزائل اور ڈرون حملوں سے متعدد بڑی ریفائنریوں کو نقصان پہنچنے کے بعد دنیا کو ایسے وقت میں تیار ایندھن کی قلت کا سامنا ہے جب خام تیل کی ترسیل دوبارہ بحال ہو رہی ہے۔
یہ صورتحال عالمی تیل منڈی کے لیے ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ہرمز کی بحالی کو عام طور پر عالمی توانائی بحران میں کمی کی علامت سمجھا جا سکتا تھا، لیکن موجودہ بحران میں خام تیل کا دوبارہ دستیاب ہونا کافی نہیں۔ اگر ریفائنریاں مطلوبہ مقدار میں خام تیل کو ڈیزل اور دیگر تیار ایندھن میں تبدیل نہ کر سکیں تو عالمی منڈی میں تیل کی آمد کے باوجود قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔
یوں ایران جنگ کے بعد عالمی توانائی بحران کا اگلا مرحلہ خام تیل کی قلت نہیں بلکہ ڈیزل کی قلت بنتا جا رہا ہے، اور اس کا سب سے بڑا بوجھ ٹرانسپورٹ، سپلائی چین اور بالآخر عام صارفین کو اٹھانا پڑ سکتا ہے






