مذاکرات کی ناکامی، سڑکوں پر تحریک انصاف کا لانگ مارچ، ہزاروں کارکن قافلوں میں آگے بڑھ رہے،اسلام آباد کے بچاؤ کے لیے 38 ہزار اہلکار، کنٹینرز اور جدید انسدادِ ہنگامہ آلات تیار
اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا طویل احتجاجی مارچ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے آخری مرحلے میں اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد سڑکوں پر آ گیا ہے،اتوار 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع سے قافلوں کی روانگی شروع ہوئی، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لکی مروت کے گنڈی چوک سے مرکزی مارچ کی قیادت کی،اے پی کے مطابق پہلے روز 5,000 سے زیادہ افراد مارچ میں شامل ہوئے، تاہم مقامی سطح پر مختلف مقامات پر شرکا کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوے سامنے آئے ہیں
یہ مارچ اصل میں 27 ستمبر کو ہونا تھا لیکن حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا موقع دینے کے لیے اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کیا گیا،اس دوران پس پردہ رابطوں کے کئی دور بھی ہوئے،میڈیا کے مطابق گزشتہ چار سے پانچ ہفتوں میں نصف درجن سے زیادہ بیک چینل ملاقاتیں ہوئیں، مگر مارچ ختم کرنے یا صرف مؤخر کرنے کے بنیادی اختلاف پر کوئی حل نہ نکل سکا
گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے باقاعدہ مذاکرات میں بظاہر دونوں جانب سے سمجھوتے کی گنجائش پیدا ہوئی تھی،حکومتی ذرائع کے مطابق مسودے کے تقریباً 95 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن آخری مرحلے میں دو بنیادی سوال باقی رہ گئے،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون اور عمران خان تک رسائی،حکومت کا مؤقف تھا کہ صوبائی حکومت کو انسداد دہشت گردی پالیسی میں اپنا آئینی کردار ادا کرنے کی ضمانت دینا ہوگی، جبکہ تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات، ان کے ذاتی ڈاکٹر تک رسائی اور علاج کے معاملے کو تحریری سمجھوتے کا حصہ بنایا جائے
رات گئے مذاکرات کئی گھنٹے جاری رہے اور مختلف مسودوں پر بھی کام ہوا، مگر اتوار کی صبح بات چیت ختم ہو گئی،وفاقی وزیر داخلہ اور فوج کے سول حکومت میں فرنٹ مین محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو قرار دیا، جبکہ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاق خیبر پختونخوا میں اپنی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالنا چاہتا تھا،یوں دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں
اس کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند دکھائی نہیں دیتا،وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تیار ہوں تو بات چیت آج، کل یا پرسوں بھی دوبارہ ہو سکتی ہے،تاہم انہوں نے کوئی نئی تاریخ طے ہونے کی تصدیق نہیں کی،اس لیے اس مرحلے پر یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ دوبارہ مذاکرات کی گنجائش موجود ہے، لیکن باضابطہ نیا دور ابھی طے نہیں ہوا
ادھر سڑکوں پر مارچ کے دو نمایاں مراکز بنے ہیں،پہلے اور سب سے بڑے مرکزی قافلے کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لکی مروت سے کی،گنڈی چوک پر بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سے آنے والے کارکنوں کو جمع ہونا تھا،مقامی رپورٹس اور اے پی کی کوریج کے مطابق ہزاروں افراد وہاں موجود تھے، تاہم شرکا کی اصل تعداد کے بارے میں آزادانہ طور پر کوئی حتمی سرکاری گنتی سامنے نہیں آئی،اے پی نے مجموعی طور پر مارچ کے آغاز پر 5,000 سے زائد افراد کی شرکت رپورٹ کی
سہیل آفریدی کا قافلہ اتوار کی رات لکی مروت سے نکل کر کراک ضلع میں حامدان چوک تک پہنچ گیا تھا،پیر کو قافلے کا اگلا مرحلہ کرک سے کوہاٹ کی طرف ہے،منصوبے کے مطابق 5 اکتوبر کو کرک کے مزید کارکن قافلے میں شامل ہوں گے اور قافلہ کوہاٹ کی طرف بڑھے گا
دوسرا اہم قافلہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈیرہ اسماعیل خان سے روانہ ہوا،تاہم یہ قافلہ راستے میں یارک کے مقام پر واپس ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف مڑ گیا،میڈیا کے مطابق اس فیصلے کی وجہ سڑکوں کی بندش، دفعہ 144 اور موجودہ امن و امان کی صورتحال تھی،بعض کارکنوں نے قافلہ واپس لے جانے سے اختلاف بھی کیا، لیکن گنڈاپور نے انہیں صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے واپس جانے پر آمادہ کیا، یہاں بتایاجاتا ہے آمین گنڈا پور اور وزیر اعلی کے پی کے گروپوں کے کارکنوں کے درمیان جھگڑا اور تلخ کلامی بھی ہوئی
یہ واقعہ اس مارچ کی ایک اہم عملی کمزوری بھی سامنے لاتا ہے؟تحریک انصاف نے صوبے بھر سے بڑے پیمانے پر قافلے اکٹھے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، مگر مختلف راستوں پر پہلے سے موجود رکاوٹیں ان قافلوں کو ایک مرکزی جلوس میں تبدیل ہونے سے روک رہی ہیں،یارک میں گنڈاپور کا قافلہ واپس چلا گیا، جبکہ سہیل آفریدی کا قافلہ دوسری سمت کرک پہنچ چکا ہے،اس وقت دونوں کو ایک ہی مقام پر پہنچنے والا ایک مسلسل مارچ سمجھنا درست نہیں ہوگا
تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے دیگر حصوں سے بھی قافلے نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے،مالاکنڈ ڈویژن سے صوبائی صدر جنید اکبر کی قیادت میں چکدرہ، لوئر دیر سے قافلہ روانہ ہونا ہے،ہزارہ، شانگلہ اور کوہستان کے کارکنوں کے قافلے صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں ہزارہ موٹروے کے راستے سواتی/صوابی کی طرف بڑھنے کے منصوبے میں شامل ہیں،ان قافلوں کے لیے بھی قابل اعتماد آزادانہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، اس لیے سوشل میڈیا پر بتائی جانے والی بڑی تعداد کو حتمی تعداد قرار دینا قبل از وقت ہوگا
تحریک انصاف کا پانچ روزہ منصوبہ بتاتا ہے کہ اصل بڑے اجتماع کا اگلا مرحلہ صوابی میں متوقع ہے،منصوبے کے مطابق لکی مروت سے آنے والا مرکزی قافلہ کرک،کوہاٹ اور پشاور سے ہوتا ہوا آگے بڑھے گا،6 اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی کے کارکن شامل ہوں گے، 7 اکتوبر کو پشاور سے مزید کارکن شامل ہوں گے اور 8 اکتوبر کو چارسدہ اور مہمند کے قافلے شامل ہونے کے بعد پورے خیبر پختونخوا کے کارکنوں کو خیبر آباد کے مقام پر اکٹھا کرنے کا منصوبہ ہے
یعنی اس وقت تحریک انصاف کا مارچ ابھی اسلام آباد کے قریب نہیں پہنچا؟مرکزی قافلہ کرک تک پہنچا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان والا قافلہ یارک سے واپس ہو چکا ہے اور دوسرے اضلاع کے قافلے مختلف راستوں سے مستقبل کے مرکزی اجتماع کی طرف بڑھنے یا جمع ہونے کے مرحلے میں ہیں،تحریک انصاف کی اپنی منصوبہ بندی میں بھی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے صوابی اور خیبر آباد کو بڑے اجتماع کے مراکز بنایا گیا ہے
حکومت نے اس دوران اسلام آباد اور پنجاب کے راستوں پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں،اسلام آباد انتظامیہ نے 3,000 رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی 5 اکتوبر کے بعد مزید 10 دن، یعنی 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی تھی،رینجرز کے علاوہ سندھ اور پنجاب پولیس کے اضافی دستے بھی دارالحکومت میں تعینات کیے گئے ہیں
حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں سیکڑوں کنٹینرز پہلے ہی حساس مقامات اور داخلی راستوں پر رکھے گئے ہیں،رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ دارالحکومت کو روکنے کے لیے کنٹینرز کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ نے کراچی بندرگاہ تک مال برداری کے نظام کو متاثر کیا، جبکہ ستمبر میں 2,000 سے زیادہ گاڑیوں کو سرکاری طور پر استعمال کے لیے طلب کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں
اسلام آباد میں سکیورٹی کی سطح اس مرتبہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ رکھنے کی اطلاعات ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 38,000 قانون نافذ کرنے والے اہلکار دارالحکومت کی سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں،ان میں پولیس اور انسدادِ ہنگامہ فورس شامل ہے جبکہ نگرانی کے لیے ڈرون، موبائل کمانڈ روم، نیٹ گنز، پینٹ مارکرز اور دیگر جدید آلات تیار رکھے گئے ہیں،یہ تفصیلات حکام اور سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں، حکومت نے ہر عدد کی آزادانہ طور پر مکمل تفصیل جاری نہیں کیں
اسلام آباد کی طرف آنے والے پنجاب کے راستوں پر بھی سکیورٹی بڑھائی گئی ہے، تاہم پنجاب کی طرف سے کسی ایسے قافلے کی اسلام آباد کی جانب روانگی کی اطلاع نہیں جس کا ذکر کیا جائے ، پہلے سے جاری منصوبے کے تحت راولپنڈی ڈویژن میں دسیوں ہزار پولیس اہلکار، متعدد ناکے، کنٹینرز، اینٹی رائٹ فورس اور نگرانی کے آلات رکھے گئے ہیں،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صرف اسلام آباد میں نہیں بلکہ خیبر پختونخوا سے پنجاب میں داخلے اور راولپنڈی کے راستوں پر بھی مارچ کو روکنے کی تیاری کر رہی ہے
خیبر پختونخوا میں بھی کئی اضلاع میں دفعہ 144 نافذ ہے،ڈیرہ اسماعیل خان میں مخصوص راستوں پر 4 سے 6 اکتوبر تک صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک لوگوں اور ٹریفک کی نقل و حرکت محدود کی گئی،ٹانک میں بھی مخصوص راستوں پر پابندیاں لگائی گئیں، جبکہ بالائی اور زیریں جنوبی وزیرستان میں مختلف قسم کی مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کی گئی،ہنگو میں ہنگو، کوہاٹ، تھل اور دیگر راستوں پر بھی پابندیاں نافذ کی گئیں
اب تک دستیاب اطلاعات میں مرکزی قافلے اور پولیس کے درمیان کوئی بڑا براہ راست تصادم یا بڑے پیمانے کی خونریز جھڑپ رپورٹ نہیں ہوئی،تاہم کشیدگی کئی مقامات پر واضح ہے،یارک میں سڑکوں کی بندش کے باعث گنڈاپور کا قافلہ واپس ہوا، جبکہ کارکنوں کے ایک حصے نے واپسی سے اختلاف کیا؟حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش یا قانون شکنی کی صورت میں کارروائی ہوگی
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے،حکومت نے مسلسل کہا ہے کہ تحریک انصاف کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، جبکہ تحریک انصاف کا اصل سیاسی دباؤ اسی وقت پیدا ہوگا جب صوبے کے مختلف قافلے ایک بڑے اجتماع میں تبدیل ہو کر پنجاب کے راستے دارالحکومت کی طرف بڑھیں گے،اسی لیے اگلے تین دن اہم ہیں،کرک کوہاٹ، پشاور، صوابی اور پھر خیبر آباد وہ مقامات ہیں جہاں مارچ کی اصل تعداد اور سیاسی وزن زیادہ واضح ہوسکے گا
موجودہ صورتحال میں مذاکرات کی ناکامی نے سیاسی تنازعہ کو پارلیمنٹ کے کمروں سے نکال کر سڑک پر پہنچا دیا ہے، لیکن دونوں طرف سے بات چیت کا راستہ مکمل طور پر بند بھی نہیں کیا گیا،حکومت دوبارہ مذاکرات کو انسداد دہشت گردی میں صوبائی تعاون سے مشروط کر رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف عمران خان تک رسائی، ان کے علاج اور سیاسی مطالبات پر ضمانت چاہتی ہے،اگر اگلے مرحلے میں کوئی درمیانی راستہ نکلا تو مارچ کی رفتار تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو 8 اکتوبر تک خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں سے قافلوں کے صوابی اور خیبر آباد میں جمع ہونے کا منصوبہ اس بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتا ہے




