بلوچستان میں اردو ادب کی 175 سالہ تاریخ، صدیوں پر محیط ادبی سفر کا ریکارڈ محفوظ
بلوچستان میں اردو زبان اور ادب کی تاریخ تقریباً 175 سال پر محیط ہے اور اس دوران صوبے نے اردو کے کئی اہم شاعر، ادیب، محقق اور نقاد پیدا کیے بلوچستان میں اردو کے فروغ کی ابتدائی تاریخ 18ویں صدی تک جاتی ہے، جب قلات کے حکمران میر نصیر خان نے احمد شاہ ابدالی کی ہندوستان میں فوجی مہمات میں ان کا ساتھ دیا 1761 کی تیسری جنگ پانی پت میں قلات کی طرف سے تقریباً 25,000 بلوچ، براہوی اور پشتون فوجیوں نے حصہ لیا، جبکہ دہلی اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے اردو بولنے والے فوجی بھی ان کے ساتھ موجود تھے
بلوچستان کے پہلے معروف اردو شاعر ملا حسن براہوی کے خاندان کا تعلق بھی میر نصیر خان کی فوج سے بتایا جاتا ہے بعد میں انہوں نے اسی ماحول میں اردو سیکھی اور 1847 میں اپنا اردو شعری مجموعہ مکمل کیا۔ ان کی وفات 1855 میں ہوئی اس طرح بلوچستان میں اردو شاعری کی باقاعدہ روایت 19ویں صدی میں مضبوط ہونا شروع ہوئی
1826 میں سید احمد شہید اور ان کے ساتھی بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں، جن میں ڈھاڈر، دشت، سریاب اور کوئٹہ شامل ہیں، سے گزرتے ہوئے افغانستان کے شہر قندھار کی طرف گئے اس سفر کے دوران اردو بولنے والے افراد کی موجودگی نے بھی خطے میں اردو کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا
برطانوی دور میں بلوچستان میں اردو کی حیثیت مزید مضبوط ہوئی محققین کے مطابق برطانوی انتظامیہ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا، جس کے بعد صوبے میں اردو زبان اور ادب کی ترقی میں تیزی آئی۔ 19ویں صدی کے بعد بلوچستان سے تعلق رکھنے والے متعدد شعرا نے اردو میں شاعری اور نثر لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا
ملا حسن براہوی کے بعد محمد یوسف خان پوپلزئی، تاج محمد تاجل، خالق گل محمد مگسی اور سید عابد شاہ سمیت متعدد شعرا نے اردو ادب میں اپنا حصہ ڈالا۔ 20ویں اور 21ویں صدی میں بلوچستان سے اردو لکھنے والے شعرا اور ادیبوں کی تعداد مزید بڑھی اور اردو صوبے میں ادبی اظہار کی ایک اہم زبان بن گئی
بلوچستان کے اردو ادب کو محفوظ کرنے میں لورالائی سے تعلق رکھنے والے بزرگ محقق سید خورشید افروز کا کردار بھی نمایاں ہے انہوں نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اردو شعرا اور نثر نگاروں کی زندگی اور ادبی کام کو دستاویزی شکل دینے پر کام کیا ہے
سید خورشید افروز نے مشاہیر بلوچستان کے نام سے اردو ادب پر کتابوں کا ایک سلسلہ مرتب کیا، جس کی اب تک 8 جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ پہلی جلد میں 1830 سے 1930 تک بلوچستان میں اردو شاعری کے 100 سال کا احاطہ کیا گیا۔ دوسری جلد میں 1930 سے 1960 تک کا دور شامل ہے، جبکہ تیسری جلد میں 1957 سے 2016 تک کے اردو ادب کا جائزہ لیا گیا ہے
اس سلسلے کی ایک جلد بلوچستان کی ادبی تنظیموں کے بارے میں ہے، جبکہ دیگر جلدوں میں بلوچستان کی خواتین شعرا اور خواتین نثر نگاروں کے اردو ادبی کام کو محفوظ کیا گیا ہے۔ 2025 میں شائع ہونے والی آٹھویں جلد دراصل پہلی جلد کا نظرثانی شدہ اور وسیع ایڈیشن ہے اس کتاب کے صفحات کی تعداد تقریباً 400 سے بڑھ کر 700 سے زیادہ ہوگئی ہے
بلوچستان کے اردو ادب پر کام کرنے والے ان محققین کی کوششیں اس لیے اہم ہیں کہ کسی خطے کی ادبی تاریخ صرف بڑے معروف ناموں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے شعرا اور ادیب بھی اس کا اہم حصہ ہوتے ہیں مشاہیر بلوچستان کی یہ جلدیں ایسے بہت سے ناموں اور ادبی کاموں کو محفوظ کر رہی ہیں جو دوسری صورت میں وقت کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہوسکتے تھے
سید خورشید افروز 15 مارچ 1943 کو لورالائی، بلوچستان میں پیدا ہوئے انہوں نے بلوچستان کے مختلف کالجوں میں تدریس کی اور شاعر، کالم نگار، محقق اور نقاد کی حیثیت سے کام کیا ان کی اردو شاعری کے 3 مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں وہ اس سلسلے کی نویں جلد پر بھی کام کر رہے ہیں، تاہم ان کی تحریر کے مطابق مناسب سرکاری اور ادارہ جاتی تعاون کی کمی ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے
بلوچستان میں اردو ادب کی یہ تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اردو نے صوبے میں صرف انتظامی یا تعلیمی زبان کی حیثیت سے جگہ نہیں بنائی بلکہ تقریباً 2 صدیوں کے دوران شاعری، تحقیق، تنقید اور نثر کے ذریعے ایک مضبوط ادبی روایت بھی قائم کی ہے




