بیرونِ ملک امریکیوں کے ووٹنگ فارم میں ٹرمپ انتظامیہ کی آخری وقت میں تبدیلی، ووٹ کے حق پر نئی بحث
ٹرمپ انتظامیہ نے بیرونِ ملک مقیم امریکی شہریوں کے لیے غیر حاضر ووٹنگ سے متعلق اہم سرکاری فارم میں آخری وقت پر تبدیلیاں کی ہیں، جس پر خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں بعض ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کے بارے میں الجھن کا سامنا ہوسکتا ہے
این پی آر کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے اگست کے آخر میں بیرونِ ملک امریکی شہریوں، فوجی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے وفاقی انتخابات میں رجسٹریشن اور ووٹ ڈالنے کے سلسلے میں استعمال ہونے والے 2 اہم فارموں میں تبدیلیاں کیں،محکمہ دفاع ہی بیرونِ ملک امریکی ووٹنگ سے متعلق معاونتی پروگرام چلاتا ہے
یہ تبدیلیاں ریاستوں کی جانب سے بیرونِ ملک ووٹرز کو وسط مدتی انتخابات کے بیلٹ بھیجنے کی 19 ستمبر کی آخری تاریخ سے صرف چند ہفتے پہلے کی گئیں،محکمہ دفاع نے معمول کے مطابق کئی ماہ پر محیط طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے فارم میں تبدیلی کے لیے ہنگامی درخواستیں جمع کرائیں
تبدیلیوں میں ایک اہم اقدام یہ تھا کہ فارم سے وہ خانہ ختم کردیا گیا جس کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم امریکی شہری یہ بتا سکتے تھے کہ انہوں نے ’’کبھی امریکہ میں سکونت اختیار نہیں کی‘‘
این پی آر کے مطابق اس خانے کے خاتمے کے بعد ایسے بیرونِ ملک امریکی شہریوں کے لیے، جن کا فعال فوجی تعلق نہیں، فارم پر صرف 2 انتخاب باقی رہ گئے ہیں اور دونوں صورتوں میں انہیں حلفیہ اعلان کرنا ہوگا
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ری پبلکن پارٹی سے وابستہ بعض حلقے بیرونِ ملک رہنے والے امریکی شہریوں کے ووٹ کے حق، خصوصاً ان افراد کے بارے میں جو کبھی امریکہ میں مقیم نہیں رہے، پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
ناقدین کا کہنا ہے کہ آخری وقت میں وفاقی ووٹنگ فارم تبدیل کرنے سے بیرونِ ملک مقیم اہل امریکی شہریوں کے لیے ووٹ ڈالنے کا عمل مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے، جبکہ اس اقدام نے انتخابات کے انتظام اور بیرونِ ملک امریکیوں کے ووٹنگ حقوق کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے




