غزہ کے بے گھر فلسطینی گھروں کو واپسی کے منتظر، تباہی اور غم نے زندگی روک دی
قاہرہ میں مقیم عمر الحسینہ ان ہزاروں فلسطینیوں میں شامل ہیں جو جنگ کے دوران غزہ چھوڑنے کے بعد برسوں سے بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں اسرائیلی حملے میں ان کے خاندان کے 308 افراد مارے گئے، جن میں ان کی اہلیہ، 4 بیٹے اور 4 کم عمر پوتے پوتیاں بھی شامل تھے اب وہ مصر میں رہتے ہوئے اس دن کے منتظر ہیں جب غزہ میں امن، سلامتی اور تعمیر نو کا عمل شروع ہو اور وہ اپنے وطن واپس جا سکیں
فلسطینی اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے دوران غزہ سے نکلنے والے 1 لاکھ سے زائد فلسطینی اب بھی بیرون ملک موجود ہیں ان میں سے بیشتر اپنے پیاروں کی ہلاکت، گھروں کی تباہی اور پورے محلوں کے ملبے میں تبدیل ہونے کا غم اپنے ساتھ لیے ہوئے ہیں ان لوگوں کے لیے بیرون ملک رہنا کسی مستقل ہجرت سے زیادہ ایک عارضی انتظار بن چکا ہے، کیونکہ ان کی خواہش اب بھی اپنے وطن واپس جا کر زندگی دوبارہ شروع کرنا ہے
عمر الحسینہ کا خاندان 22 نومبر 2023 کو غزہ سٹی میں اسرائیلی حملے کا نشانہ بنا۔ حملے میں کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں جہاں ان کا خاندان پناہ لیے ہوئے تھا فلسطینی حکام کے مطابق ان کے خاندان کے 308 افراد مارے گئے گزشتہ اگست میں الحسینہ نے قاہرہ سے ویڈیو کے ذریعے اپنے خاندان کے 112 افراد کی تدفین دیکھی، جن کی لاشیں ملبے سے نکالی گئی تھیں، جبکہ کئی دیگر افراد اب بھی لاپتا ہیں
ان کے خاندان کے کچھ افراد مصر میں موجود ہیں، ایک بیٹی طبی بنیادوں پر اپنے شوہر اور 6 بچوں کے ساتھ ترکیہ منتقل ہوئی، جبکہ دوسری بیٹی اپنے 5 بچوں کے ساتھ غزہ میں موجود ہے۔ اس کے شوہر بھی حملے میں مارے گئے تھے اس طرح ایک ہی خاندان کے افراد مختلف ملکوں اور غزہ کے مختلف علاقوں میں بکھر گئے ہیں
تقریباً ایک سال قبل ہونے والی جنگ بندی سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ غزہ میں تعمیر نو شروع ہوگی، سیاسی عمل آگے بڑھے گا اور اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی کی راہ ہموار ہوگی، لیکن صورتحال اب بھی انتہائی غیر یقینی ہے اسرائیلی فورسز غزہ کے 60 فیصد سے زیادہ علاقے پر کنٹرول رکھتی ہیں اور فضائی حملے بھی جاری ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں فلسطینی عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور امدادی سامان بھی ان کی ضروریات کے لیے ناکافی ہے
غزہ سے نکلنے والے تمام افراد کو روانگی سے قبل اسرائیل اور مصر کی جانب سے جانچ کے مراحل سے گزرنا پڑا تھا، لیکن اس کے باوجود واپس آنے والوں کے لیے راستہ آسان نہیں اب تک تقریباً 7,000 فلسطینی غزہ واپس جا سکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں بیرون ملک موجود افراد اب بھی واپسی کے منتظر ہیں
عمر الحسینہ کا کہنا ہے کہ اگر غزہ میں ایک جامع بین الاقوامی معاہدہ ہوتا ہے، فلسطینی عوام کے مستقبل کے بارے میں واضح انتظام سامنے آتا ہے اور تعمیر نو شروع ہوتی ہے تو وہ واپس جانے میں دیر نہیں کریں گے ان کی خواہش صرف اپنے تباہ شدہ گھر تک پہنچنا نہیں بلکہ اپنے وطن میں دوبارہ ایک فعال اور مثبت زندگی شروع کرنا ہے




