Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

گوادر کے ترقیاتی منصوبے تیز رفتاری سے مکمل کرنے کا فیصلہ

گوادر کے ترقیاتی منصوبے تیز رفتاری سے مکمل کرنے کا فیصلہ

بلوچستان حکومت نے گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے اور شہر کی بنیادی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں شہری بحالی، پانی کی فراہمی، کھیلوں، تعلیم، بلدیاتی سہولیات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا
اجلاس کی صدارت صوبائی منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر میر ظہور بلیڈی نے کی اس میں گوادر سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی اجلاس میں جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں کے ساتھ ساتھ گوادر میں پانی کی موجودہ صورتحال اور مزید ترقیاتی اسکیموں کے لیے درکار فنڈز پر بھی غور کیا گیا
اجلاس میں پرانے شہر کی بحالی کے منصوبے کو خاص اہمیت دی گئی حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد گوادر کے شہری ڈھانچے کو بہتر بنانا، بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنا اور شہر کے تاریخی و ثقافتی ورثے کا تحفظ کرنا ہے اس منصوبے کے تحت سڑکوں، گلیوں، بازاروں، تعلیمی اداروں، قبرستانوں، عیدگاہوں اور ٹریفک چوراہوں کی تعمیر، توسیع، بحالی اور خوبصورتی کے مختلف کام کیے گئے ہیں حکام کے مطابق ان اقدامات سے شہری ماحول، ٹریفک کی روانی اور تجارتی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق شہر میں 5,000 سے زیادہ درخت بھی لگائے جاچکے ہیں اتھارٹی شہری بنیادی ڈھانچے کے ایک بڑے حصے کی دیکھ بھال بھی کررہی ہے، جس میں تقریباً 31 کلومیٹر سیوریج نالیاں، 23 کلومیٹر بارش کے پانی کی نکاسی کے راستے، 3 کھیلوں کے اسٹیڈیم، 3 عوامی پارکس اور 250 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں شامل ہیں گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسکول، ہسپتال اور فش لینڈنگ جیٹی بھی اتھارٹی کے زیر انتظام سہولیات میں شامل ہیں
گوادر کے لیے پانی کی فراہمی طویل عرصے سے ایک اہم مسئلہ رہی ہے، اس لیے اجلاس میں گزشتہ ایک سال کے دوران پانی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی وفاقی سطح پر بھی گوادر کے لیے مستقل پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جس میں میرانی ڈیم سے گوادر شہر تک پانی پہنچانے کے لیے تقریباً 29 ارب روپے مالیت کی اسکیم شامل ہے
گوادر کی ترقی صرف شہری سہولیات تک محدود نہیں بلکہ بندرگاہ اور تجارتی سرگرمیوں سے بھی براہ راست جڑی ہوئی ہے گوادر پورٹ سے متعلق کئی منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، جن میں ایسٹ بے ایکسپریس وے، 1.2 ملین گیلن روزانہ پانی صاف کرنے کا پلانٹ، تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیتی ادارہ اور بندرگاہ سے متعلق دیگر بنیادی منصوبے شامل ہیں ایسٹ بے ایکسپریس وے کے دوسرے مرحلے اور آف ڈوک ٹرمینل کے بنیادی ڈھانچے سمیت بعض منصوبے اب بھی جاری ہیں
حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ گوادر کی بندرگاہ، صنعتی زون اور بڑے اقتصادی منصوبوں کے ساتھ مقامی آبادی کو بھی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں بجلی، پانی، سڑکیں، سیوریج، تعلیم، صحت اور روزگار کی بہتر سہولیات کے بغیر گوادر کو مکمل تجارتی اور اقتصادی مرکز بنانے کا مقصد محدود رہ سکتا ہے
حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گوادر کی ترقی میں اب شہری بنیادی ڈھانچے اور مقامی ضروریات کو بھی زیادہ نمایاں جگہ دی جارہی ہے اگر جاری منصوبوں کے لیے بروقت فنڈز دستیاب رہیں اور کام مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں تو شہر میں شہری سہولیات بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ بندرگاہ، تجارت، صنعت اور مقامی کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی زیادہ سازگار ماحول پیدا ہوسکتا ہے

قومی خبریں سے مزید