Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پنجاب خاموش، سندھ میں گرفتاریاں، خیبر پختونخوا میں قافلے: مذاکرات ٹوٹنے کے بعد تحریک انصاف کا لانگ مارچ عملاً ایک صوبے تک محدود؟

پنجاب خاموش، سندھ میں گرفتاریاں، خیبر پختونخوا میں قافلے: مذاکرات ٹوٹنے کے بعد تحریک انصاف کا لانگ مارچ عملاً ایک صوبے تک محدود؟
تجزیاتی رپورٹ: آفاق فاروقی
اسلام آباد کی طرف تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے آغاز کے بعد پاکستان کی سیاست میں سب سے اہم سوال اب یہ نہیں رہا کہ خیبر پختونخوا سے کتنے لوگ نکلے، بلکہ یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ کہاں ہیں،حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات اتوار کی صبح ناکام ہونے کے بعد خیبر پختونخوا سے قافلے سڑکوں پر آ گئے، لیکن ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے اب تک ایسا کوئی بڑا منظم قافلہ سامنے نہیں آیا جو خیبر پختونخوا کے مارچ کے برابر دکھائی دے، جبکہ سندھ میں تحریک انصاف نے کراچی اور دوسرے شہروں میں احتجاج کی کوشش ضرور کی، مگر اسے بڑے لانگ مارچ کی شکل دینے سے پہلے ہی پولیس کارروائیوں، گرفتاریوں اور راستوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑا،یہی فرق اس احتجاج کی اصل سیاسی تصویر کو سمجھنے کی کلید بن گیا ہے
تحریک انصاف کی اپنی تنظیمی حکمت عملی بھی اس تضاد کو کسی حد تک واضح کرتی ہے،پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے یکم اکتوبر کو لاہور تنظیم سے ملاقات میں پنجاب کے عہدیداروں، ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو خیبر پختونخوا پہنچنے کی ہدایت کی تھی،جنوبی پنجاب کے ارکان اور کارکنوں کو بھی پشاور پہنچنے کا کہا گیا، جبکہ لاہور اور پنجاب کے بعض اضلاع کے کارکنوں کو 4 اکتوبر کو لاہور میں تنظیمی طور پر فعال رہنے کی ہدایت دی گئی،دوسرے لفظوں میں پارٹی نے پنجاب سے اسلام آباد کی طرف الگ بڑا قافلہ نکالنے کے بجائے بڑی تعداد میں کارکنوں کو خیبر پختونخوا کے مرکزی مارچ میں شامل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی
یہ فیصلہ بظاہر صرف تنظیمی نہیں بلکہ عملی مجبوری بھی ہے،پنجاب میں 23 ستمبر سے 5 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ رہی، جس کے تحت عوامی اجتماعات، ریلیوں اور جلوسوں پر پابندی عائد تھی،راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی بھی کی گئی، جبکہ اسلام آباد کی طرف جانے والے اہم راستوں پر کنٹینرز اور دوسری رکاوٹیں پہلے ہی کھڑی کی جا چکی تھیں،بعد ازاں پنجاب اور اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی 15 اکتوبر تک بڑھانے کی اطلاعات سامنے آئیں
لیکن صرف حکومتی رکاوٹیں پنجاب کی خاموشی کی مکمل وضاحت نہیں کرتیں،تحریک انصاف کے اپنے حلقوں میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر لانگ مارچ واقعی ملک گیر سیاسی تحریک ہے تو پنجاب، جو آبادی، قومی اسمبلی کی نشستوں اور سیاسی وزن کے اعتبار سے پارٹی کے لیے فیصلہ کن صوبہ ہے، وہاں سے ایک نمایاں زمینی طاقت کیوں نظر نہیں آ رہی،3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات کے بارے میں سامنے آنے والی اندرونی تفصیلات میں بعض ارکان پارلیمنٹ کی یہ رائے بھی رپورٹ ہوئی کہ اگر پنجاب سے پارٹی رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں نکل آئیں تو لانگ مارچ کامیاب ہو سکتا ہے،یہ اعتراف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر بھی پنجاب کی شرکت کو مارچ کے حجم اور اثر کے لیے بنیادی سمجھا جا رہا تھا
پنجاب کی تنظیمی قیادت کا مسئلہ بھی اسی پس منظر میں اہم ہو جاتا ہے،تحریک انصاف کے مرکزی صدر چودھری پرویز الٰہی ہیں، لیکن موجودہ لانگ مارچ میں ان کی نمایاں عوامی یا زمینی سرگرمی دکھائی نہیں دے رہی،یہ بھی حقیقت ہے کہ پرویز الٰہی پر سیاسی مخالفین اور بعض حلقوں کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہونے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، جو مناسب حد تک درست ہیں ،مگر ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پارٹی خیبر پختونخوا کی حکومت کو قومی سطح کی سیاسی مزاحمت کا مرکز بنا رہی ہے، پنجاب کے صدر کی غیر نمایاں موجودگی پارٹی کے اندرونی تنظیمی بحران کے بارے میں کیا بتاتی ہے
