ٹیکساس کا سرخ قلعہ خطرے میں، 38 کانگریسی نشستوں کے باوجود سینیٹ میں ڈیموکریٹک امیدوار کی معمولی برتری نے ریپبلکنز کو چونکا دیا
امریکا کی سب سے بڑی اور طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کے مضبوط سیاسی قلعوں میں شمار ہونے والی ریاست ٹیکساس میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات نے ایک غیر معمولی سیاسی صورت حال پیدا کر دی ہے، ریاست کی 38 کانگریسی نشستوں میں ریپبلکنز اب بھی واضح اکثریت رکھتے ہیں اور موجودہ تقسیم 25 ریپبلکن اور 13 ڈیموکریٹک نشستوں کی ہے، لیکن 2025 میں ریپبلکن قیادت کی جانب سے کانگریشنل نقشہ تبدیل کرکے اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کی کوشش کے باوجود متعدد نشستیں دوبارہ مقابلے میں آ گئی ہیں، جبکہ ریاست کی واحد سینیٹ نشست جس پر اس سال انتخاب ہو رہا ہے، وہاں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلریکو ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن سے معمولی برتری حاصل کر چکے ہیں
اعداد کے اعتبار سے ریپبلکنز کو ایوان نمائندگان میں 12 نشستوں کی واضح برتری حاصل ہے،38 میں سے تقریباً 66 فیصد نشستیں ریپبلکنز کے پاس اور 34 فیصد ڈیموکریٹس کے پاس ہیں،لیکن یہ عدد ٹیکساس کے موجودہ سیاسی مقابلے کی مکمل تصویر نہیں دکھاتا، کیونکہ زیادہ تر ریپبلکن نشستیں اتنی محفوظ ہیں کہ ان پر حقیقی مقابلہ نظر نہیں آتا،Cook Political Report کی تازہ درجہ بندی کے مطابق 23 نشستیں Solid Republican، 2 Likely Republican اور ایک Lean Republican ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کی 9 نشستیں Solid Democratic اور ایک Lean Democratic ہیں،دو نشستیں، TX-15 اور TX-34، حقیقی Toss-up بن چکی ہیں، جبکہ TX-9، TX-23، TX-28 اور TX-35 بھی ایسے اضلاع ہیں جہاں ریپبلکنز کو اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے
یہ صورت حال اس لیے زیادہ اہم ہے کہ ٹیکساس کے ریپبلکنز نے 2025 میں غیر معمولی سیاسی خطرہ مول لے کر کانگریشنل نقشہ دوبارہ بنایا تھا،مقصد واضح تھا: ایسے پانچ ڈیموکریٹک اضلاع کو ریپبلکن امیدواروں کے لیے زیادہ سازگار بنایا جائے جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نسبتاً مضبوط کارکردگی دکھائی تھی،نقشہ سازوں کا اندازہ یہ تھا کہ جنوبی اور وسطی ٹیکساس کے ہسپانوی اکثریتی علاقوں میں ٹرمپ کی 2024 کی کامیابی کو مستقل سیاسی تبدیلی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے،لیکن 2026 کا انتخاب اب یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ آیا 2024 کا ہسپانوی ووٹ واقعی ریپبلکن پارٹی کی طرف مستقل منتقلی تھی یا وہ ٹرمپ کی شخصیت، معیشت اور اس وقت کے سیاسی ماحول کا عارضی نتیجہ تھا
