امریکی شرح سود میں اضافہ پاکستان کے لیے مہنگا، بیرونی قرض اور سرمایہ کاری دونوں دباؤ میں
امریکا میں شرح سود بلند رہنے سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے عالمی مالیاتی ماحول مزید مشکل ہوگیا ہے امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی شرح منافع ستمبر کے آخر میں 5 فیصد سے تجاوز کرتے ہوئے 29 ستمبر کو 5.29 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2007 کے بعد بلند ترین سطح تھی۔ اس کا براہ راست اثر یہ ہے کہ پاکستان کے لیے ڈالر میں نیا قرض لینا زیادہ مہنگا ہوجاتا ہے، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور نجکاری کے منصوبوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ستمبر تک بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر ہوگئے تھے، جو 2023 کے شدید معاشی بحران کے بعد ایک اہم بہتری ہے۔ تاہم صرف ذخائر کا بڑھ جانا کافی نہیں اگر ذخائر کا ایک حصہ بیرونی قرض لے کر جمع کیا گیا ہو تو مستقبل میں اس قرض پر سود اور اصل رقم بھی ادا کرنا ہوگی اس کے برعکس برآمدات سے حاصل ہونے والے ڈالر ملکی مالی پوزیشن کو زیادہ مضبوط بناتے ہیں کیونکہ ان کے بدلے نیا قرض پیدا نہیں ہوتا
امریکی شرح سود بلند ہونے سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے عالمی سرمایہ کار جب امریکی حکومت کے بانڈز سے 5 فیصد سے زیادہ منافع حاصل کرسکتے ہوں تو پاکستان جیسے نسبتاً زیادہ خطرے والے ملک میں سرمایہ لگانے کے لیے انہیں اس سے کہیں زیادہ منافع درکار ہوگا اس میں کرنسی، سیاسی، انتظامی اور کاروباری خطرات بھی شامل ہوتے ہیں نتیجتاً پاکستان کے لیے قرض کے ساتھ ساتھ نجی سرمایہ حاصل کرنا بھی مہنگا پڑ سکتا ہے
بلند عالمی شرح سود کا ایک اور اثر پاکستان کے نجکاری پروگرام پر پڑ سکتا ہے جب سرمایہ کی لاگت بڑھتی ہے تو سرمایہ کار کسی سرکاری ادارے یا منصوبے کی مستقبل کی آمدنی کی موجودہ قدر کم شمار کرتے ہیں اس صورتحال میں حکومت کو اپنے اثاثے فروخت کرتے وقت پہلے کے مقابلے میں کم قیمت کی پیشکشوں کا سامنا ہوسکتا ہے
پاکستان کی مالیاتی پالیسی بھی عالمی شرح سود سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتی اگر امریکی شرح سود طویل عرصے تک بلند رہی اور پاکستان میں مہنگائی یا روپے پر دباؤ دوبارہ بڑھا تو اسٹیٹ بینک کے لیے شرح سود کم کرنے کی گنجائش محدود ہوسکتی ہے اس کے نتیجے میں ملکی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے قرض کی لاگت بھی زیادہ رہ سکتی ہے
اصل مسئلہ بیرونی قرض حاصل کرنا نہیں بلکہ اس قرض کے استعمال کا ہے اگر پاکستان ڈالر میں قرض لے کر ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے جو برآمدات بڑھاتے یا درآمدات میں کمی لاتے ہیں تو یہ قرض مستقبل میں ڈالر کمانے یا بچانے میں مدد دے سکتا ہے لیکن اگر بیرونی قرض ایسے منصوبوں یا اخراجات پر استعمال ہو جن سے آمدنی زیادہ تر پاکستانی روپے میں حاصل ہو تو قرض واپس کرنے کے لیے ڈالر پھر برآمدات، ترسیلات زر، غیر ملکی سرمایہ کاری یا نئے قرض سے حاصل کرنا پڑیں گے
پاکستان نے ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے بین الاقوامی بانڈز جاری کرکے عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی ان میں 1.75 ارب ڈالر کے ساڑھے 5 سالہ بانڈز پر 7.5 فیصد اور 1.25 ارب ڈالر کے 10 سالہ بانڈز پر 7.9 فیصد منافع کی شرح طے ہوئی عالمی منڈی سے دوبارہ قرض حاصل کرنا پاکستان کے لیے مالی اعتماد کی بحالی کی علامت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی مالی مسائل مستقل طور پر حل ہوگئے ہیں
پاکستان ماضی میں بھی ایسے چکر سے گزر چکا ہے جس میں زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوتے ہیں، عالمی منڈیوں میں اعتماد بڑھتا ہے، درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے لیکن برآمدات اسی رفتار سے نہیں بڑھتیں نتیجتاً کچھ عرصے بعد دوبارہ ڈالر کی قلت پیدا ہوجاتی ہے اور ملک کو عالمی مالیاتی اداروں، دوست ممالک یا مزید بیرونی قرضوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے عالمی شرح سود بلند ہونے کی صورت میں اس پورے عمل کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے
اس لیے پاکستان کی معاشی بحالی کو صرف زرمبادلہ کے ذخائر، روپے کی قدر یا عالمی منڈی سے قرض لینے کی صلاحیت سے نہیں پرکھا جاسکتا۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان کی ڈالر کمانے کی صلاحیت اس کی بیرونی مالی ذمہ داریوں سے زیادہ تیزی سے بڑھے ہر نئے بیرونی قرض کے ساتھ بنیادی سوال یہی ہونا چاہیے کہ اس قرض کی واپسی کے لیے درکار ڈالر کہاں سے آئیں گے