یہاں حماد اظہر کا معاملہ بھی اہم ہے،میاں محمد اظہر، سابق گورنر پنجاب اور لاہور کے سابق میئر، کے صاحبزادے حماد اظہر تحریک انصاف پنجاب کے اہم رہنماؤں میں رہے ہیں اور ماضی میں وفاقی وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں،میاں اظہر جولائی 2025 میں انتقال کر گئے تھے،حماد اظہر طویل عرصے تک روپوش رہے او ستمبر 2026 میں انہیں ملتان سے گرفتار کیے جانے کی خبر سامنے آئی،ابتدا میں ملتان اور لاہور پولیس نے گرفتاری کی تصدیق سے لاعلمی ظاہر کی، لیکن بعد کی رپورٹس میں پولیس ذرائع نے ان کی حراست اور لاہور پولیس کو حوالگی کی اطلاع دی،اس لیے موجودہ لانگ مارچ کے دوران ان کی عملی قیادت میں موجودگی ممکن نہیں
یوں پنجاب میں تحریک انصاف کو ایک غیر معمولی قیادت کے خلا کا سامنا بھی ہے،ایک طرف صوبائی صدر پرویز الٰہی تحریک انصاف پنجاب کے صدر ہیں مگر پارٹی معاملات سے انکی لاتعلقی اور دوری یوں حیران کن ہے کہ پارٹی نے بھی اس معاملہ پر چپ سادھ رکھی ہے، دوسری طرف حماد اظہر گرفتاری اور قانونی مقدمات کے باعث میدان میں نہیں، جبکہ تحریک انصاف کی پنجاب کی متعدد معروف خواتین اور سابق رہنما بھی مقدمات، گرفتاریوں یا قانونی پابندیوں کی زد میں رہے ہیں،اس ماحول میں سلمان اکرم راجہ جیسے مرکزی رہنماؤں کو پنجاب کی تنظیم کو متحرک کرنے کے لیے براہ راست ہدایات دینا پڑ رہی ہیں
تاہم پنجاب کو مکمل طور پر سیاسی طور پر غیر فعال کہنا بھی درست نہیں ہوگا،لاہور میں تحریک انصاف نے تنظیمی سطح پر تیاری کی، کارکنوں کو رابطے میں رکھنے کی ہدایات دیں اور بعض رہنماؤں نے احتجاجی سرگرمیوں کے لیے کارکنوں کو متحرک رکھا،مسئلہ یہ ہے کہ یہ سرگرمیاں ابھی تک ایک ایسے بڑے قافلے میں تبدیل نہیں ہوئیں جو خیبر پختونخوا سے نکلنے والے مارچ کے ساتھ حجم اور رفتار میں مقابلہ کر سکے،اس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی سخت پابندیاں اور گرفتاریوں کا خطرہ ہے، جبکہ دوسری وجہ پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو خیبر پختونخوا منتقل کرنے کی حکمت عملی ہے
سندھ کی تصویر اس سے مختلف مگر نتیجہ تقریباً وہی ہے،کراچی میں تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو شہر کے سات مقامات پر احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا،پولیس نے مختلف مقامات پر بھاری نفری تعینات کی، راستے بند کیے اور متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو حراست میں لیا،اس کے باوجود کورنگی، کراچی ایسٹ اور ویسٹ سمیت بعض علاقوں میں کارکن احتجاج کرنے میں کامیاب ہوئے،ایمپریس مارکیٹ کے قریب بھی احتجاج میں خواتین کی شرکت کی اطلاعات آئیں،تحریک انصاف نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں 75 سے زیادہ کارکن اور رہنما گرفتار ہوئے جبکہ پورے سندھ میں گرفتار افراد کی تعداد 100 سے زیادہ تھی،پولیس نے ان الزامات پر تفصیلی تبصرہ نہیں کیا
اس لیے سندھ سے بھی اس وقت ایسا کوئی بڑا قافلہ دکھائی نہیں دے رہا جو اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہو،کراچی میں احتجاج ہوا، لیکن وہ ایک طویل زمینی مارچ میں تبدیل نہیں ہوا،اس کی ایک وجہ سندھ حکومت کی جانب سے پولیس کی بھاری تعیناتی اور اہم مقامات کی بندش ہے، جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف سندھ کی سرگرمی زیادہ تر مقامی احتجاج اور گرفتاریوں کے خلاف مزاحمت تک محدود دکھائی دیتی ہے