جنوبی ٹیکساس اس سوال کا سب سے اہم میدان بن گیا ہے،TX-15، جہاں ریپبلکن مونیکا ڈی لا کروز کا مقابلہ ڈیموکریٹ اور معروف تیجانو گلوکار بوبی پولیڈو سے ہے، اب Toss-up شمار ہو رہی ہے،اسی طرح TX-34 میں ڈیموکریٹ ونسنٹ گونزالیز اپنی نشست بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ نئے نقشے پر 2024 میں ٹرمپ اس ضلع سے تقریباً 10 پوائنٹس سے جیتے تھے،یہی تضاد ٹیکساس کی سیاست میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے،ایسے علاقے جو صدارتی انتخاب میں ریپبلکن ہو سکتے ہیں، ضروری نہیں کہ دو سال بعد کانگریسی امیدوار کو بھی اسی تناسب سے ووٹ دیں
ٹیکساس 28 میں طویل عرصے سے موجود ڈیموکریٹ ہنری کیولر بھی ایک مشکل مگر قابل مقابلہ نشست کا دفاع کر رہے ہیں،کیولر کی سیاسی طاقت کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ روایتی ڈیموکریٹک حلقے کے باوجود اپنی پارٹی کے قومی دھارے سے نسبتاً زیادہ معتدل سمجھے جاتے ہیں،اس کے برعکس TX-35 میں ڈیموکریٹس کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ گریگ کاسار کے دوسرے ضلع میں منتقل ہونے کے بعد نشست میں incumbency کا فائدہ ختم ہو گیا ہے،یوں جنوبی ٹیکساس میں ریپبلکنز کے لیے اصل امید یہ ہے کہ 2024 میں ٹرمپ کی طرف منتقل ہونے والے ہسپانوی ووٹر کا ایک بڑا حصہ 2026 میں بھی ان کے ساتھ رہے گا
لیکن یہی وہ مفروضہ ہے جسے ڈیموکریٹس چیلنج کر رہے ہیں
ٹیکساس کے انتخابی اعداد بتاتے ہیں کہ ہسپانوی ووٹر اب کسی ایک پارٹی کی مستقل ملکیت نہیں رہا،2024 میں ٹرمپ نے جنوبی ٹیکساس کے کئی ایسے اضلاع میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی جہاں برسوں سے ڈیموکریٹس کا غلبہ تھا،اس تبدیلی نے ریپبلکنز کو یہ یقین دلایا کہ ہسپانوی ووٹر مستقل طور پر دائیں جانب منتقل ہو رہا ہے،تاہم 2026 میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات، امیگریشن پالیسی اور صدر ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت نے دوبارہ ڈیموکریٹس کو موقع فراہم کیا ہے،ڈیموکریٹس کو پورا ہسپانوی ووٹ واپس حاصل کرنے کی ضرورت بھی نہیں،اگر وہ صرف ٹرمپ کی 2024 کی برتری کو چند پوائنٹس کم کر دیتے ہیں تو کئی ایسے کانگریسی اضلاع دوبارہ مقابلے میں آ سکتے ہیں جو ایک سال پہلے ریپبلکنز کے لیے تقریباً محفوظ سمجھے جا رہے تھے
اسی سیاسی تبدیلی کا دوسرا اہم ستون ٹیکساس کے مضافاتی علاقوں کے سفید فام، تعلیم یافتہ اور آزاد ووٹر ہیں،یہ وہ طبقہ ہے جس نے ٹرمپ کے خلاف گزشتہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کو غیر معمولی حمایت دی تھی، لیکن 2024 میں بعض علاقوں میں ریپبلکنز کی طرف واپس گیا،2026 میں ڈیموکریٹس کی کوشش ہے کہ وہ ان ووٹرز کو دوبارہ اپنے ساتھ جوڑیں، جبکہ ریپبلکنز کو اپنی طرف منتقل ہونے والے ہسپانوی ووٹرز کو برقرار رکھنا ہوگا،یوں ٹیکساس میں دونوں جماعتوں کی انتخابی حکمت عملی ایک دوسرے کے بالکل الٹ ہو گئی ہے
