برطانیہ کی گرین پارٹی نے صہیونیت کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دے دیا
برطانیہ کی گرین پارٹی نے اپنے سالانہ اجلاس میں صہیونیت کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دینے کے حق میں قرارداد منظور کرلی ہے، جس پر اسرائیلی حکومت اور برطانوی یہودی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے
گرین پارٹی نے صہیونیت کو ’’نسلی قوم پرستانہ سیاسی منصوبہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کی اسلحے کی تجارت ختم کرنے کے مطالبے کو بھی دہرایا ہے،پارٹی نے کہا کہ وہ تاریخی فلسطین کی پوری سرزمین میں ایک واحد جمہوری ریاست کے قیام اور فلسطینیوں اور یہودیوں دونوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتی ہے
پارٹی کی رہنما نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے حقوق کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے
اسرائیلی حکومت نے گرین پارٹی کے فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ اسے ایسے گروہ کے طور پر دیکھتی ہے جو ’’دہشت گردی کو جواز فراہم کرتا ہے‘‘ اور اسرائیل کی تباہی کے لیے پرعزم ہے
برطانیہ کی ایک یہودی تنظیم نے بھی گرین پارٹی کے فیصلے کو یہود مخالف اور نسل پرستانہ قرار دیا ہے
گرین پارٹی کو 2024 کے برطانوی عام انتخابات میں تقریباً 6 فیصد ووٹ ملے تھے،صہیونیت کی تعریف اور اسرائیل میں غیر یہودی شہریوں اور اردگرد کے علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کے حقوق سے متعلق بحث گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست میں ایک متنازعہ موضوع رہی ہے
گرین پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسی کا مقصد خطے میں تمام لوگوں کے لیے مساوی حقوق اور سیاسی خود ارادیت کی حمایت کرنا ہے، جبکہ اس کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ صہیونیت کو نسل پرستی قرار دینا اسرائیل کے وجود اور یہودیوں کے قومی حق خود ارادیت کو مسترد کرنے کے مترادف ہے