یہاں ایک دلچسپ جغرافیائی تضاد سامنے آتا ہے،کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان اور پنجاب کے دوسرے بڑے شہروں میں تحریک انصاف کی موجودگی سیاسی طور پر ختم نہیں ہوئی، لیکن موجودہ لانگ مارچ کے موقع پر اس موجودگی کا بڑا حصہ سڑک پر ایک مسلسل مارچ کی صورت میں تبدیل نہیں ہوا،اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں حکومت خود تحریک انصاف کے پاس ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی براہ راست مارچ کی قیادت کر رہے ہیں اور صوبائی انتظامی ڈھانچے کے اندر سے سیاسی قیادت فراہم ہو رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ مارچ کا زمینی مرکز تیزی سے خیبر پختونخوا بنتا جا رہا ہے، اور ماضی میں بھی تحریک انصاف کی احتجاجی مہمات میں کے پی ہی واحد صوبہ ہے جہاں کے کارکنوں نے تحریک انصاف کا ساتھ دیا ہے جبکہ پنجاب سے پارٹی کے رہنما تو بہت ہیں اور میڈیا میں انکے دعوی وعدے اور دھمکیاں اکثر ملکی عوام کو چونکا دینے کا باعث بنتے رہے ہیں مگر پارٹی کی زمینی سیادی سرگرمیوں میں پنجاب کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہی سمجھا جاتا ہے
حکومت کے لیے بھی یہی سب سے اہم سیاسی حساب ہے،وفاقی حکومت اور اس کے اتحادی حلقوں کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کو صوبائی انتظامی وسائل استعمال کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ نہیں کرنا چاہیے، جبکہ تحریک انصاف اسے آئینی اور سیاسی احتجاج قرار دیتی ہے،مذاکرات کے دوران بھی اصل اختلافات میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور صوبائی حکومت کی شمولیت کا سوال نمایاں رہا
مذاکرات کی ناکامی کے بعد بھی سیاسی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا،تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کہ وفاق خیبر پختونخوا میں اپنے یکطرفہ انسداد دہشت گردی اقدامات کی ذمہ داری صوبائی حکومت سے قبول کروانا چاہتا تھا،حکومت کی طرف سے محسن نقوی کا مؤقف اس کے برعکس ہے کہ تقریباً 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آخری مرحلے میں اتفاق شدہ مسودے سے پیچھے ہٹ کر مذاکرات ناکام کیے،دونوں بیانات سے واضح ہے کہ فریقین ابھی بھی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں
اس کے باوجود حکومت کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کی گنجائش کے اشارے موجود ہیں اور تحریک انصاف بھی مکمل طور پر مذاکرات کا دروازہ بند کرنے کے بجائے سیاسی رابطے کی بات کرتی رہی ہے،ستمبر کے دوران بھی پارٹی نے کہا تھا کہ مارچ مؤخر کرنے کا مقصد حکومت کو فیصلوں پر نظرثانی کا مزید وقت دینا تھا، جبکہ ذرائع نے کئی بیک چینل ملاقاتوں کی اطلاعات دی تھیں
اصل سوال اب تحریک انصاف کے دعوے اور زمینی حقیقت کے درمیان فرق کا ہے،پارٹی ایک قومی تحریک کی بات کرتی ہے، لیکن 5 اکتوبر کی صبح تک سڑکوں پر نظر آنے والی سب سے بڑی متحرک طاقت خیبر پختونخوا ہے،پنجاب میں بڑے قافلے کی واضح موجودگی نہیں، سندھ میں احتجاج تو ہوا مگر کراچی سے اسلام آباد کی طرف کوئی بڑا منظم قافلہ سامنے نہیں آیا، جبکہ بلوچستان سے بھی اس مارچ میں کوئی نمایاں زمینی کردار ابھی تک دکھائی نہیں دیتا
اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک انصاف پنجاب یا سندھ میں ختم ہو چکی ہے،اس کے برعکس کراچی میں پولیس کارروائی کے باوجود کارکنوں کا نکلنا اور پنجاب میں تنظیمی سطح پر مسلسل رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پارٹی کا سیاسی نیٹ ورک موجود ہے،لیکن موجودہ لانگ مارچ کی طاقت کا جغرافیہ اس وقت واضح طور پر غیر متوازن ہے،خیبر پختونخوا میں حکومت، وزیراعلیٰ اور سڑک پر قافلے موجود ہیں، جبکہ پنجاب اور سندھ میں پارٹی کی سرگرمی زیادہ تر احتجاج، تنظیمی رابطوں، گرفتاریوں اور محدود مقامی مظاہروں تک نظر آ رہی ہے
یہی وہ نکتہ ہے جو آنے والے دنوں میں اس مارچ کے سیاسی وزن کا تعین کرے گا؟اگر پنجاب کے بڑے شہروں اور جنوبی پنجاب سے کارکن واقعی خیبر پختونخوا پہنچ کر مرکزی قافلے میں شامل ہوتے ہیں تو موجودہ صوبائی مارچ قومی احتجاج میں تبدیل ہو سکتا ہے،اگر پنجاب اپنی موجودہ خاموشی برقرار رکھتا ہے تو حکومت کے لیے اسے ایک ملک گیر عوامی مارچ کے بجائے خیبر پختونخوا سے نکلنے والی ایک بڑی مگر جغرافیائی طور پر محدود سیاسی مہم کے طور پر پیش کرنا آسان ہوگا؟ابھی تک دستیاب زمینی شواہد میں پہلا منظرنامہ مکمل طور پر سامنے نہیں آیا

قومی خبریں سے مزید