اس سے بھی زیادہ حیران کن تصویر سینیٹ میں سامنے آ رہی ہے،ٹیکساس کی دو سینیٹ نشستیں دونوں ریپبلکنز کے پاس ہیں، لیکن 2026 میں صرف جان کورنن کی خالی ہونے والی نشست پر انتخاب ہو رہا ہے،ریپبلکن پرائمری میں کین پیکسٹن نے کورنن کو شکست دے کر نامزدگی حاصل کی اور اب ان کا مقابلہ ڈیموکریٹ جیمز ٹیلریکو سے ہے،تازہ Fox News پول میں ٹیلریکو کو 51 فیصد جبکہ پیکسٹن کو 49 فیصد حمایت ملی ہے، یعنی ڈیموکریٹک امیدوار صرف 2 فیصد پوائنٹس آگے ہے۔ یہ فرق اتنا کم ہے کہ اسے محفوظ برتری نہیں کہا جا سکتا، لیکن ٹیکساس جیسی ریاست میں ڈیموکریٹ کا پول میں 51 فیصد تک پہنچ جانا خود ایک غیر معمولی سیاسی اشارہ ہے
ٹیلریکو کی طاقت کا بنیادی مرکز تین گروپ بنتے دکھائی دے رہے ہیں،سیاہ فام ووٹر، ہسپانوی ووٹر اور آزاد ووٹر،دوسری طرف پیکسٹن کے پاس ریپبلکن پارٹی کی مضبوط تنظیم، ٹیکساس کی مجموعی طور پر ریپبلکن سیاسی ساخت اور صدر ٹرمپ کے بنیادی ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے،مسئلہ یہ ہے کہ پیکسٹن خود ایک انتہائی متنازعہ امیدوار ہیں،ان کے خلاف ماضی کے قانونی اور سیاسی تنازعات، 2023 کی impeachment کارروائی اور ریپبلکن پارٹی کے اندر ان کی اپنی کشمکش نے انہیں ایسا امیدوار بنا دیا ہے جسے ڈیموکریٹس کے لیے قومی سطح پر ریپبلکن پارٹی کے خلاف مہم چلانے سے زیادہ آسانی سے ذاتی سیاسی ہدف بنایا جا سکتا ہے
یہاں مسلمان ووٹر بھی ایک اہم مگر اکثر غلط اندازہ لگایا جانے والا عنصر ہے،ٹیکساس میں مسلمان ووٹرز کی کوئی سرکاری انتخابی فہرست موجود نہیں کیونکہ امریکی ووٹر رجسٹریشن میں مذہب درج نہیں کیا جاتا،تاہم ہیوسٹن، ڈلاس، آسٹن اور دیگر بڑے شہری مراکز میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، عرب اور دیگر مسلم کمیونٹیز کی موجودگی انہیں کئی قریبی مقابلوں میں اہم ووٹر بلاک بناتی ہے،ان کا ووٹ یکساں طور پر کسی ایک جماعت کے ساتھ بندھا ہوا نہیں،غزہ، امیگریشن، کاروبار، معیشت، تعلیم اور مذہبی آزادی جیسے مسائل مختلف مسلم ووٹر گروپوں کو مختلف سمتوں میں لے جا سکتے ہیں،اسی لیے مسلم ووٹ کو محض فیصد کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان اضلاع میں اس کے turnout اور جغرافیائی ارتکاز کو دیکھنا زیادہ اہم ہے جہاں مقابلہ چند ہزار یا چند دسیوں ہزار ووٹوں سے طے ہو سکتا ہے
ٹیکساس میں سیاہ فام ووٹر اب بھی ڈیموکریٹس کے بنیادی ستون ہیں، خاص طور پر ہیوسٹن اور ریاست کے بڑے شہری مراکز میں، جبکہ ہسپانوی ووٹر 2026 کے سب سے اہم swing bloc بن چکے ہیں،دوسری طرف سفید فام دیہی ووٹر ریپبلکن پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں،مضافاتی ووٹر، خصوصاً تعلیم یافتہ اور آزاد ووٹر، دونوں جماعتوں کے درمیان پلٹنے والا طبقہ بن چکے ہیں،یہی چار سیاسی گروپ فیصلہ کریں گے کہ 2025 کی ری ڈسٹرکٹنگ کا ریپبلکن فائدہ 2026 میں برقرار رہتا ہے یا نہیں
