Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ انتظامیہ کی جدید امریکی تاریخ کی سب سے بڑی شہریت منسوخی مہم، چار پاکستانیوں سمیت 40 افراد امریکی شہریت سے محرومی کے خطرے میں

ٹرمپ انتظامیہ کی جدید امریکی تاریخ کی سب سے بڑی شہریت منسوخی مہم، چار پاکستانیوں سمیت 40 افراد امریکی شہریت سے محرومی کے خطرے میں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی شہریت کے تصور اور اس کے قانونی تحفظات کو ازسرنو متعین کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے،محکمہ انصاف نے ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں 40 ایسے افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے مقدمات دائر کیے ہیں جو بیرون ملک پیدا ہوئے تھے اور بعد میں امریکی شہری بنے
محکمہ انصاف کے مطابق یہ درخواستیں 10 اگست سے 2 اکتوبر کے درمیان دائر کی گئیں اور ان افراد پر بچوں کے جنسی استحصال، فراڈ، ٹیکس چوری اور دیگر سنگین جرائم سمیت مختلف نوعیت کے الزامات یا جرائم میں ملوث ہونے کا الزام ہے
امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اس کارروائی کو جدید امریکی تاریخ میں شہریت منسوخ کرنے کی سب سے بڑی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں بعض افراد نے امریکی حکومت سے اپنی زندگی یا ماضی سے متعلق اہم معلومات چھپائی تھیں
محکمہ انصاف کے مطابق ان افراد میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جسے جاسوسی کے جرم میں سزا ہوچکی ہے، جبکہ دیگر افراد نابالغوں کے خلاف جنسی جرائم میں سزا یافتہ ہیں
محکمہ انصاف نے اس سے قبل اگست میں 25 افراد کے خلاف شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی مربوط مہم قرار دیا تھا،تاہم تازہ کارروائی میں 40 افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے باعث اسے اس سے بھی بڑی مہم قرار دیا جارہا ہے
حالیہ مقدمات میں 9 افراد کا تعلق میکسیکو، 4 کا پاکستان اور 2 کا چین سے بتایا گیا ہے،دیگر افراد افغانستان، کمبوڈیا، کیمرون، کینیڈا، کولمبیا، کیوبا، مصر، گھانا، ہیٹی، بھارت، ایران، نیپال، نائیجیریا اور سیرا لیون سمیت مختلف ممالک میں پیدا ہوئے تھے
شہریت منسوخی کی کارروائی عام طور پر ان افراد کے خلاف کی جاتی ہے جنہوں نے امریکی شہریت حاصل کرتے وقت مبینہ طور پر دھوکا دہی کی ہو، اہم معلومات چھپائی ہوں یا قانونی تقاضے پورے نہ کیے ہوں،اس لیے صرف کسی شخص کا جرم میں سزا یافتہ ہونا بذات خود امریکی شہریت منسوخ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا،حکومت کو عدالت میں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ شہریت حاصل کرنے کے عمل میں ایسی قانونی خلاف ورزی ہوئی تھی جو شہریت منسوخ کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے
ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ کارروائی اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ محض چند افراد کے خلاف انفرادی مقدمات نہیں بلکہ ایک مربوط حکومتی مہم کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے،اس سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ امریکی حکومت مستقبل میں ان افراد کی شہریت کے معاملات کی کس حد تک دوبارہ جانچ کرے گی جو برسوں پہلے قانونی طریقے سے امریکی شہری بن چکے ہیں
امریکی شہریت عام طور پر تارکین وطن کے لیے ایک طویل قانونی سفر کا آخری مرحلہ سمجھی جاتی ہے،شہریت ملنے کے بعد فرد کو ووٹ دینے، امریکی پاسپورٹ رکھنے اور دیگر شہری حقوق حاصل ہوجاتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ شہریت منسوخ کرنے کی کارروائی صرف ایک فرد کے امیگریشن اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اس کی پوری قانونی شناخت کو متاثر کرسکتی ہے
ٹرمپ انتظامیہ اسے امریکی قوانین کے غلط استعمال اور حکومت سے اہم معلومات چھپانے والوں کے خلاف کارروائی قرار دے رہی ہے،ناقدین کے لیے تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا شہریت منسوخی کے اختیار کو محدود اور غیر معمولی قانونی کارروائی کے طور پر استعمال کیا جائے گا یا آنے والے برسوں میں یہ تارکین وطن کے خلاف ایک وسیع تر حکومتی پالیسی کا حصہ بن جائے گا
40 افراد کے خلاف تازہ مقدمات اس بحث کو ایک نئی سطح پر لے گئے ہیں،کیا امریکی شہریت ایک ایسا قانونی حق ہے جسے حاصل کرنے کے بعد تحفظ حاصل رہتا ہے، یا بعض حالات میں حکومت کئی برس بعد بھی اس شہریت کی بنیاد دوبارہ کھول سکتی ہے؟
ٹرمپ انتظامیہ کا جواب واضح ہے کہ اگر شہریت دھوکے یا اہم حقائق چھپانے کے ذریعے حاصل کی گئی ہو تو حکومت کارروائی کرے گی،اب ان مقدمات میں عدالتیں یہ طے کریں گی کہ انفرادی طور پر حکومت کے دعوے کس حد تک قانونی معیار پر پورے اترتے ہیں جبکہ امریکی شہریت کی منسوخی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عدالت کو بھیجے گئے چار پاکستانیوں میں شامل افراد میںاحمد بہار خٹک، عمر 69 سال، ورجینیا میں کیس،حکومت کا الزام ہے کہ انہوں نے سعید عمر خان اور بہار احمد سمیت مختلف شناختیں استعمال کیں اور 1994 کے ڈیپورٹیشن کے حکم کو چھپاتے ہوئے 2008 میں امریکی شہریت حاصل کی

  • احمد خان، عمر 73 سال، اوہائیو میں کیس،پاکستان سے 1999 میں امریکہ آئے،حکومت کے مطابق انہوں نے اپنی پاکستانی بیوی کی جعلی موت کا سرٹیفکیٹ استعمال کیا، امریکی شہری سے شادی کی اور اسی بنیاد پر مستقل رہائش اور بعد میں 2008 میں شہریت حاصل کی،سید مسعود الحق، عمر 66 سال، فلوریڈا میں کیس،1993 میں سیاحتی ویزے پر امریکہ آئے، بعد میں مشود احمد کے نام سے سیاسی پناہ کی درخواست دی،حکومت کے مطابق وہ امیگریشن سماعت میں پیش نہیں ہوئے، ملک بدری سے بچتے رہے اور بعد میں خاندانی درخواست کے ذریعے گرین کارڈ اور پھر امریکی شہریت حاصل کی
  • سید فرقان علی، عمر 74 سال، ٹیکساس میں کیس،محکمہ انصاف کے مطابق انہوں نے 1993 میں امریکی شہری سے شادی کے ذریعے امیگریشن حاصل کرنے کے لیے اپنی پہلی پاکستانی بیوی سے طلاق اور اس کی موت کے بارے میں جعلی معلومات دیں اور بعد میں امریکی شہریت حاصل کی

قومی خبریں سے مزید