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کو ٹیکساس میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 38 میں سے نصف سے زیادہ نشستیں جیتنے کی فوری ضرورت نہیں،ان کا پہلا مقصد ریپبلکنز کی بنائی ہوئی اضافی محفوظ نشستوں کو دوبارہ مقابلے میں لانا ہے،اگر TX-15 اور TX-34 جیسی Toss-up نشستیں ڈیموکریٹس کے پاس جاتی ہیں اور TX-28، TX-35 یا TX-9 میں بھی ریپبلکنز کو شکست ہوتی ہے تو ریپبلکنز کی 25 نشستوں کی موجودہ برتری نمایاں طور پر سکڑ سکتی ہے،اس کے برعکس اگر ریپبلکنز جنوبی ٹیکساس کے ہسپانوی ووٹر کو دوبارہ بڑی تعداد میں اپنے ساتھ رکھتے ہیں تو 2025 کی ری ڈسٹرکٹنگ کامیاب ثابت ہوگی اور ڈیموکریٹس کے لیے ٹیکساس میں House کی بڑی واپسی ایک بار پھر مؤخر ہو سکتی ہے، موجودہ صورت حال میں ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا
یوں 2026 کا ٹیکساس الیکشن محض ریپبلکن اور ڈیموکریٹک امیدواروں کا مقابلہ نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی تجربے کا فیصلہ ہے،سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ نے 2024 میں ٹیکساس کے ہسپانوی ووٹرز میں جو پیش رفت حاصل کی تھی وہ مستقل سیاسی تبدیلی تھی، یا مہنگائی، امیگریشن اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے ردعمل میں یہ ووٹر دوبارہ ڈیموکریٹس کی طرف جا سکتا ہے، جس کے امکانات خاصے ہیں
اس وقت اعداد و شمار کا سیدھا جواب یہ ہے کہ کانگریس میں ریپبلکنز واضح طور پر آگے ہیں، 25 کے مقابلے میں 13 نشستوں کے ساتھ 12 نشستوں کی برتری رکھتے ہیں، جبکہ سینیٹ کی زیر انتخاب واحد نشست میں ڈیموکریٹ جیمز ٹیلریکو تازہ ترین پول میں ریپبلکن کین پیکسٹن سے صرف 2 پوائنٹس آگے ہیں،یہی معمولی فرق ٹیکساس کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات کی سب سے اہم سیاسی کہانیوں میں شامل کر رہا ہے،ریپبلکنز کے پاس نقشہ، تنظیم اور ریاست کی بنیادی سیاسی ساخت کا فائدہ ہے، مگر ڈیموکریٹس کے پاس ایک ایسا انتخابی ماحول ہے جس میں ہسپانوی، سیاہ فام، مسلم اور مضافاتی آزاد ووٹروں کا معمولی سا رخ بھی کئی نشستوں کا نتیجہ بدل سکتا ہے، جبکہگورنر، ریپبلکن گریگ ایبٹ چوتھی مدت کے لیے ڈیموکریٹ جینا ہینوجوسا کے مقابل ہیں،تازہ نیویارک ٹائمز/سینا پول میں ہینوجوسا 49% اور ایبٹ 46%، یعنی ڈیموکریٹ 3 پوائنٹس آگے ہیں، تاہم فرق مارجن آف ایرر کے اندر ہے
لیکن مجموعی پولنگ میں مقابلہ انتہائی قریب ہے،گزشتہ پانچ بڑے پولز کے اوسط میں ایبٹ تقریباً 48.6% جبکہ ہینوجوسا 47.2% پر ہیں، یعنی ایبٹ تقریباً 1.4 پوائنٹس آگے ہیں،ٹیکساس میں آخری ڈیموکریٹک گورنر این رچرڈز تھیں، جن کی مدت 1991 سے 1995 تک رہی،اس کے بعد 1995 سے اب تک مسلسل ریپبلکن گورنر رہے ہیں، یعنی تقریباً 31 سال،ایبٹ 2015 سے گورنر ہیں اور 2026 میں چوتھی مدت کے لیے امیدوار ہیں، جبکہ ہینوجوسا کی اچانک قریبی دوڑ ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کے لیے غیر معمولی موقع پیدا کر رہی ہے





